ہائبرڈ نظام۔ پراجیکٹ عمران خان


عبدالستار ایدھی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ جنرل حمید گل اور عمران خان نے ان کو بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کا تختہ الٹنے کی پیشکش کی تھی۔ ایدھی کا تعلق سیاست سے کبھی نہیں رہا کیونکہ وہ ایک سماجی کارکن تھے جس نے سیاسی نظریات، مذہبی عقائد، زبان، رنگ و نسل سے بالا تر ہو کر ہمیشہ خود کو سماج کی خدمت کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ پھر ان کو ایک منتخب حکومت گرانے کی پیشکش کیوں کی گئی؟

ہمارے ہاں اشرافیہ کا ایک طبقہ سیاست، جمہوریت اور آئین کو نہ صرف فضول سمجھتا ہے بلکہ ان کے خیال میں یہ سب باتیں نقصان دہ بھی ہیں۔ متبادل بیانیہ کے طور پر کبھی صدارتی نظام، کبھی ٹیکنوکریٹس کی حکومت اور کبھی صالحین کی شوریٰ کی باتیں کی جاتی ہیں۔ جب بھی موقع ملتا ہے ایک ہائبرڈ حکومت بنائی جاتی ہے جو چوں چوں کا مربہ یا بھان متی کا کنبہ ثابت ہوتی ہے۔ پہلی بار ملک میں آ کر باپ کی قبر ڈھونڈنے والا معین قریشی ہو یا حلف کے بعد پاکستان کا قومی شناختی کارڈ بنوانے کی تردد کرنے والا شوکت عزیز ان سب کو یہ سوچ کر وزارت اعظمیٰ کی کرسی پر بٹھایا گیا کہ وہ اپنی قابلیت اور کار کردگی سے بے ایمان اور کرپٹ سیاستدانوں سے بہتر ثابت ہوں گے ۔ مگر ہر بار یہ تجربہ ناکام رہا مگر ہر بار انھیں سمجھ نہ آئی کہ سیاست بھی سماجی سائنس کا طابع عمل ہے جس کے نامیاتی قوانین سے انحراف ممکن نہیں۔

ایسی ہی مہم جوئی کا حالیہ تجربہ ’پراجیکٹ عمران خان‘ بھی بہت تیزی کے ساتھ اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے۔ ایدھی صاحب کے انٹرویو کے تناظر میں یوں لگتا ہے کہ اس پراجیکٹ کا خالق جنرل حمید گل تھا جس پر عمران خان کے ورلڈ جیتنے کے بعد ہی کام شروع ہو چکا تھا۔ کہنے کو حمید گل ایک آدمی کا نام تھا مگر تاریخ کے کئی واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ ایک خاص مائنڈ سیٹ کا نمائندہ تھا جو ملک میں سیاست، جمہوریت اور آئینی ضابطوں کا مخالف رہا ہے۔

جنرل مشرف کے اقتدار پر قبضے اور اس کے بعد قائم کردہ ہائبرڈ سیاسی نظام کی تشکیل کے دوران عمران خان صف اول میں رہے۔ حسب روایت مشرف کے اقتدار کو دوام دینے کے لئے ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا تو عمران خان مشرف کے چیف سپورٹر بھی رہے تھے۔ مگر جب مشرف نے اپنی وردی کے ساتھ جمہوریت کا لبادہ اوڑھنے کے لئے انتخابات کا اہتمام کیا تو وہاں سے ایک ق لیگ نکائی اور عمران خان کو کھڑے لائن لگادیا۔ یہی سے مشرف کا اپنے نظریاتی کنبے سے اختلاف کا دور شروع ہوا۔

گو مشرف نے عمران خان کو ڈمپ کر دیا تھا مگر اشرافیہ کے ذہنوں میں عمران خان موجود تھا جس کو ایک بار پھر تیار کرنے کی بھر پور کوششیں کی گئیں۔ جیسا کہ ہوتا ہے ہر تین سال بعد اکتوبر کے مہینے میں ہونے والی ایک خاص ریٹائرمنٹ پر سیاست کا انداز بدل جاتا ہے جس کے نتیجے میں ملک کے سپہ سالار اور منتظم اعلیٰ میں سے ایک کو جانا پڑتا ہے۔ 2018 ء میں ایک بار پھر آخر الزکر کو جانا پڑا تو عمران خان کے لئے 126 دنوں کے طاہر القادری کے ہمراہ اور علامہ خادم رضوی کے فیض آباد کے دھرنے کے بعد میدان صاف کر دیا گیا تھا۔

انتخابات میں عمران خان کے لئے اکثریت کا بندوبست کر کے بطور وزیر اعظم حلف دلوایا گیا تو اسے ایک نئے دور کے آغاز سے تعبیر کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں سو دنوں کے لئے اپنا منصوبہ پیش کیا جس پر و تعز من تشاء و تذل من تشاء کی منادی بھی کرا دی گئی۔ کہنے والوں نے کہا ”ہاں! یہ وہی دیدہ ور ہے جس کے لیے ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی رہی ہے۔ ‏ہاں! یہ وہی ہے، برس ہا برس یورپ میں رہنے کے باوجود مثل قائداعظم جسے،“ جلوہ دانش فرنگ ”خیرہ نہیں کر سکا، کہ“ خاک مدینہ و نجف ”اس کی آنکھ کا سرمہ ہے۔ ‏تبھی اس کے خطاب کا آغاز“ ایاک نعبد ”سے ہوتا ہے اور اختتام محمد ﷺ پر درود سے“ ۔ چشم ما روشن و دل ما شاد۔ سبحان اللہ۔

سو دن جو جیل کی کال کوٹھڑی میں قید سابق تین بار کے وزیر اعظم نواز شریف اور اس کی بیٹی کے لئے شاید بہت طویل عرصہ رہا ہو مگر اقتدار میں عمران خان کے لئے تین مہینے ہی ثابت ہوئے جو پلک جھکتے ہی بیت گئے۔ ہمیشہ میڈیا اور پریس کے سامنے لہک لہک کر گرجدار آواز میں بولنے والے کپتان عمران خان کو پہلی بار مشکل سوالات کا سامنا تھا۔ اس کو میڈیا برا لگنے لگا وہ صحافی جو ماضی کے حکمرانوں کے سامنے اپنے مشکل سوالوں کی وجہ سے اس کے محبوب تھے ایک دم زہر لگنے لگے۔

عمران خان نے اتحادیوں کی مدد سے وفاق کے علاوہ تین صوبوں میں بھی حکومتیں بنائی تھیں۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت ایک بالکل ہی نو آموز قبائلی پس منظر کے حامل بلوچ سردار کو دی گئی تو خیبر پختونخوا میں سوات کے ایک غیر معروف شخص کا انتخاب کیا گیا۔ بلوچستان میں مک مکا کے نتیجے میں جو حکومت وجود میں آئی تھی وہ بھی بہتر کارکردگی نہ دکھا سکی۔ امیدیں مایوسی میں بدلنا شروع ہوئیں تو تاریخیں آگے بڑھا دی گئیں مگر ملک کے حالات تھے جو قابو میں نہ آ سکے۔

وزیر اعظم عمران خان نے جب دیکھا کہ ان کے کیے وعدوں کی ایفا کے لئے ملکی وسائل اجازت نہیں دیتے ہیں تو انھوں نے میڈیا کی تنقید کا مقابلہ تعمیر کے بجائے جوابی تنقید سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک طرف حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا تو دوسری طرف پروپیگنڈا کے لئے سوشل میڈیا پر حکومتی ترجمانوں کی سرپرستی میں میڈیا ٹرولرز کی ایک فوج تشکیل دی گئی۔ اب جنگ میڈیا پر لڑی گئی جو آگے بڑھ کر مزید تلخی کا باعث بنی۔

سیاست کے لئے لازمی عوامل جیسے شراکت، شمولیت، مصالحت کوشی، صلح جوئی، مشاورت اور مفاہمت سے بے نیاز عمران خان کی پیشہ ورانہ زندگی کا پورا تجربہ کرکٹ کے میدان میں 11 کھلاڑیوں پر من مانی تک محدود تھا۔ عمران خان نے جلد ہی اپنی سست کارکردگی پر یہ محسوس کیا تھا کہ اس کو کرکٹ کی طرح کھل کر کھیلنے نہیں دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ ناقدین کا خیال اس سے برعکس تھا کہ عمران خان کے لئے مخالفین کے ہاتھ پاؤں باندھ کر میدان خالی کر دیا گیا مگر وہ پھر بھی نتائج نہ دے سکے جس کی وجہ سیاسی سوجھ بوجھ کا فقدان اور انتظامی نا اہلی تھی۔

عمران خان کے ماضی کے دوست و اقارب کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذات میں انتہائی انا پرست اور گھمنڈی آدمی ہے جس کو کسی کے آگے جھکنا تو درکنار ہمسری بھی قبول نہیں۔ وہ خود کو سب سے زیادہ عقلمند تو سمجھتے تو ہیں ہی مگر وہ دوسروں کو بیوقوف اور ہیچ بھی سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بہتر مشاورت اور نصیحت سے محروم رہے جو امور ریاست کو بہتر انداز میں چلانے کے لئے انتہائی لازمی ہے۔

اپنی انا پرستی کے حصار میں قید عمران خان نے نہ صرف حزب اختلاف کو دیوار سے لگایا بلکہ جلد ہی میڈیا کو بھی اپنا دشمن بنالیا۔ عدلیہ کو اپنا تابع کرنے کے لئے ججوں کے خلاف اقدامات سے ان کی حکومت مزید کمزور ہو گئی۔ بات یہاں تک رہتی تو بھی شاید بچت ہوجاتی مگر آخر میں ان ہی کے سامنے کھڑے ہو گئے جن کا وہ انتخاب تھے۔ وہ جو اپنے معاملات میں کسی کی نہیں سنتے وہ کیسے اپنے ہاتھ کے بنائے پتھر کے صنم کو خود پر برسنے کی اجازت دیتے، تاریخ نے خود کو ایک بار دہرایا اور پاکستان کی سیاسی عجائب گھر میں رکھے ایک اور منتخب وزیر اعظم کی تصویر پر کراس کا نشان لگ گیا۔ یہاں سے عمران کو بھی دو میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنا ہے صبر کر کے اچھے وقت کا انتظار کرے یا پھر آئین کی کتاب ہاتھ میں اٹھا کر حقیقی جمہوریت کی منزل کی طرف رواں ہو۔

پراجیکٹ عمران خان کسی کے لئے شاید ایک تجربہ ہی ہو مگر اس کی ایک بہت بڑی قیمت چکانی پڑی ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی برادری میں پاکستان سفارتی طور پر تنہائی کا شکار ہوا ہے تو دوسری طرف ایف اے ٹی ایف جیسی پابندیوں سے اس کا معاشی ناطقہ بند کیا جا رہا ہے۔ یورپ اور امریکہ سے تو ہم دور ہوئے تھے مگر چین اور سعودی عرب جیسے ملکوں سے بھی اب وہ روایتی تعلقات نہیں رہے۔ ملک میں مشینری اور درآمدات مہنگی ہونا تو سمجھ میں آ جاتا ہے مگر چینی اور گندم بھی نایاب ہو گئی۔ ترقی کا پہیہ رک چکا ہے جس کی ذمہ دار حکومت کو تو سمجھا جا رہا ہے مگر عوام اور خاص طور پر صوبہ پنجاب کے لوگ اس پراجیکٹ کے خالقوں اور اس حکومت کے پشت بانوں کو بھی موردالزام ٹھہراتے ہیں جس کی وجہ سے ساڑھے تین سال بعد ہی پراجیکٹ عمران کو سمیٹنے کی نوبت آ گئی۔

ہائبرڈ نظام کے سلسلے میں پراجیکٹ عمران خان کو الماری میں رکھ دیا جائے گا مگر کیا اس سے سبق سیکھ کر پھر کسی دوسرے پراجیکٹ کو لانچ کرنے سے گریز بھی کیا جائے گا۔ کیا ایک بار پھر ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھیں گے اور کچھ سالوں بعد ایک اور پراجیکٹ کا تجربہ کریں گے چاہے اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے؟ شاید اب تاریخ کے پاس بھی اس کے لئے وقت نہیں بچا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 256 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan