درگئی میں عمران خان کی بدحواسی اور شکست کی چاپ
درگئی میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر سے یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد میں ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں یا اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ دھونس، دھمکی اور دباؤ کے علاوہ، آئینی خلاف ورزی اور قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس کے ساتھ کھلواڑ کے ذریعے کسی بھی طریقے سے عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
شاید یہ تقریر بیک وقت اعتراف شکست اور مسلمہ آئینی رولز آف گیم توڑنے کا اعلان ہے۔ یہ طریقہ بجائے خود اخلاقیات کی مبادیات سے اس حد تک متصادم ہے کہ عمران خان وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے کا حق کھو چکے ہیں۔ لیکن اب وہ کسی بھی قیمت پر اسے چھیننے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ اس لحاظ سے درگئی کی تقریر عمران خان کے جرائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ تقریر مسلمہ جمہوری طریقہ کار، ملکی آئین کے تحت مقرر کردہ قواعد و ضوابط اور کسی بھی پارلیمانی نظام میں باہمی احترام کے تمام اصولوں و طریقوں کے برعکس ہے۔
عمران خان بیک وقت دو باتیں کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ انہیں قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور ان کی پارٹی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ اور ان کے متعدد ساتھی یہ اعلان بھی کرچکے ہیں کہ ان کے نمبر پورے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے متعدد ارکان ضمیر فروشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وہ اپوزیشن سے اپنی قیمت لگوا کر قوم کو دھوکا دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی باتوں کا یہ تضاد دراصل ان کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور بدحواسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر تحریک انصاف کے پاس نمبر پورے ہیں تو وزیر اعظم پریشان کیوں ہیں اور ’ضمیر فروخت‘ کرنے والے ارکان کو خوفزدہ کر کے یا دھمکیاں دے کر واپس لانے اور ’معاف‘ کرنے کا اعلان کیوں کر رہے ہیں۔ بلکہ اصول پرستی کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان ارکان کو کبھی بھی معاف نہ کیا جائے اور اپنے ’پورے نمبرز‘ کی بنیاد پر تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنا کر ان لوگوں پر واضح کیا جائے کہ انہوں نے آزمائش کی گھڑی میں اپنے لیڈر کا ساتھ چھوڑ کر کتنی بڑی غلطی کی تھی۔
قرائن یہی بتا رہے ہیں کہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ قومی اسمبلی میں عمران خان پر اعتبار کرنے والے ارکان کی تعداد کم ہو رہی ہے اور اسی کے ساتھ وزیر اعظم کے طیش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ غصہ کے عالم میں ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ کیا کر بیٹھیں۔ اسی لئے عوامی جلسے منعقد کر کے لوگوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کی کرسی چھینی گئی تو وہ پورے نظام کو تہس نہس کر دیں گے۔ خود فریبی کا شکار عمران خان یہ فراموش کر رہے ہیں کہ وہ ملک کو تباہی کی اس انتہا تک لا چکے ہیں کہ اس سے زیادہ خرابی کی صورت پیدا ہونا ممکن نہیں ہے۔ عمران خان کا اختیار اب شاید جلسوں میں تقریروں تک محدود ہو چکا ہے۔ چیف ایگزیکٹو کے طور پر ان کے پاس جو اختیارات موجود ہیں، وہ بوجوہ انہیں استعمال کرنے کے قابل نہیں ہیں یا اس کا حوصلہ نہیں کریں گے۔ جیسے انہوں نے تحریک عدم اعتماد کی تیاریوں اور خبروں کے طویل عرصہ کے دوران اسمبلیاں توڑ کر نیا انتخاب کروانے کا اقدام نہیں کیا تھا۔ حالانکہ میڈیا میں ان کے چہیتے بار بار یہ خبر سامنے لاتے رہے تھے کہ ’اگر عمران خان کی حکومت کو چیلنج کیا گیا تو وہ اسمبلیاں توڑ کر عوام سے نیا مینڈیٹ لے لے گا‘۔
حقیقت مگر یہ تھی کہ عمران خان نیا مینڈیٹ لینے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ انہیں یقیناً کسی حد تک ایک جذباتی گروہ کی حمایت ضرور حاصل ہے لیکن یہ گروہ انہیں قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی دلوانے کا اہل نہیں ہے۔ اگر یقین نہ ہو تو عمران خان اپنی اس بیس سالہ سیاسی زندگی پر نگاہ ڈال لیں جس کے دوران وہ اپنی پارٹی کی طرف سے تن تنہا منتخب ہوتے تھے۔ اور یہ نشست بھی انہیں ’کانسولیشن پرائز‘ کے طور پر دی جاتی تھی تاکہ مستقبل میں میدان میں اتارنے کے لئے ایک ہرکارہ تیار رہے۔ 2011 میں اس ہرکارے کو قومی سیاست میں ایک اہم حصہ بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اسی کے نتیجہ میں تحریک انصاف 2013 کے انتخاب میں قومی اسمبلی کی تیس کے لگ بھگ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کامیابی کو انہوں نے پارلیمانی استعداد حاصل کرنے یا رموز حکومت سیکھنے کی بجائے دھرنا دے کر نظام لپیٹنے اور عوامی مینڈیٹ سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ کو ہتک آمیز الفاظ سے پکارنے کے لئے استعمال کیا۔ تاآنکہ 2018 کے انتخاب میں ملکی سیاست کے ایک نئے ہائبرڈ تجربہ کے نتیجہ میں انہیں وزیر اعظم کا منصب سونپ دیا گیا۔
اب یہ کرسی ان کے نیچے سے کھینچی جا رہی ہے۔ بدحواسی کے عالم میں عمران خان جھوٹے الزامات اور کھوکھلی دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔ سادہ سی بات تو یہ ہے کہ ان میں اپنی شکست قبول کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ درپردہ منت سماجت اور جلسہ کے اسٹیج سے دھمکیاں دے کر وہ نوشتہ دیوار تبدیل کر دینا چاہتے ہیں۔ درگئی کا خطاب اس حوالے سے ایک کلاسک کا درجہ رکھتا ہے۔ عمران خان اگر سیاست میں ضمیر نام کی کسی شے کی اہمیت و ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اقتدار تک پہنچنے کے لئے اسٹبلشمنٹ کا ہرکارہ بننے کے لئے تحریک انصاف کے بانی ارکان اور ساتھیوں سے بے وفائی نہ کرتے۔ اور مفاد پرست عناصر اور سیاسی گروہوں کے ساتھ ہتھ جوڑی کر کے جہانگیر ترین کے جہاز میں بھر کر لائے جانے والے دوسری پارٹیوں کے ارکان کو گلے لگا کر اسے اپنی مقبولیت اور کامیابی سے تعبیر نہ کرتے۔ اسی طرح وہ اگست 2014 میں ’امپائر‘ کے اشارے پر طاہر القادری کے ساتھ مل کر ڈی چوک میں جمہوریت کش دھرنا نہ دیتے۔ اب یہ سارے ہتھکنڈے ان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں تو وہ یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے خود جائز سیاسی جدوجہد کا راستہ ترک کر کے اقتدار کی بندر بانٹ کے اس منصوبہ میں حصہ دار بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب وہی ہتھکنڈے شاید بعض دوسرے مہروں کے ذریعے خود ان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں تو عمران خان تلملا اٹھے ہیں۔
بارہا عرض کی گئی کہ ملکی سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی سیاسی خواہشات کا خاتمہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تمام سیاسی قوتیں باہم مل کر یہ طے کر لیں کہ ’ایک پیج کی سیاست‘ کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ملکی آئین کے تحت عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ ہی فیصلے کرنے اور اپنی چنی ہوئی حکومت کے ذریعے انہیں نافذ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ جب بھی اس اصول سے گریز کیا جائے گا غیر منتخب ادارے اور افراد مضبوط ہوں گے اور انہیں جمہوریت کو یرغمال بنانے کا موقع ملے گا۔ عمران خان یہ آسان سا نکتہ سمجھنے سے بدستور انکار کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایک آئینی و جمہوری طریقہ ہے لیکن وہ اسے غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقے سے ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ اس مقصد میں کامیاب ہو بھی جائیں تو یہ نہ حق کی فتح ہوگی اور نہ ہی اس سے جمہوریت مستحکم ہوگی بلکہ ان طاقتوں کو مزید توانائی ملے گی جن کا ملکی سیاست میں کردار تمام مسائل کی جڑ ہے۔
تحریک انصاف کے عاقبت نا اندیش حامی اب انہی افراد و عناصر کی کردار کشی پر اترے ہوئے ہیں جن کے بارے میں جائز بات کہنا بھی قومی مفاد پر حملہ کہا جاتا رہا ہے۔ الزام تراشی کی حکمت عملی نہ تو سیاست دانوں کے خلاف کامیاب ہو سکتی ہے اور نہ ہی اداروں یا ان کے سربراہان پر غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد الزامات عائد کر کے کوئی مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ البتہ تمام سیاسی قوتیں چاہیں تو وہ مل کر کوئی ایسا راستہ ضرور تلاش کر سکتی ہیں جس میں آئین کی بالادستی کا اہتمام ہو اور عدالتوں کو اس جد و جہد میں ساتھ ملانے کی کوشش کی جائے۔ البتہ اگر عمران خان اپنے سوا سب کو چور لٹیرے سمجھیں گے تو خاطر جمع رکھیں، آنے والے کل کے صفحے پر ’عمران خان چور ہے‘ ہی درج ہو گا۔
عمران خان نے آج کی تقریر میں اپنی پارٹی کے منحرف ارکان کے علاوہ میڈیا کو صاف الفاظ میں دھمکیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ارکان ’واپس‘ نہیں آئیں گے، عوام انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ایسے ارکان کو عوام کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا ہو گا۔ حتی کہ وہ ایسی مشکل میں گرفتار ہوجائیں گے کہ لوگ ان کے خاندان کے ساتھ رشتے کرنے سے انکار کرنے لگیں گے۔ میڈیا کو ’سچ رپورٹ‘ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ ’ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ برائی کے خلاف اور نیکی و بھلائی کے حق میں لوگوں کو آگاہ کریں۔ عوام فیصلہ کریں گے کہ میڈیا کے کون سے ادارے حق کے ساتھ ہیں اور کون برائی کے ساتھ کھڑا ہے‘ ۔ اس فقرہ کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ جو میڈیا ہاؤس یا صحافی عمران خان کی زبان بولنے سے انکار کرے، وہ برائی کا نمائندہ ہے اور اس کے ساتھ ’انصاف‘ ملک کا قانون نہیں بلکہ عمران خان کے ’عوام‘ کریں گے۔
مایوسی اور شکست خوردگی کی اس سے بری مثال پاکستان کی ناقص سیاسی تاریخ میں بھی کم کم ہی تلاش کی جا سکتی ہے۔ عمران خان جس عوامی غیظ و غضب کا ڈراوا دے رہے ہیں، اس کا ایک مظاہرہ گزشتہ روز اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں کیا جا چکا ہے۔ ریکارڈ کی درستی کے لئے یہ کہنا ضروری ہے کہ اسے عوامی دباؤ، یا ضمیر کی آواز نہیں بلکہ تشدد کا راستہ اور جمہوریت پامال کرنے کا طریقہ کہا جائے گا۔ عمران خان ضرور تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنا کر حکومت میں اپنی مدت پوری کریں لیکن اس کے لئے تشدد کی دھمکیاں دے کر وہ خود اپنی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ اسپیکر اسد قیصر کو خلاف آئین طریقہ اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے وہ باوقار طریقے سے قومی اسمبلی جائیں اور اگر ارکان کی اکثریت ان کے خلاف ووٹ دے تو اسے عوام کا فیصلہ سمجھ کر اقتدار نئے قائد ایوان کے سپرد کر دیں۔ اس سے برعکس کوئی بھی طریقہ راست گوئی، دیانت داری، اصول پرستی اور اخلاقیات کے اس خود ساختہ بت کو پاش پاش کردے گا جس کی بازگشت عمران خان کی شکست خوردہ تقریروں میں فزوں تر ہے۔


