تاج محل : جسے محبت کرنے والے جوڑے اسے ایک خاص انداز سے دیکھتے ہیں


1999 ء میں بھارت کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔

چند سال پہلے میں نے ایک یورپی سیاح کا ایک قول پڑھا جس نے کہا تھا کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں، ایک وہ جنھوں نے تاج محل دیکھا ہے اور دوسرے وہ جنھوں نے تاج محل نہیں دیکھا۔ چند لمحوں کے بعد ہم ان لوگوں میں شامل ہونے جا رہے تھے جنھوں نے تاج محل دیکھا تھا۔ یقیناً ہم خوش نصیب لوگ تھے جنھیں تاج محل دیکھنے کا موقع مل رہا تھا اور ہماری خوشی دیدنی تھی۔

تاج محل جانے کے لیے ایک بہت بڑے احاطے سے گزر نے کے بعد ہمیں ایک بڑے گیٹ سے بھی گزرنا تھا اور جس کے فوراً بعد ہمیں تاج محل کا مرکزی حصہ نظر آنا تھا۔ ہم سب نے آپس میں بات کی کہ جب ہم پہلی مرتبہ تاج محل دیکھیں گے تو اس وقت ہمارے جذبات کیسے ہوں گے؟ سبھی نے کچھ نہ کچھ کہا۔

اس وقت ہمارے پاس ایک بھارتی ہندو لڑکا اور لڑکی بھی کھڑے تھے۔ انھوں نے بھی ہماری بات سن لی۔ ہماری بات سن کر لڑکی بولی کہ تاج محل محبت کی نشانی کے طور پر بنایا گیا ہے اور جو لوگ آپس میں محبت کرتے ہیں ان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ جب یہاں آئیں تو انھیں یہ دعا مانگنی چاہیے کہ ان کی محبت بھی ایک بادشاہ اور ملکہ جیسی ہو جائے۔ لڑکی نے مزید کہا کہ ہم اپنی آنکھیں بند کر کے پہلے والے بڑے دروازے سے گزریں گے اور جب ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم دروازے سے اندر آ گئے ہیں تو پھر ہم آنکھیں کھولیں گے اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیر تک ایک دوسرے کو دیکھتے رہیں گے۔ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ کیا یہ عام بات ہے اور اکثر جوڑے ایسا ہی کرتے ہیں؟ جواب میں لڑکے نے کہا کہ یہ بات اتنی عام تو نہیں ہے مگر اکثر لوگ ایسا ہی کرتے ہیں اور ابھی ہماری شادی نہیں ہوئی، ابھی تو محبت کا ہی دور چل رہا ہے۔

مجھے محسوس ہوا کہ ایسا منظر نہایت ہی دلچسپ اور انوکھا ہو گا۔ اسی وجہ سے میں اپنے دونوں دوستوں سے پیچھے ہی رک گیا تاکہ میں یہ منظر دیکھ سکوں۔ میں نے دیکھا کہ جیسے ہی انھوں نے بڑا دروازہ پار کیا وہ ایک دوسرے کی کی طرف آنکھیں بند کر کے کھڑے ہو گئے اور پھر ایک دم سے انھوں نے اپنی آنکھوں سے ہاتھ اٹھائے اور بڑی دیر سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ جب وہ اس کام سے تھک گئے اور ان کی آنکھوں میں پانی کے قطرے بہنے لگے تو پھر انھوں نے تاج محل کو خوب جی بھر کے دیکھا اور اپنے دل میں محبت کے ارمانوں کو سمویا اور پھر ہماری طرح تاج محل کو دیکھنے میں گم ہو گئے۔

جب لڑکے نے دیکھا کہ میں ان کو دیکھ رہا ہوں تو اس نے مسکرا کر مجھے کہا کہ ہم تاج محل تو نہیں بنا سکیں گے لیکن یہاں سے جاتے ہوئے پتھر کے بنے تاج محل کے ماڈل ضرور لے کر جائیں گے اور اسے اس یاترا کی نشانی کے طور پر سنبھال کر رکھیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ میں سے کون اس ماڈل کو سنبھالے گا کیونکہ ابھی تو آپ کی شادی نہیں ہوئی؟ لڑکے کا جواب لاجواب تھا۔ اس نے کہا شادی سے پہلے میں اور شادی کے بعد یہ۔

اس پر لڑکی نے پیار بھرے انداز میں لڑکے کی طرف گھور کر دیکھا۔
وہ شاید یہ کہہ رہی ہوگی کہ مرد سارے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔

پھر ہم سب تاج محل کے تاج کو دیکھنے چل پڑے۔ جسے دیکھنے اس وقت وہاں پہلے ہی سے ہزاروں لوگ موجود تھے۔ کچھ ہی دیر میں یہ جوڑا بھی اسی بھیڑ میں گم ہو گیا لیکن میری زندگی میں ایک یاد گار واقعہ کا اضافہ ہو گیا جو مجھے اب بھی یاد ہے۔

تاج محل پر پہلی نظر

تاج محل میں داخل ہونے کا ایک ہی بڑا راستہ ہے جس سے سب لوگ داخل ہوتے ہیں، جسے مشرقی دروازہ کہتے ہیں۔ ویسے تو یہ دروازہ تاج محل کے جنوب میں واقع ہے لیکن یہ مشرقی دروازے کے نام سے ہی مشہور ہے۔ آپ جیسے ہی اس دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں تو آپ کو تاج محل کی عمارت دکھائی دیتی ہے، جس کے آگے ایک وسیع علاقہ ہے جو چار باغ کہلاتا ہے۔ چار باغ کے درمیان میں پانی کی ایک گزر گاہ اور ارد گرد چار بڑے خوبصورت باغ ہیں۔ پانی کی گزر گاہ کے دونوں اطراف راستے بنے ہوئے ہیں جن پر چل کر آپ مین بلڈنگ تک جا سکتے ہیں۔ درمیان میں ایک چوراہا بھی ہے جہاں سے آپ دائیں یا بائیں بھی مڑ سکتے ہیں۔

ان باغوں کی ہریالی اور تاج محل کے دائیں اور بائیں دو سرخ رنگ کی عمارتیں اور بیچ میں ایک سفید پھول، جس کے چاروں کونے چار پتیوں کی طرح باہر کی طرف کھلے نظر آرہے ہوں۔ ایسی صورت حال میں نظر کا ہٹانا ناممکن ہوتا ہے۔ میں بھی مبہوت کھڑا دیکھتا رہا۔ آپ اس منظر کو اگر تصور کی نظر سے دیکھنا چاہیں تو لاہور کے شالامار باغ کو دیکھ سکتے ہیں۔ شالا مار باغ اور تاج محل میں داخل ہونے کے بعد کا منظر ایک ہی جیسا ہے۔ پھر ایک آواز آئی بھائی صاحب راستہ۔ اور میں واپس حقیقت کی دنیا میں آ گیا۔

مجھے دور سے یہ لگا کہ ایک بہت بڑا چبوترہ ہے، جس کے چاروں کونوں پر مینار ہیں اور میناروں کے درمیان ایک چوکور عمارت ہے اور اس کے چاروں کونوں پر چھوٹے چھوٹے گنبد ہیں اور تمام گنبدوں کے درمیان میں ایک بڑا گنبد ہے۔ درمیان والے گنبد کی ٹاپ پر ایک نشانی بنی ہوئی ہے اور اس کے سب سے اوپر ایک چاند بنا ہوا ہے۔ میں کچھ دیر تک تو یہ سمجھتا رہا کہ اس کی شکل تو بالکل ایک پھول جیسی ہے۔ جیسے پھول کے ارد گرد کھلی پتیاں ہوتی ہیں اور وہ بھی باہر کی طرف جھکی ہوئی ہوں۔

مجھے یہ ایسے ہی لگا۔ بعد ازاں یہ تصدیق بھی ہوئی کہ چاروں مینار باہر کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ ایسا اس لیے کیا گیا تھا کہ زلزلے کے صورت میں یہ مینار اس گنبد پر نہ گریں۔ لیکن مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے ڈیزائنر نے ایک پھول بنایا ہو جس کی پتیاں نیچے سے اوپر کو جاتی ہیں اور اوپر جاکر باہر کی طرف جھک جاتی ہیں اور ان کا آپس میں فاصلہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

میں مشرقی گیٹ پر ہی رک گیا اور میرے دونوں ساتھی آگے نکل گئے۔ اس دوران میں نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ تاج محل کے مشرق میں ایک عمارت جبکہ مغربی جانب ایک مسجد واقع ہے۔ تاج محل کے تین اطراف میں مختلف عمارتیں ہیں اور چوتھی طرف دریائے جمنا بہتا ہے۔ لال قلعہ دلی بھی دریائے جمنا کے کنارے ہی واقع ہے۔ اگر آپ نقشہ میں دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ دریا تاج محل کے شمال سے گزرتا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے جیسے اس کا رخ موڑ کر تاج محل کے پاس سے گزارا گیا ہے۔ یہاں پر اس کی شکل باقاعدہ انگریزی کے حرف یو جیسی ہے۔ میرا خیال ہے کہ پہلے تاج محل کی عمارت بنائی گئی بعد میں اس کی خوبصورتی میں اضافہ کے لیے دریا کا راستہ بدلہ گیا۔ یہ میرا خیال ہے ممکن ہے درست نہ ہو۔

گیٹ کے پاس رکنے کے بعد میں آگے چل پڑا اور چار باغ کے علاقہ میں پہنچ گیا۔ میں جیسے ہی تاج محل کے مرکزی حصے کے مزید قریب ہوا تو مجھے تاج محل کی دیواریں اور پتھر نظر آنے لگے۔ مجھے اب یہ عمارت ایک پتھر کی بنی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ ہر طرف مختلف اقسام کے پتھر ہی پتھر تھے۔ کچھ پتھر دیوار کی سجاوٹ میں اضافہ کر رہے تھے اور کچھ فرش کی زینت بنے ہوئے تھے۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ تاج محل نہیں بلکہ مختلف پتھروں کی دیواریں اور فرش ہیں اور یہ سب کچھ خوبصورت پتھروں کا ایک مجموعہ ہے۔ مجھے لگا کہ جیسے میرا تاج محل گم ہو گیا ہے۔ میں واپس پلٹا اور پھر وہیں جا کر کھڑا ہو گیا جہاں سے میں اس علاقے میں داخل ہوا تھا، اور دوبارہ تاج محل کو دیکھنے لگا۔ میری خوشی کی انتہاء نہ رہی جب مجھے میرا تاج محل دوبارہ مل گیا۔

میں دیوار کو ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ میرے ساتھ ایک جرمنی سے آئے ہوئے میاں بیوی بھی بیٹھے تھے جو ریٹائر منٹ کے بعد ہندوستان کی سیاحت پر آئے تھے۔ ہم تینوں خاموش بیٹھے تاج محل کو دیکھ رہے تھے۔ ایک مختصر خاموشی کے بعد آپس میں مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا اور گفتگو شروع ہوئی۔ ہماری گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ وہ عجوبہ ہے جسے جتنا دور سے دیکھیں اتنا ہی خوبصورت اور سندر لگتا ہے۔ قریب سے دیکھیں تو اس کا حسن ماند پڑ جاتا ہے۔ انھوں نے بھی اس بات پر اتفاق کیا اور ہم کافی دیر تک اسی موضوع پر گفتگو کرتے رہے۔ وقت زیادہ ہونے کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ میرے ساتھی مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے اس لیے اب مجھے چلنا چاہیے۔ میں جرمن دوستوں سے رخصت لے کر آگے بڑھ گیا۔

Facebook Comments HS