پنجابی ثقافت اور ہماری بیگانگی

پنجاب جو کہ 36 اضلاع پر مشتمل رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا ایک بڑا اور اہم صوبہ ہے۔ پنجاب جسے پانچ دریاؤں کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے۔ ملکی آبادی کے اعداد و شمار کے مطابق 56 فیصد آبادی پنجاب پر انحصار ہے۔ پنجابی ثقافت تاریخ میں سب سے قدیم ترین ثقافتوں میں سے ایک ہے۔ جو کہ قدیم دور سے لے کر جدید دور تک تک محیط ہے۔ ثقافت کا دائرہ کار، تاریخ اور اس کی کثافت بہت وسیع ہے۔ پنجابی ثقافت کے کچھ اہم پہلووں میں پنجابی کھانے، فلسفہ، شاعری، فنکاری، موسیقی، کھیل، ۔ فن تعمیر، روایات اور اقدار شامل ہیں۔
پچھلے کچھ سالوں سے میں دوسرے صوبوں کو ان کے ثقافتی دن مناتے دیکھ رہی تھی۔ لیکن کبھی پنجابی ثقافت کو اس طرح مناتے نہیں دیکھا۔ ہر سال بس لاہور جیلانی پارک میں سجا میلہ دیکھ کر پتا چل جاتا تھا کہ آمد جشن بہاراں ہے۔ اس سال 14 مارچ 2022 کو حکومتی سطح پر بھی پنجابی ثقافت کا دن منانے کے حوالے سے اہم اقدامات کیے گئے۔ پنجاب بھر کے تمام اضلاع اور سرکاری اداروں کو باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھیجا گیا اور تلقین کی گئی کہ اس دن کو پورے جوش و جذبے سے منایا جائے۔ وزیر اعلی پنجاب سے لے کر ، پنجاب پولیس اور تمام تعلیمی اداروں میں یہ دن پوری روایات کے ساتھ منایا گیا۔ اور اسے میڈیا پر بھی کافی پذیرائی ملی۔
اتفاقا ایک سرکاری اسکول کو بھیجا گیا نوٹیفیکیشن میری نظر سے گزرا۔ جس کا عنوان ”تفصیل تقریبات/ سر گرمیاں ثقافتی دن“ تھا۔ اساتذہ کو تلقین کی گئی کے وہ اسمبلی میں پنجابی زبان میں اس دن کی اہمیت کے حوالے سے تقاریر کریں گے۔ اساتذہ اور طلباء و طالبات پنجابی روایتی لباس پہن کر آئیں گے۔ جس میں شلوار قمیض، کرتا پاجامہ، کرتا دھوتی، کھسہ اور پگڑی شامل ہیں۔ اساتذہ بچوں کو پرانے وقتوں کی طرح درخت کی چھاؤں میں پڑھائیں گے۔ لوک گیت گائے جائیں گے، دیسی کھانوں کے سٹال، ڈھول کے ساتھ لڈی، بھنگڑا، سمی اور گدا بھی ڈالا جائے۔ چمٹے کے ساتھ جگنی بھی سنائی جائے گی۔ کھیلوں میں بالترتیب ٹائر ریس، شٹاپو، کینال ٹپ، کو کلا چھپاکی، بندر کلہ، کبڈی وغیرہ سر فہرست تھے۔
یہ سب میرے لئے بہت خوبصورت تھا اور میرے بچپن کی یادیں بھی تازہ کر دی تھیں۔ جبکہ دوسری طرف مجھے اس بات پر افسوس بھی ہو رہا تھا کہ اس فہرست میں درج جو سر گرمیاں عمل کروانے کے لئے تلقین کی گئی تھی انہیں ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بدتمیزی کا نام دے کر اپنے بچوں کو کرنے سے روکتے ہیں۔ ہمارے اسکولوں میں بچوں کو پنجابی زبان بولنے پر سزا یا جرمانے کا رواج ہے۔ پنجابی فیمیلیز گھروں میں پنجابی میں بات چیت کرتے ہیں لیکن ہم مہمانوں کے سامنے اپنے بچوں کو پنجابی میں بات کرنے سے بری طرح ڈانٹ دیتے ہیں اور اس طرح زیادہ تر بچے اپنے خیالات کا اظہار تک نہیں کر پاتے۔
اگر ہم نوجوان بھی غلطی سے کسی پبلک جگہ پر اپنے دوستوں یا گھر والوں کے ساتھ پنجابی میں بات کر لیں تو پاس کھڑے لوگ اس طرح ری ایکٹ کرتے ہیں کہ ہم دائرہ تمیز سے باہر ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اردو کو اپنی مادری زبان بتاتے ہیں۔ جبکہ پنجابی ہماری مادری زبان ہے۔ مجھے میرے کام کے سلسلے میں سندھی، بلوچی، پٹھان سب صوبوں کے نوجوانوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ وہ سب اپنے تعلیمی اداروں، گھروں، اور پبلک جگہوں میں بہت فخر سے اپنی زبان میں بات چیت کرتے ہیں۔
اس کے برعکس پنجاب کے حالات کافی بدتر ہیں۔ ہم دوسرے صوبوں کی زبان سیکھنے اور بولنے کو بہت اہم مانتے ہیں لیکن اپنی مادری زبان کو شرمندگی کے ساتھ منسوب کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ ماہ پہلے مجھے لاہور کی ایک نمایاں پرائیویٹ یونیورسٹی میں میٹنگ کے لئے جانا ہوا۔ ایک ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ کی طرف سے یہ اعتراض سامنے آیا کہ ہمیں لباس کو لے کر بھی بچوں کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق بنانے چاہیے۔ گاؤں سے آئے طالبعلم کلف لگے شلوار قمیض پہن کر کلاسز میں آ جاتے ہیں۔ جو کہ ان کے نزدیک یونیورسٹی ماحول کے لئے مناسب نہیں ہے۔ لباس جو کہ کسی کا ذاتی پسند اور نا پسند ہے۔ ہمیں اس پر بھی امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے۔ ماضی میں ہمیں ایسے بہت سے واقعات ملے گے جو اس امتیازی سلوک کی وجہ سے طالبعلم ذہنی دباؤ میں رہنے کی وجہ سے اچھی طرح پرفارم نہیں کر پاتا۔
ہم نے پنجابی ثقافت کو اب صرف ان فیسٹیولز کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ کاش کہ اس نوٹیفیکیشن کی طرح ہم اپنی اس ثقافت کو بھی روزمرہ زندگی میں قبول کر پائیں۔ کیوں جے اے وی ساڈی ماں بولی کا حق اے۔

