مسلمان طالبات کی درخواست مسترد، ’حجاب اسلام کا لازمی جزو نہیں،‘ کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ
ہائی کورٹ نے ریاست میں چند مسلمان لڑکیوں کی جانب سے اس حوالے سے دائر کردہ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انفرادی حقوق پر ادارے کی نظم و ضبط کو برتری حاصل ہے۔
کرناٹک کی ریاستی حکومت نے گذشتہ فروری میں سکولوں اور کالجز میں نقاب اور حجاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف ریاست کے کئی اضلاع میں مسلم لڑکیوں نے احتجاج کیا تھا۔ نقاب اور حجاب پہننے والی لڑکیوں کو سکول کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد ریاست میں کشیدگی کی فضا پیدا ہو گئی تھی۔
ہزاروں لڑکیوں کو حجاب پہننے کے سبب سکول اور کالج کے دروازوں سے واپس لوٹا دیا گیا تھا۔
اس معاملے کی گونج پورے ملک میں سُنی گئی اور حجاب پر پابندی کے فیصلے کے خلاف ملک کی کئی ریاستوں میں مظاہرے بھی ہوئے۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک کالج کی انتظامیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ مسلمان خواتین کالج کی حدود میں تو حجاب کر سکتی ہیں لیکن کلاس کے دوران نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
‘صرف حجاب پہننے کی اجازت چاہتی ہیں، جو ہماری شناخت سے جُڑا ہے‘
مسکان خان: ’جب ڈر لگتا ہے تو اللہ کا نام لیتی ہوں، جس سے حوصلہ ملتا ہے‘
کرناٹک میں حجاب پر پابندی: ’جب لوگ اپنی مذہبی رسومات پر عمل کر سکتے ہیں تو ہم پر پابندی کیوں؟‘
اس معاملے پر گذشتہ کئی ماہ سے مسلمان خواتین کا احتجاج جاری تھا۔ مسلمان خواتین کا کہنا تھا کہ انڈیا کا آئین ان کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ جو چاہیں پہن سکتی ہیں۔ دوسری جانب انڈیا مین مسلمان اقلیت میں اس تنازع نے خوف اور غصے کو بھی جنم دیا ہے۔
یہ معاملہ کرناٹک کی ریاست کے دیگر کالجز تک بھی پھیل گیا جہاں اوڈیپی ضلع کے کنڈاپور علاقے کے کالج کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انتظامیہ حجاب کرنے والی خواتین کو داخلے سے روک رہی ہے۔
اس سے پہلے ہونے والا واقعہ بھی اسی ضلع میں پیش آیا تھا۔ کرناٹک کے بارے میں اکثر ماہرین کا ماننا ہے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا گڑھ سمجھا جانے والا یہ علاقہ ہندو قوم پرست پالیسیوں اور ہندوتوا نظریے کی لیبارٹری ہے۔ واضح رہے کہ کرناٹک میں بی جے پی ہی برسرِاقتدار جماعت ہے۔


