دام ہم رنگ زمیں سے نجات

میں نے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے تشکیل پاکستان سے قبل مسلمانان ہند کو متحدہ قومیت کے جال سے محفوظ رکھنے کے لیے دلائل کا ایک حصار کھینچ دیا تھا۔ اس تاریخ ساز عمل کی حیرت انگیز تفصیلات جناب ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اپنی معرکۃ الآرا تصنیف Ulema in politics (علما سیاست میں ) میں بیان کی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا شمار ایک بلند پایہ محقق، مورخ، ماہر تعلیم اور تحریک پاکستان کے قابل فخر کردار کے طور پر ہوتا ہے۔
انہوں نے دہلی کی مشہور درس گاہ ایس ٹی سٹیفنز کالج سے اعزاز کے ساتھ تاریخ میں ماسٹرز اور کولمبیا یونیورسٹی (نیویارک) سے ڈاکٹریٹ کیا۔ تحریک پاکستان جب آخری مرحلے میں داخل ہو رہی تھی، وہ اس وقت دہلی میں مسلم لیگ سے وابستہ ہو چکے تھے۔ 1946 میں دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی آئے اور مشرقی بنگال کی اسمبلی نے انہیں پاکستانی دستور ساز اسمبلی کا ممبر چنا۔ 1954 تک مختلف وزارتی مناصب پر فائز رہے اور بعد ازاں درس و تدریس کے شعبے میں قائدانہ کردار ادا کرتے رہے۔
ڈاکٹر آئی ایچ قریشی ایام جوانی ہی سے تاریخ میں گہری دلچسپی لیتے رہے۔ انہوں نے پندرہ سال ایس ٹی سٹیفنز کالج اور دہلی یونیورسٹی میں تاریخ پڑھائی۔ پاکستان آئے، تو پنجاب یونیورسٹی میں تاریخ کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ کوئی دس برس کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور تحقیق و تدریس کے نئے معیار قائم کیے۔ ان کی تصنیف Struggle for Pakistan (جدوجہد پاکستان) بہت مقبول ہوئی۔ یہ اس اعتبار سے خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ پہلی بار سیاست میں علما کا کردار بڑی شرح و بسط سے سامنے آیا ہے۔
وہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ہم عصر ہونے کے علاوہ دہلی کی ایک ہی گلی میں رہتے اور آپس میں تبادلۂ خیال کرتے تھے۔ مولانا نے 1931 میں ماہنامہ ترجمان القرآن جاری کیا، تو وہ اس کے مستقل قاری بن گئے۔ ان کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے لکھا ہے کہ سید ابوالاعلیٰ نے کسی اسکول یا کسی مدرسے سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کا ذہن روایتی بندشوں سے آزاد رہا اور انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے اردو نثر نگاری میں بہت کمال پیدا کیا۔ اس کی بنیاد پر وہ اٹھارہ سال کی عمر میں جمعیت علمائے ہند کے ترجمان روزنامہ ’مسلم‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اس کی بندش کے بعد انھوں نے مختلف اساتذہ سے تفسیر، حدیث، فقہ، منطق پڑھی اور فارسی اور عربی کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی دسترس حاصل کر لی تھی۔
1937 تک وہ زور قلم سے جذبوں کو طوفاں آشنا کرنے والے ادیب اور اسلامی اور عصری علوم کے بے مثل نکتہ داں کی حیثیت سے معروف ہو چکے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اسلامیان ہند سخت آزمائش سے دوچار تھے۔ 1937 کے انتخابات میں انڈین کانگرس ہندو اکثریتی صوبوں میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی اور اس کے فسطائی ہتھکنڈوں کے باعث مسلمانوں کی جان، مال اور آبرو خطرے میں پڑ گئی تھی۔ مسجدیں مسمار کی جا رہی تھیں اور فرقہ وارانہ فسادات شدت اختیار کرتے جا رہے تھے۔
دو سال بعد اس کا اقتدار ختم ہوا اور پیرپور رپورٹ نے آٹھوں صوبوں میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی نا انصافیوں اور ستم رانیوں کے واقعات جمع کر کے انڈین کانگرس کی جعلی شہرت اور سیکولرازم کا جنازہ نکال دیا تھا۔ منفی اثرات پر قابو پانے کے لیے جواہر لال نہرو نے مسلم عوام رابطہ مہم شروع کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی بدحواسی میں ان کی عزت نفس پر ایک مہلک وار کیا۔ کسی لاگ لپیٹ کے بغیر بیان دے ڈالا کہ مسلمانوں کا کوئی مذہب ہے نہ کوئی ثقافت۔
ان کا سب سے بڑا مذہب روٹی کا ٹکڑا اور ان کا عظیم کلچر پھٹی ہوئی قمیض ہے۔ دام ہم رنگ زمیں بچھاتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں صرف دو طبقے پائے جاتے ہیں۔ ایک استحصال کرنے والا اور دوسرا جس کا استحصال کیا جاتا ہے، چنانچہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر استحصال کرنے والوں کا مقابلہ کریں اور اپنے مذہب اور اپنی ملت سے دستبردار ہو جائیں۔
اس مہم کو کامیاب کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند کے وہ علما آگے لائے گئے جو کانگرس کے ہاتھ بک چکے تھے۔ ان دنوں مولانا حسین احمد مدنی جو دینی طبقے میں بڑا اثر و رسوخ رکھتے تھے، نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ ملت وطن سے بنتی ہے۔ اس پر شاعر مشرق اقبالؔ نے اپنے اشعار میں ان کی سخت گرفت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اگر اپنا رشتہ حضرت محمد ﷺ سے نہیں جوڑتے، تو پھر ساری کی ساری بولہبی ہے۔ انہوں نے اس کے بعد ایک مقالہ ’متحدہ قومیت اور مسلمان‘ کے عنوان سے تحریر کیا اور قرآنی آیات اور مختلف مثالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اتحاد ایک دینی تقاضا ہے۔
بہار سے ایک مسلم کانگرسی لیڈر ڈاکٹر سید محمود نے یہ تجویز بھی پیش کر ڈالی کہ ہندوستان میں رہنے والے تمام باشندوں کو ہندو کے نام سے پکارا جائے۔ مسلم ثقافت کی اہمیت یکسر ختم کرنے کے لیے لٹریچر کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ پنڈت نہرو نے مسلم عوام سے رابطے کی جو مہم شروع کی تھی، اس کا مقصد مسلمانوں کو اپنی ملت اور قیادت سے کاٹ دینا تھا، چنانچہ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ایک طرف مولانا حسین احمد مدنی کی عربی زبان اور دنیا کے مروجہ نظاموں سے محدود واقفیت کا پردہ چاک کیا اور دوسری طرف کانگرسی قیادت کی منافقت اور جعل سازی پوری طرح بے نقاب کر ڈالی۔
ان کی برتر علمی فضیلت، ان کے ذہن کو جھنجھوڑ دینے والے دلائل، ان کا جچاتلا استدلال اور ان کے عصر حاضر کے سیاسی، آئینی، معاشی اور معاشرتی چیلنجز کے گہرے ادراک نے مسلم دانش وروں کو متحدہ قومیت کے سیلاب میں بہنے سے محفوظ رکھا۔ کانگرسی قیادت کے ایک ایک اقدام پر ان کی کڑیی اور بے لاگ تنقید سے یہ واضح ہوتا گیا کہ اس کے مقاصد مسلمانوں کے لیے سیاسی اور تہذیبی موت کے مترادف ہیں، چنانچہ مسلم خواص و عوام جوق در جوق مسلم لیگ میں شامل ہوتے گئے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی جو ایک عظیم الشاں اسلامی لٹریچر تخلیق کر رہے تھے، اس نے ڈاکٹر آئی ایچ قریشی جیسی بلند مقام شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے اور قلوب و اذہان کی تبدیلی کا عمل آگے چل کر تیز تر ہوتا گیا۔ (جاری ہے )

