آئین کا آرٹیکل 63 اے اور منحرف ارکان

اپوزیشن جماعتوں کے رہنما وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد تحریک سامنے لانے کے ساتھ یہ دعوی کرنے لگے تھے کہ اگر حکومت کی اتحادی جماعتیں ان کا ساتھ نہ بھی دیں تب بھی ان کا نمبر گیم پورا ہے کیونکہ ان کو پی ٹی آئی کے بہت سارے منحرف ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
جبکہ حکومتی ترجمان کافی رعونت کے ساتھ نہ صرف ان کی تردید پر مصر رہے بلکہ ان کا الٹا دعوی یہ بھی تھا کہ اپوزیشن کے کئی ممبران حکومت سے رابطے میں ہیں۔
تاہم گزشتہ دنوں جب سندھ ہاؤس میں مقیم پی ٹی آئی کے باغی ارکان کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات آئیں تو حکومتی ترجمانوں کا رویہ اور بیانیہ تبدیل ہو گیا ہے۔
اب ایک طرف حکومت نے ان باغی ارکان کو راضی کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے تو دوسری طرف اس کو ڈرانے دھمکانے کی روش بھی اختیار کی ہے
ان ارکان پر دباؤ ڈالنے کے لیے آئین کی دفعہ 63 اے کے حوالے سے ایک ایسا ریفرنس لائے جانے کی بات کی جا رہی جس کے ذریعے ( بقول حکومتی ترجمانوں کے ) ان ارکان کو اپنی اس بغاوت یا انحراف کے باعث نہ صرف ووٹنگ سے پہلے نااہل قرار دیا جائے گا بلکہ ان کہ یہ نااہلی تاحیات بھی ہو گی۔
اب اس قسم کی ریفرنس لانے کا مقصد اپنے باغی ارکان کو دباؤ میں ڈالنے کا ایک سیاسی حربہ ہے
یا واقعی اس قسم کا ریفرنس نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے مستند رائے تو آئین اور قانون کے ماہرین کی ہو سکتی ہے
تاہم آئین کے اس متعلقہ دفعہ 63 اے کے مطالعہ کی روشنی میں عام قاری بھی اپنی فہم کے مطابق ایک رائے اور تاثر قائم کر سکتا ہے۔
یہاں ایک عام یا طالب علمانہ نکتہ نظر سے اس حوالے سے مختصر بات کی جاتی ہے
آئین کا آرٹیکل 63 اے (انحراف کی بنا نااہلیت) کہتا ہے۔ کہ
” اگر ایک ایوان میں کسی واحد سیاسی پارٹی پر مشتمل پارلیمانی جماعت کا، ایک رکن
اے ) اپنی سیاسی جماعت کی رکنیت سے استعفی دے دیتا ہے یا کسی دیگر پارلیمانی پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے (بی ) اس پارلیمانی پارٹی جس سے وہ تعلق رکھتا ہے کہ جانب سے جاری کردہ کسی ہدایت کے برعکس ایوان میں حسب ذیل سے متعلق ووٹ دیے یا ووٹ دینے سے اجتناب کرے
1۔ وزیر اعظم یا وزیر اعلی کا انتخاب، یا
2 اعتماد یا عدم اعتماد کے ووٹ، یا
3۔ کسی مالی بل یا دستوری ( ترمیمی) بل
تو اسے جماعت کے سربراہ کی جانب سے تحریری طور پر سیاسی جماعت سے انحراف کرنے کو ”اعلان“ کر سکے گا اور جماعت کا سربراہ مذکورہ ”اعلان“ کی ایک نقل افسر صدارت کنندہ اور چیف الیکشن کمشنر کو ارسال کرے گا اور اسی طرح سے اس کی ایک نقل متعلقہ رکن کو بھی ارسال کرے گا۔ مگر
شرط یہ ہے کہ مذکورہ ”اعلان“ کو وضع کرنے سے قبل جماعت کا سربراہ ایسے رکن کو اظہار وجوہ کا ایک موقع فراہم کرے گا کہ کیوں نہ اس کے خلاف مذکورہ ”اعلان“ کو وضع کیا جائے ”
اگلی شقوں 3، 4 اور 5 میں بعد کی کارروائی اور طریق کار کا ذکر کیا گیا ہے
دفعہ کا شق نمبر 3 میں بتایا گیا ہے کہ پارٹی سربراہ کی طرف سے ”اعلان“ وصول کرنے پر اسمبلی اسپیکر یا ( سینٹ کی صورت میں چیئرمین) دو دن کے اندر اندر اسے چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گا۔ جو اس ( اعلان ) کو الیکشن کمیشن کے سامنے فیصلے کے لیے رکھے گا۔ کمیشن کو اس وصولی کے تیس دن کے اندر اس کی توثیق یا عدم توثیق کی اطلاع دینی ہوگی
شق 4 میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا ”اعلان“ کی توثیق کرنے کی صورت میں شق نمبر ( 1 ) میں محولہ رکن ایوان کا رکن ہونے سے محروم ہو جائے گا اور اس کی نشست خالی ہو جائے گی۔
دفعہ کی شق 5 میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے خلاف متعلقہ رکن تیس ( 30 ) دن کے اندر سپریم کورٹ سے اپیل کر سکے گا۔ جو اپیل کے دائر کیے جانے کی تاریخ سے 90 دن کے اندر اندر معاملے کا فیصلہ کرے گا۔
مذکورہ دفعہ کے تحت کسی رکن اسمبلی کے خلاف اقدام تین صورتوں میں اٹھایا جا سکے گا جب ( ¡ ) وہ اپنی جماعت کی رکنیت سے تحریری استعفی دیتا ہے یا۔
(¡¡ ) کسی دوسری پارلیمانی میں شمولیت کا اعلان کرتا ہے یا (¡¡¡) ”ایوان“ میں اپنی پارٹی۔ ہدایات کے برعکس ووٹ دیتا ہے۔
یہاں اس تیسری صورت کے حوالے سے لفظ ”ایوان“ خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ کسی رکن کا صرف ایوان میں برعکس ووٹ دینے پر کارروائی سے متعلق ہے
جس کا عمومی مطلب تو ظاہرا یہی بنتا ہے کہ ایوان سے باہر کسی رکن کے کسی قول و فعل، سرگرمی یا خلاف ورزی وغیرہ پر اس کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا ہے۔
دوسرا یہ کہ محولہ رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی اور اقدام دیے گئے طریقہ کار کے مطابق کرنا ہو گا۔ اور اس پر عمل تب ہو سکتا ہے جب کوئی رکن ”ایوان“ میں پارٹی ہدایت کے برعکس ووٹ دے۔ اس کے بغیر اس کو نااہل قرار دینا غالباً آئین اور قانون کے خلاف تصور ہو گی
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیا ایسے رکن کی نااہلی تاحیات ہوگی؟ تو اس حوالے سے اس دفعہ میں تو اس کا کوئی ذکر نہیں۔
ایسے رکن کے خلاف طریقہ کار کے مطابق کارروائی کے بعد جس اقدام کا ذکر اس دفعہ میں ہوا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ ”وہ ایوان کا رکن سے محروم ہو جائے گا اور اس کی نشست خالی یو جائے گی“
جس سے تو یہ مترشح ہوتا ہے کہ ایسے رکن کی تاحیات نااہلی قانون سازوں کا منشاء نہیں رہا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو صرف دو الفاظ ”مستقل نااہلی“ کا اضافہ کر دیتے۔

