پی ٹی آئی ارکان منحرف کیوں ہوئے؟

کیا یہ ارکان قومی اسمبلی عمران خان کی مقبولیت کے سبب جیتے؟ یا ان ارکان اسمبلی نے اپنی مقبولیت کے سبب عمران خان کی اقتدار کا راستہ ہموار کیا ؟
پنجاب سے چند مثالیں لے لیتے ہیں
میجر ریٹائرڈ طاھر صادق اٹک سے پی ٹی آئی کے ایم این اے ہیں۔ لیکن یہی طاھر صادق پی ٹی آئی اور دو ہزار اٹھارہ سے پہلے بھی نہ صرف یہ حلقہ بلکہ ڈسٹرکٹ ناظم کا انتخاب بھی جیت چکے تھے جبکہ ان کی بیٹی ایمان طاھر بھی یہاں سے جیت چکی ہیں۔ طاھر صادق کی گجرات کے چودھریوں سے قریبی رشتہ داری بھی ہے
شوکت عزیز کو مشرف دور میں جب وزیراعظم بنایا گیا تو اسے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب کروانے کے لئے یہی حلقہ سب سے محفوظ سمجھا گیا اور یہاں سے شوکت عزیز کو طاھر صادق کے ذریعے جتوایا بھی گیا.
اسی طرح حافظ آباد سے شوکت علی بھٹی تحریک انصاف کے ایم این اے ہیں لیکن یہاں سے اس کے بزرگ (مہدی حسن بھٹی) وغیرہ ماضی میں بھی مختلف جماعتوں کی ٹکٹ پر مسلسل جیت چکے ہیں
افضل ڈھانڈلہ بھکر سے پی ٹی آئی کے ایم این اے ہیں لیکن اس خاندان کی مقامی سیاست میں مقبولیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ انیس سو اٹھاسی میں پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی جیسے طاقتور حریفوں کو ہرا کر آزاد حیثیت میں جیتنے والے ظفر اللہ ڈھانڈلہ اسی افضل ڈھانڈلہ کے قریبی عزیز تھے
جھنگ سے غلام محمد لالی دو ہزار اٹھ اور دو ہزار تیرہ میں پی ٹی آئی اور عمران خان کے بغیر بھی فیصل صالح حیات اور عابدہ حسین جیسے ہیوی ویٹس کو شکست دے کر اسمبلیوں میں پہنچ چکے تھے۔
فیصل آباد سے نواب شیر وسیر راجہ ریاض اور موجودہ پی ٹی آئی ایم این اے چودھری عاصم نذیر کے والد چودھری نذیر پی ٹی آئی اور عمران خان سے پہلے بھی یہاں سے انتخاب جیت چکے تھے
خانیوال سے فخر امام ملتان سے احمد حسن ڈیہر وہاڑی سے طاھر اقبال جھنگ سے صاحبزادہ محبوب سلطان لیہ سے نیاز احمد جھکڑ بھاولپور سے فاروق اعظم ملک قصور سے طالب حسین نکئ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ریاض فتیانہ سرگودھا سے عامر سلطان چیمہ اور ڈیرہ غازی خان اور راجن پور سے خواجہ شیراز محمود سرداد جعفر خان لغاری اور سردار نصر اللہ دریشک وغیرہ وہ لوگ ہیں جن میں سے بعض کے بزرگ پی ٹی آئی تو کیا بلکہ عمران خان کی پیدائش سے بھی پہلے یہ حلقے جیتتے رہے۔
جبکہ ان میں سے اکثر سیاستدان گزشتہ کئی عشروں سے اپنے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں مسلسل ناقابل شکست ٹھہرے۔ جو مقامی سیاست میں ان کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ ان ارکان قومی اسمبلی کی جیت عمران خان کی مقبولیت کا مرہون منت ہے. سراسر غلط ہے بلکہ در اصل عمران خان کی جیت اور اقتدار تک رسائی انہی ارکان قومی اسمبلی کی ذاتی مقبولیت کے سبب ممکن ہوئی جنہوں نے نواز شریف کی مبالغہ آمیز مقبولیت اور پسندیدگی کے باوجود بھی اپنے اپنے حلقے عمران خان اور پی ٹی آئی کے لئے جیت کر دکھائے۔
جس کی وجہ سے عمران خان وزارت عظمی کی کرسی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے.
اب اہم سوال یہ ہے کہ سیاسی میدان کے یہ پرانے کھلاڑی کیونکر اس جماعت اور اس کے لیڈر (عمران خان ) سے قطع تعلق نہ کر لیں جس کی ناکام ترین حکومت اور بد ترین معاشی پالیسیوں نے خوفناک مہنگائی کو جنم دیا۔ جس کی وجہ سے عوامی سطح پر ایک نفرت انگیز فضا اور رد عمل موجود ہے۔
ظاہر ہے کہ یہی سیاستدان ( پی ٹی آئی ایم این ایز ) کل کو اپنے اپنے حلقوں میں خود کو عمران خان سے جوڑے عوام سے ووٹ مانگنے جائیں تو عوام کا ردعمل اور انتخابی نتائج کیا ہوں گے؟
یہی وہ اصل وجوہات ہیں جس کے سبب یہ ارکان قومی اسمبلی عمران خان اور پی ٹی آئی سے نہ صرف فاصلے پر چلے گئے بلکہ دوسری سیاسی جماعتوں (خصوصا مسلم لیگ ن ) کے ساتھ رابطے کرنے لگے۔ تاکہ اگلے الیکشن میں نواز شریف کی مقبولیت اور پذیرائی کا انتخابی فائدہ اٹھا سکیں.
چونکہ پی ٹی آئی کے اکثر ارکان قومی اسمبلی پہلے ہی سے نہ صرف حکومتی پالیسیوں بلکہ وزیراعظم عمران خان کےذاتی رویے سے بھی حد درجہ نالاں تھے لیکن "فون کالز ” کے سبب خاموش تھے
اس لئے جوں ہی فون کالز کا سلسلہ "منقطع ” ہوا اور صورتحال نیوٹرل ہو گئی تو یہ لوگ (پی ٹی آئی ارکان ) بھی کھل کر سامنے آئے اور حالات کے پیش نظر عمران خان اور اس کی جماعت سے منحرف ہو گئے تاکہ اپنے سیاسی مستقبل کو بچا سکیں.
موجودہ منظر نامے پر گہری نظر رکھنے اور حالات کا عمیق مشاہدہ کرنے والے باخبر لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ نئے منظر نامے کی تخلیق خالص سیاسی بنیادوں پر ہو رہی ہے۔ اس میں دھونس دباؤ یا پیسے کا عمل دخل ہرگز نہیں اور نہ ہی میدان میں ماضی کی مانند کوئی بڑے انویسٹرز دکھائی دے رہے ہیں.
گو کہ نئے منظر نامے کے عقب سے "آپس کی ناراضگی ” اور "ایکسٹینشن ” کی گونج بھی برآمد ہوئی لیکن در اصل موجودہ حالات کی اٹھان کے پیچھے نیوٹرل کے جادوئی لفظ سے حکومت سے ناراض اور اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے تحفظات کے شکار پی ٹی آئی کے ان ارکان قومی اسمبلی کی "آزادی” تھی جو انتخابی سیاست میں اچھے ٹریک ریکارڈ کے حامل ہیں.
رہے فیصل جاوید اور شہباز گل جیسے لوگ تو انہیں سیاست اور الیکشن سے کیا لینا دینا؟ وہ وہیں رہیں گے، جہاں تھے اور جائیں بھی تو کہاں؟ کوئی انہیں قبول بھی کر لے تو اس کا فائدہ کیا ہو گا؟

