اس سے تو عمران خان کی حکومت بہتر ہے کیونکہ وہ ان سب سے ایماندار ہے: محمود خان اچکزئی


ملک میں ہر سو تحریک عدم اعتماد زیربحث ہے۔ سوشل میڈیا پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور حزب اختلاف کے حامی صارفین مسلسل اسی بحث میں ایک دوسرے پر لفظوں کی تیر اندازی کر رہے ہیں۔

لیکن اس تمام صورتحال میں ایک اہم بزرگ اور حزب اختلاف جماعتوں کے تحریک پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نائب صدر پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی جو کہ جمہوریت کی بحالی کے لئے کئی سالوں سے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ لیکن وہ عدم اعتماد کی تحریک میں حزب اختلاف کی صف کہ بجائے ان سے مخالف صف میں اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

محمود خان اچکزئی نے بارہا یہ بات پی ڈی ایم کے جلسوں میں تسلسل کے ساتھ دہرائی ہے کہ چہروں کی تبدیلی مسئلوں کا حل نہیں ہے بلکہ نظام کو بدلنا چاہئیے اور ہم اس کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

محمود خان اچکزئی چاہتے ہیں کہ حکومتیں بنانے سے اسٹیبلشمنٹ توبہ کرے۔ اور ان کا موقف ہے کہ تمام اداروں کی آئین میں حدود متعین ہے۔ آئین میں تحریر ہے انتخابات ہوں گے اور عوامی رائے کی روشنی میں پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو گی۔ ملک کے تمام ادارے جو آئین میں متعین ہے وہ پارلیمنٹ کے زیرسایہ ہوں گے۔

لیکن یہاں پیسوں پر لوگوں کو خریدا جاتا ہے، اور انہیں پھر پارلیمنٹ کا ممبر بنایا جاتا ہے۔ اور انہی لوگوں کے ذریعے حکومتیں بنائی جاتی ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ کرپشن ہے اس سے بڑی کرپشن کیا ہے۔ یہاں جو لوگ بکتے ہیں وہ وفادار ہوتے ہیں۔

محمود خان اچکزئی نے 13 نومبر 2021 میں پی ڈی ایم کی کراچی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین اس وقت بچ سکتا ہے کہ پارلیمنٹ داخلہ اور خارجہ سیاست کی ذمہ دار ہو۔ اسی ریلی میں محمود خان اچکزئی نے موجودہ صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد کے تقاضے ہیں میں زیادہ بات نہیں کروں گا لیکن یہاں کچھ ایسے اشارے آرہے ہیں کہ چہروں کے بدلنے سے مسائل حل ہوں گے۔

نہیں بابا! ہمارا مسئلہ عمران خان نہیں۔ ہمارا مسئلہ عمران خان کی حکومت نہیں۔ ہمارا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ ہے جو زر و زور کے زور پر حکومتیں بدلتے ہیں، ۔

اسی طرح دو دسمبر 2021 میں کوئٹہ کے ہاکی گراؤنڈ میں خان شہید کی برسی کے موقع پر محمود خان اچکزئی نے کہا تھا،، کہ میری نواز شریف سے بات ہوئی ہے میاں صاحب کا کہنا تھا کہ مجھے وزیراعظم نہیں بننا ہے۔ لیکن میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور ووٹ کے تقدس کو بحال کرنے کے لئے جدوجہد کر رہا ہوں۔

لیکن آج محمود خان اچکزئی اس جدوجہد میں اکیلے کھڑے نظر آرہے ہیں۔ اکثر پارٹیاں جو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے ووٹ کی عزت اور جمہوریت کی بحالی کے لئے تحریک میں ایک ساتھ تھیں وہ پرانی تنخواہ پر واپس کام کرنے لگیں۔ وہی خرید و فروخت اور اراکین کو توڑنے کا عمل دہرانے لگے۔ اس تمام صورتحال میں محمود خان اچکزئی خاموش ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک صحافی دوست حمید ستوری شیرانی نے اسلام آباد میں محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی اور اس بابت ان سے بات کی تو حمید شیرانی کے بقول محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ  پی ڈی ایم کے موجودہ فیصلوں سے زیادہ نقصان نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کو پہنچا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ شہباز شریف نے نواز شریف کو راضی کیسے کیا۔

حمید شیرانی کے بقول  محمود خان اچکزئی عدم اعتماد کے فیصلے کے خلاف نظر آئے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے۔ اگر اب شہباز شریف کی حکومت بھی بن جائے تو وہ بھی اسٹئبلشمنٹ کی ہی حکومت ہو گی۔ اس طرح ہم نہیں چاہتے تھے ساری جماعتیں اس پر متفق تھیں۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہم نے اس اسمبلی کو جعلی اسمبلی کہا تھا اور ہم نظام کو بدلنا چاہتے تھے۔ ورنہ اس سے تو عمران خان کی حکومت بہتر ہے کیونکہ وہ ان سب سے ایماندار ہے۔

ان سب باتوں کو مدنظر رکھ کر یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پی ڈی ایم اب نہیں رہی۔ اور محمود خان اچکزئی جمہوریت اور آئین کی اصل صورتحال میں بحالی کے لئے اکیلے کھڑے ہیں۔

Facebook Comments HS