عدم اعتماد: جاہ و جلال، دام و درہم اور کتنی دیر
ضمیر جاگ رہے ہیں یا وکٹیں گر رہی ہیں؟ اقتدار کے سر سبز درخت کی شاخوں سے جب پنچھی ہجرت کرنے لگیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ زلزلہ آنے والا ہے۔ ایوان اقتدار لرز رہا ہے۔ شاید اسی لیے جلد بازی میں حکومت کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کرے۔ پہلے بیان دیا جاتا ہے کہ منحرف حکومتی ارکان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پھر فواد چودھری فرماتے ہیں کہ منحرف ارکان واپس آ جائیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا کہ صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ پہلے شیخ رشید سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کی بات کرتے ہیں پھر کہا جاتا ہے کہ گورنر راج نافذ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کا بیانیہ اس قدر تضادات کا حامل ہے کہ عوام سمجھ نہیں پا رہے کہ کس موقف کو حتمی سمجھیں۔
سینٹ کے الیکشن میں جب حکومت کے حمایت یافتہ چیئرمین سنجرانی کو اپوزیشن کے اراکین نے ووٹ ڈالے تھے تو مبینہ طور پر ان کے ضمیر جاگ گئے تھے۔ انہوں نے بغیر کسی لالچ کے ضمیر کی آواز کو سنا تھا۔ آج حکومتی اراکین قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم ضمیر کی آواز پر کپتان کو چھوڑ رہے ہیں تو حکومت کہتی ہے کہ وہ بک گئے ہیں، کروڑوں روپے کے لالچ میں پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ کیا ضمیر کا جاگنا صرف اسی وقت تسلیم کیا جاتا ہے جب وہ حکومت کی حمایت میں ہو۔ جو ممبران کھل کر سامنے آ گئے ہیں وہ چھپنے پر مجبور ہیں۔ آج پارٹی چھوڑنے پر خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے منحرف رکن نور عالم خان نے تو دھمکیوں والے مسیجز شیئر کر دیے ہیں۔ ظاہر ہے یہ دھمکیاں اپوزیشن تو نہیں دے گی۔
سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنوں نے حملہ کر دیا اور گیٹ توڑ کر اندر گھس گئے۔ اسی سندھ ہاؤس میں منحرف اراکین پناہ لیے ہوئے تھے۔ مشتعل کارکنوں کی رہنمائی کا فریضہ پی ٹی آئی ہی کے دو ایم این اے کر رہے تھے۔ حکومتی ممبران کارکنوں کو چارج کر کے توڑ پھوڑ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون کی دھجیاں بکھیرنے کے لیے استعمال کریں تو حیرت کا مقام ہوتا ہے لیکن ہمیں حیرت اس لیے نہیں ہوتی کہ برسوں کی ریاضت سے قوم یوتھ نے یہی تو سیکھا ہے۔ کپتان خود ہر تقریر میں جارحانہ انداز میں یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ اب تو بندوق کی نشست یا شست پر رکھنے کی بات بھی کرنے لگے ہیں۔
2014 کے دھرنے میں سول نافرمانی کے احکامات کے ساتھ ساتھ شہر بند کرنے اور پورا ملک بند کرنے کے اعلانات بھی کیے گئے تھے۔
سندھ ہاؤس پر حملے اور توڑ پھوڑ سے کیا منحرف اراکین ڈر کر واپس آ جائیں گے؟ صاحب اقتدار قوتوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ جنگل کے کسی ایک کونے میں آگ لگائی جائے تو صرف اسی کونے کو نہیں جلاتی بلکہ پھیل کر سارا جنگل بھی جلا سکتی ہے۔ اگر کسی اور پارٹی کے جیالے یا متوالے بھی انصافین کی راہ پر چل پڑے تو پتھر ان کے گھر بھی آئیں گے۔ پولیس نے بھی اس موقع پر ہنگامہ آرائی روکنے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی۔ تھوڑی دیر کے لیے پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور توڑ پھوڑ کرنے والے کارکنوں کو گرفتار ضرور کیا گیا مگر فوراً ہی وزیر اعظم کے معاون خصوصی انہیں چھڑا لے گئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بیان بھی داغ دیا کہ اگر ممبران وفاداریاں بدلیں گے تو یہ تو ہو گا۔ ہم احتجاج کرنے والوں کو کیسے روک سکتے ہیں۔
چار برس پہلے جب یہی اراکین وفاداریاں بدل رہے تھے تو اس وقت فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے ایک اور وکٹ گرنے کا مژدہ سنایا جاتا تھا۔ آج موجودہ حکومت کی وکٹ گرتی ہے تو اس پر اتنا غصہ کیوں؟ توڑ پھوڑ، حملے اور دھمکیاں کس لیے؟
حکومت کے ترجمان خواہ کاغذوں اور گوشواروں سے کتنا ہی سمجھانے کی کوشش کریں کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے تو دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو چکا ہے۔ ہوشربا مہنگائی کا ستایا ہوا شخص کیسے مان لے کہ نیا پاکستان اس کی آرزوؤں اور امنگوں کا ترجمان ہے۔ ”چوروں اور ڈاکوؤں“ کی حکومت ختم ہو چکی ہے۔ اب ایماندار حکومت ہے۔ پہلے تو بقول کپتان اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی تھی۔ اب اگر کرپشن بھی نہیں ہے تو عوام کو ریلیف ملنا چاہیے تھا۔
پیٹرول، گھی، آٹا روزہ مرہ کے استعمال کی چیزوں کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔ مہنگائی کا تناسب کیا ہے یہ بتانے کی بھی ضرورت نہیں کہ سب جانتے ہیں۔ ملک کرپشن کے حوالے سے کئی درجے اوپر چلا گیا ہے، قرضہ گزشتہ تمام حکومتوں سے زیادہ ہے۔ سڑکوں کی تعمیر کے بڑے پراجیکٹ بھی نہیں چل رہے، لاکھوں گھر بھی نہیں مل سکے، کروڑوں نوکریاں بھی نہیں ہیں۔ اور حکومت کے پاس قریباً ایک سال ہی بچا ہے۔ اراکین اسمبلی کی بے چینی تو بڑھے گی۔ سیاسی لوگ ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آتے ہیں۔ ان حالات میں حکومتی اراکین ووٹرز کے پاس جائیں تو کس منہ سے جائیں۔ کیا یہ کہیں کہ ملک تو بہت ترقی کر رہا ہے بس نظر نہیں آ رہا، آپ حکومت کی عینک لگا کر دیکھیں۔
چناں چہ ضمیر جاگ رہے ہیں، وکٹیں گر رہی ہیں۔ جاہ و جلال ہمیشہ نہیں رہتا۔ دام و درہم میں کھیلنے والے اگرنا اہل اور ناتجربہ کار ہوں تو اقتدار کی رانی روٹھ جاتی ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک کہہ رہی ہے کہ وقت نہیں رکتا۔ بند مٹھی سے ریت نکلتی جا رہی ہے۔ ہوائیں الوداعی گیت گا رہی ہیں اور پرندے ہجرت کر رہے ہیں۔
جاہ و جلال، دام و درہم اور کتنی دیر
ریگ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر


