ایک سادہ سی خاتون کے دو قصے
آج ہم آپ کو ایک ایسی سادہ خاتون کی سادگی کے واقعات سنائیں گے کہ جن پر آپ بالکل یقین نہیں کریں گے لیکن آپ یقین مانیے کہ یہ واقعات بالکل سچے ہیں اور تقسیم ہند کے ایک آدھ سال پہلے یا بعد کے ہیں۔
ہاں تو یہ خاتون بہت ہی سادہ تھیں۔ ان کی شادی جس گھرانے میں ہوئی وہ کھیتی باڑی کرنے کے علاوہ مٹی کے برتن بنانے کا کام بھی کرتے تھے۔ یہ خاتون بھی گھر والوں کا اس کام میں ہاتھ بٹایا کرتی تھیں۔ ایک دن کسی جاننے والی نے مذاقاً اس سے کہا کہ تم جو مٹی کے گھڑے بناتی ہو، وہ گرمیوں میں بہت ٹھنڈا پانی دیتے ہیں لیکن یہ پانی میٹھا نہیں ہوتا۔ اس سادہ خاتون نے اس سے پوچھا کہ اچھا! تم ہی بتاؤ کہ میں ٹھنڈے پانی کو میٹھا بنانے کے لیے کیا کروں۔
اس نے مذاق مذاق میں کہہ دیا کہ ایسا کرو، گھڑے بنانے کے لیے جو مٹی گوندھتی ہو، اس میں مصری کی ڈلیاں بھی ملا دیا کرو تاکہ پانی میٹھا آیا کرے۔ اگلی دفعہ گھڑوں کے لیے مٹی گوندھتے ہوئے اس سادہ دل عورت نے اس میں واقعی مصری کی ڈلیاں ملا دیں۔ جب سب گھر والوں نے بہت سے برتن بنا لیے تو انہیں بھٹی میں پکایا۔ گھر والوں نے دیکھا کہ اس خاتون نے جو گھڑے بنائے تھے، وہ ٹیڑھے میڑھے ہو گئے تھے۔ انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے مٹی تو صحیح طرح سے گوندھی تھی۔ اس نے سادگی میں جواب دیا کہ ہاں! اچھی طرح سے مٹی گوندھی تھی اور اس میں مصری بھی ملائی تھی۔ پھر خاتون نے گھر والوں کو پورا قصہ سنایا۔ سب اس کی سادگی پر خوب ہنسے۔ اور کہا کہ اسی وجہ سے تو برتن ٹیڑھے ہو گئے ہیں۔
دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ایک دن گھر کے مرد کھیتوں میں کام کرنے جا رہے تھے تو انہوں نے اس خاتون سے کہا کہ آج تو ہمارا ثوبت کھانے کو بہت دل چاہ رہا ہے، آج تم وہ بنانا۔ (یہاں یہ بتاتے چلیں کہ ثوبت ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، بھکر، اور تونسہ شریف وغیرہ کے علاقوں کا ایک خاص کھانا ہے۔ اسے پشتو زبان بولنے والے علاقوں میں ”پینڈا“ اور سرائیکی زبان میں ”ثوبت“ جبکہ عربی میں ”ثرید“ کہا جاتا ہے۔ اس میں ہر فرد کے لیے پانچ چھ ٹماٹر و پیاز ڈال کر تڑکا لگایا جاتا ہے اور فی فرد کوئی چھٹانک بھر دیسی گھی ڈال کر سالن بنایا جاتا ہے۔
پھر ایک بڑی پرات میں پتلی چپاتیوں یا دوسرے الفاظ میں رومالی روٹیوں کے ٹکڑے کر کے ڈال کر گوشت کے سالن میں بھگو دیے جاتے ہیں اور سب کے حصے کا گوشت درمیان میں رکھ دیا جاتا ہے، پھر سب گھر والے اسی پرات کے گرد بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ صحافی حامد میر نے مولانا فضل الرحمان سے اپنی ملاقاتوں میں اس کا تذکرہ کئی دفعہ کیا ہے ) ۔ انہوں نے گوشت کے لیے بکری کی سری لا کر دی۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس سری کو مناسب طریقے سے کاٹ کر صاف کر کے اس سے سالن بنائے گی۔
شام کو مرد کھیتوں سے فارغ ہو کر آئے اور آتے ہی کہا کہ بہت بھوک لگ رہی ہے، ثوبت دو۔ اس نے بڑی سی مٹی کی پرات میں روٹیوں کے ٹکڑے ڈال کر اس کے اوپر سالن ڈال دیا اور ان کے سامنے لا کر رکھ دیا لیکن گوشت نہیں تھا۔ اور خود باورچی خانے میں چولہے پر کھڑی مٹی کی بڑی ہانڈی سے کچھ کرنے میں مصروف ہو گئی۔ گھر والے چونکہ بہت بھوکے تھے، اس لیے مزیدار ثوبت سامنے آتے ہی بوٹیوں کا انتظار کیے بغیر فوراً کھانے لگے۔ ساتھ ہی ساتھ تعریف بھی کیے جاتے تھے کہ واہ، کیا ثوبت بنائی ہے۔
کافی سارا کھا چکے اور پھر بھی بوٹیاں نہ آئیں تو انہوں نے دوبارہ پوچھا، بھئی بوٹیاں کہاں ہیں۔ اس خاتون نے جواب دیا کہ لا رہی ہوں، بس یہ نکل نہیں رہی ہیں۔ سب گھر والے اور بھی زیادہ حیران ہوئے اور انہوں نے کہا کہ بوٹیاں بھلا کیوں نہیں نکل رہی ہیں تو خاتون نے معصومیت سے جواب دیا کہ اس کے سینگ ہانڈی میں پھنس گئے ہیں، میں نے کسی طرح پہلے تو پکاتے وقت اندر کر دی تھی لیکن اب نکل نہیں رہی ہے۔ سب گھر والے چونک کر چولہے کی جانب آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ خاتون نے سالم سری بغیر صاف کیے آنکھوں، دانتوں، سینگوں سمیت پکا لی تھی۔ ان میں سے کچھ الٹی کرنے لگے۔ لیکن سب جانتے تھے کہ وہ بے حد سادہ عورت ہے، اس لیے ہنس کر چپ ہو گئے۔ وہ زمانے بھی اچھے تھے نہ تو انہوں نے خاتون کے ساتھ مار کٹائی کی اور نہ زیادہ غصے ہوئے۔ بلکہ بعد میں اس واقعے کا تذکرہ ہنس کر کیا کرتے۔
ثوبت یا پینڈا یا ثرید بنانے کی ترکیب انٹرنیٹ، فیس بک پر موجود ہے۔



