خواتین کے عالمی دن پر مردوں کا مارچ

جی ہاں! 8 مارچ کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں گلبہار پولیس اسٹیشن سے لے کر قلعہ بالا حصار چوک تک مرکزی شاہراہ ہر طرح کی ٹریفک کے لئے بند تھی۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھامے مارچ کر رہی تھی۔ 8 مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ملک کے کئی شہروں میں خواتین مارچ تو ہوتا ہے لیکن پھولوں کے شہر پشاور میں خواتین کی اتنی بڑی تعداد سڑکوں پر دیکھ کر لوگ حیران تھے۔ اس سے بھی بڑھ کر حیرت کا مقام تو یہ تھا کہ سینکڑوں مرد بھی مارچ میں شریک نعرے بازی کر رہے تھے۔ گلبہار پولیس اسٹیشن کے سامنے فلائی اوور سے مارچ کا آغاز ہوا تو مخلوط ریلی نے صوبائی اسمبلی کی عمارت کے قریبی چوک پر پہنچ کر جم غفیر کی صورت اختیار کر لی جہاں ایک پک اپ گاڑی پر سٹیج سج گیا اور مقررین پشتو اور اردو زبانوں میں جوش خطابت دکھانے لگے۔
یہ مارچ عورتوں کی کسی تنظیم کی جانب سے نہیں بلکہ صوبائی حکومت کے محکمہ بہبود آبادی کی فیلڈ سٹاف ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کیا جا رہا تھا۔ منتظمین نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ بہبود آبادی کا سٹاف تقریباً 90 فیصد خواتین پر مشتمل ہے جو کہ مختلف کیڈرز میں کام کرتی ہیں۔ محکمہ کے قیام سے تاحال تک مختلف کیڈرز کی ان خواتین کو دیگر محکمہ جات کے مساوی حقوق سے محروم رکھ کر استحصال کیا جا رہا ہے۔
ہر دور حکومت میں ملازمین کی ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے اپنے حقوق کے حصول اور جائز مطالبات کی منظوری کے لیے کوششیں جاری ہیں ہائی کورٹ پشاور نے بھی ملازمین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا ہے کہ دو ماہ کے اندر ملازمین کو سروس سٹرکچر دیا جائے لیکن سال کا عرصہ بیت گیا کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ مارچ میں شریک خواتین اور حضرات مظاہرین نے افسوس اور غصے سے بھرپور لہجے میں بتایا کہ پاکستان تو کیا پوری دنیا میں بہبود آبادی کی طرح شاید ہی ایسا کوئی دوسرا محکمہ ہو گا جس کے ملازمین جس سکیل میں بھرتی کیے جاتے ہیں مدت ملازمت پوری کر کے اسی سکیل سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ایک خاتون نے کہا کہ اپنے اپنے دور اقتدار میں ہمارے حکمران خواتین کو حقوق دینے کے جھوٹے دعوے کرتے نہیں تھکتے لیکن بہبود آبادی خواتین سٹاف کی اکثریت والا سرکاری محکمہ ہے جس کے ملازمین حقوق سے محروم ہیں تو نجی اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو حکومتیں کیا خاک تحفظ فراہم کریں گی؟
فیلڈ سٹاف ایسوسی ایشن کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ دیگر محکمہ جات کے کلاس فور ملازمین کو بھی 5 سکیل دیا جا چکا ہے لیکن ہمارے چوکیدار اور آیا اب بھی 4 سکیل میں ہیں۔ فیملی ویلفیئر اسسٹنٹ مرد اور خواتین 7 سکیل میں بھرتی ہوتے ہیں اور زندگی کا طویل عرصہ خدمات سر انجام دینے کے بعد 7 سکیل سے ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ اس کیڈر کے ملازمین کو 1995 میں ماہانہ 250 روپے فکسڈ ٹی اے کی مد میں دیے جانے لگے جو 27 سال گزرنے کے بعد اب بھی 250 سے بڑھ کر 251 نہیں ہو سکے 1995 اور 2022 کے سفری اخراجات کا موازنہ خود کر لیں!
خواتین کارکنان کو اگلی پوسٹ میں ترقی پانے کے لیے محکمہ کے انسٹیٹیوٹس میں 2 سال کا تربیتی کورس کروایا جاتا تھا جس میں سیٹیں بھی محدود تھیں اور گزشتہ کچھ عرصہ سے میٹرک سائنس کو بنیادی قابلیت مقرر کر کے آرٹس گروپ کے لیے یہ راہ بھی بند کر دی گئی ہے۔ فلاحی مرکز کی انچارج کو 9 اور 12 سکیل دیا جاتا ہے جو محکمہ صحت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کہ مانیٹرنگ کا نظام دیگر محکموں سے بھی سخت ہے پولیو اور کوویڈ ویکسینیش ہو، انسداد ڈینگی آگاہی ہو یا کوئی اور فیلڈ کا کام ہو تو بہبود آبادی کے ملازمین سے اضافی کام لیا جاتا ہے لیکن محکمہ صحت، تعلیم اور دیگر محکمہ جات کے برابر سہولیات و مراعات نہیں دی جا رہیں۔ محکمہ میں فیلڈ سٹاف ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن فیلڈ سٹاف کے مختلف کیڈرز کو ہی سروس سٹرکچر اور اپ گریڈیشن سمیت تمام حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
ملازمین نے مزید کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں گھروں کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے کئی سال سروس کرنے کے باوجود بھی صرف 20، 30 اور 40 ہزار ماہانہ تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں اور علاج معالجے اور بچوں کی تعلیم جیسی بھی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ مظاہرین بالخصوص خواتین کا کہنا تھا کہ ہم باپردہ ہیں اور معزز گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں بہت مجبور ہو کر حکمرانوں اور اداروں کے سوتیلی جیسے رویے کے خلاف سڑکوں پر نکلی ہیں۔
اگر اب بھی صوبائی حکومت نے ہمیں حقوق نہ دیے تو صوبائی اسمبلی کے باہر اپنے بچوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا پر بیٹھ جائیں گی جو تمام مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ مہنگائی کے اس دور میں غریبوں کا جینا تو ویسے بھی محال ہو چکا ہے پھر ہماری اموات بھی صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا میں ہوں گی تب شاید اربوں روپے کی مراعات سمیٹنے والے حکمران طبقہ کو غریبوں کا احساس ہو۔
صبح سے جاری احتجاج کو ختم کروانے کے لیے ضلعی انتظامیہ پشاور کے افسران شام کو مذاکرات کرنے آئے جو ملازمین کی فریادیں سن کر خود رنجیدہ اور شرمسار ہو گئے۔ جنھوں نے مظاہرین کے ایک وفد کی سیکرٹری بہبود آبادی سے ملاقات کروائی اور جائز مطالبات کی منظوری کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی انتظامی افسران کی مداخلت پر بہبود آبادی کے سیکرٹری نے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے کر مطالبات کی منظوری کے لیے عملی اقدامات کی یقین دہانی کروائی تاہم ملازمین نے اعلی حکام اور حکومت کو دو ہفتوں کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے دوبارہ احتجاج کی دھمکی دی ہے۔
ملک کے دیگر علاقوں کی طرح صوبہ خیبر پختون خواہ میں بھی مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اپنے حقوق کے حصول کی جنگ لڑ رہی ہیں تاہم مظاہرین کی گفتگو سے نا امیدی اور مایوسی چھلک رہی تھی جو کسی بھی طبقہ کی بربادی کے مترادف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان سے طبقاتی نظام کا خاتمہ کر کے برابری اور مساوات والا معاشرہ قائم کرنے کے لیے انصاف فراہمی کے نام پر بننے والی حکومت کردار ادا کرے اور ریاست مدینہ کا نظام نافذ کرنے والے حکمران سرکاری محکموں میں برابری قائم کر کے ملازمین میں پھیلی بے چینی اور نا امیدی کا خاتمہ ممکن بنائیں بصورت دیگر 8 مارچ کے علاوہ بھی عورتوں و مردوں کے مارچ معمول کا حصہ بن جائیں گے۔

