نو مور عمران خان
جس تیزی کے ساتھ موسم تبدیل ہو رہا ہے اس سے کہی زیادہ تیزی اور شدت کے ساتھ ملک کا سیاسی درجہ حرارت بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ مارچ میں پہلے کبھی اچانک اتنی گرمی نہیں پڑی جتنی اس بار تیزی سیے گرمی آ گئی ہے۔ اس وقت درجہ حرارت 37 ڈگری تک پہنچ چکا ہے۔ دیسی مہینے اپنے نام میں ہی گرمی سردی سمائے ہوئے ہیں۔ پھگن اور چیتر اکثر اوقات ٹھنڈے گزرتے ہیں۔ پھگن کے آخر میں اور چیتر کے آغاز میں ہمیشہ بہار آتی ہے لیکن اس بار اچانک گرمی کی لہر نے بہار کو بھی ختم کر دیا ہے۔
لاہور والوں کو بہار صرف ایک ہفتہ نظر آئی وہ بھی صرف لاہور کے جیلانی پارک میں پھولوں کی نمائش کے دوران ہلکی سی محسوس ہوئی۔ جبکہ اس وقت ملک کا سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے۔ یہ ایک فلم رپیٹ ہو رہی ہے۔ 2017 میں ایسے ہی اچانک تمام چیزیں نواز شریف کے خلاف ہو گئی تھی۔ اسٹبلشمنٹ، عدلیہ، نیب، ایف آئی اے، میڈیا اور ان کی جماعت کے لوگ تک ان کے خلاف کھڑے کر دیے گئے۔ دن رات میڈیا پر ایک کہرام برپا تھا۔
ہر کوئی پورے جوش و خروش کے ساتھ عمران خان کا استقبال کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ ایک پیج والے تو ایسے تھے جیسے ان کی تخلیق ہی عمران خان کے لئے ہوئی تھی۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا چیزیں آہستہ آہستہ عمران خان کے خلاف ہوتی گئی اور جس شریف فیملی کے بارے میں رائے قائم کردی گئی تھی کہ ”اب نو مور شریف فیملی“ کا دن رات ورد ہونا شروع ہو گیا تھا۔ عمران خان پاکستان کی تاریخ کا خوش قسمت وزیراعظم تھا جس کے ساتھ ایک ہی وقت میں اسٹبلشمنٹ، عدلیہ، نیب، ایف آئی اے اور میڈیا تھے۔
پھر اچانک سب نے باری باری عمران خان کا ساتھ چھوڑنا شروع کر دیا۔ ترازو کے ایک طرف یہ سب ادارے اور حکومت تھی جبکہ ترازو کے دوسرے پلڑے میں اکیلی مہنگائی تھی۔ مہنگائی کا وزن ان سب سے کہی زیادہ ہو چکا ہے۔ جیسے جیسے مہنگائی کا پلڑا بھاری ہوتا گیا عمران خان کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں کھڑی کی گئی فولادی دیواریں ریت کی دیواریں بنتی گئی۔ دوسری طرف نواز شریف ملک کے بڑھتے سیاسی درجہ حرارت کا لندن کے ٹھنڈے موسم میں بیٹھ کر بخوبی جائزہ بھی لے رہے ہیں اور عمران خان اور اپنے ناقدین کی پتلی حالت سے بھی لمحہ با لمحہ معلومات لے رہے ہیں۔
اس وقت ملک کے تمام بڑے غیر جانبدار تجزیہ کار کی ایک ہی رائے ہے کہ عمران خان کا سب سے بڑا دشمن عمران خان ہی ہے۔ جس نے ملکی تاریخ کا مضبوط ترین وزیراعظم ہونے کے باوجود کوئی بڑے فیصلے نہیں کیے۔ ان کی تمام تر توجہ اپنے مخالفین کو دیوار سے لگانے میں مرکوز رہی۔ عمران خان نے جتنی توانائیاں حزب اختلاف پر خرچ کی اگر یہی توانائیاں ملک پر خرچ کی ہوتی تو آج عمران خان پر اس کے اپنے ارکان ہی عدم اعتماد کے لئے تیار نہ ہوتے۔
الٹا عمران خان نے کشمیر فروش، کلبھوشن کا وکیل، کرپٹ ترین حکمران اور نالائق ترین وزیراعظم کے الزامات اپنے سر لے لیے ہیں۔ خیر تحریک انصاف میں جن لوگوں کو زبردستی شامل کیا گیا تھا وہ تحریک انصاف کے تھے بھی نہیں۔ اس وقت عمران خان کے خلاف جنوبی پنجاب کے کچھ لوگ، ترین گروپ، علیم خان گروپ اور کچھ کراچی کے ایم این اے کھل کر میدان میں آ گئے ہیں۔ جبکہ ابھی اتحادی اپوزیشن کی پائپ لائن میں ہیں۔ عدم اعتماد کی تاریخ جیسے جیسے قریب آ رہی ہے حکومت بھی لڑکھڑا رہی ہے۔
عدم اعتماد پر ووٹنگ میں ابھی آٹھ دن باقی ہیں لیکن تحریک انصاف کے دو درجن سے زائد ارکان اپوزیشن کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔ آئندہ ایک دو روز میں مزید ارکان بھی اپوزیشن کے پاس چلے جائیں۔ لیکن یہ جو کچھ ہو رہا ہے وقتی طور پر ملک و قوم کی بھلائی کے لئے ہو رہا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کو سات دہائیوں سے زائد عرصہ ہو چکا ہے لیکن آج تک پاکستان کا کوئی وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔
میں نے سوچا تھا شاید عمران خان یہ اعزاز حاصل کر لیں گے لیکن شاید یہ ان کی بھی قسمت میں نہیں تھا۔ کل تک جو ”نو مور شریف فیملی“ کی باتیں کر رہے تھے آج وہی ”نو مور عمران خان“ کے پلان پر آ گئے ہیں۔ چالیس سال سے ذوالفقار بھٹو کو مائنس کرنے اور تیس سال سے نواز شریف کو مائنس کرنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن دونوں مائنس نہیں ہوئے بلکہ ان کے مدمقابل مائنس ہوتے جا رہے ہیں۔


