دوا ساز کمپنیوں کی مارکیٹنگ
پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے 17 نومبر 2021 کو شعبہ صحت سے منسلک کمپنیوں کی مارکیٹنگ سے متعلق سرگرمیوں کے ضابطہ اخلاق پر مبنی ایک ایکٹ جاری کیا۔ اس ایکٹ کو کئی حلقوں میں سراہا گیا کیوں کہ اس میں واضح طور پر دوا ساز انڈسٹری کی طرف سے ڈاکٹروں اور شعبہ صحت سے منسلک ماہرین کو تحائف، وظائف اور دیگر مراعات فراہم کرنے پر، جس سے ممکنہ کرپشن کا دروازہ کھلنے کا اندیشہ ہوتا ہے، پابندی عائد کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اس ایکٹ میں ان تحقیقاتی پراجیکٹس یا تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی شقیں شامل کی گئی ہیں جن میں دوا ساز انڈسٹری گرانٹ وغیرہ کی صورت میں شامل ہوتی ہے اور مفادات کے ٹکراؤ کا امکان ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ انڈسٹری اور شعبہ صحت کے اشتراک کو شفاف بنانے کے لیے کیش کی صورت میں کسی بھی تبادلے پر پابندی لگائی گئی ہے اور صرف بینک یا چیک ٹرانسفر کی اجازت دی گئی ہے، ساتھ ساتھ تمام اخراجات کے آڈٹ پر بھی زور دیا گیا ہے۔
البتہ اس ایکٹ میں کچھ ایسے مسائل بھی ہیں جو ان اچھائیوں پر پانی پھیر دیتے ہیں اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لیے چور دروازے فراہم کرتے ہیں۔ ’کراچی بائیوایتھیکس گروپ‘ [ 1 ] کے چالیس سے زائد ماہرین صحت ممبران نے اس ماہ اپنی میٹنگ میں اس ایکٹ کے مندرجات کا تجزیہ کیا، 2011 میں اسی گروپ کی جانب سے پیش کیے گئے ایک ضابطہ اخلاق سے اس کا موازنہ کیا اور اس کے نتیجے میں چند عملی تجاویز پیش کیں۔
اس ایکٹ میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ یہ ایک قانون ہے اور قانون کے تقاضوں کے تحت اس کی جوابدہی، شکایات اور رپورٹنگ کا پورا ایک طریقہ کار ہونا چاہیے، اس ایکٹ کا یہ رخ نامکمل ہے، یا کم از کم اسے انتہائی مبہم کہہ سکتے ہیں۔ اس ایکٹ کے نفاذ، عملدرآمد اور شکایات کے بیان کے ضمن میں ”متعلقہ اتھارٹی“ ، ”مقامی مجاز اتھارٹی“ ، ”متعلقہ ڈویژن“ اور ”مروجہ قوانین“ جیسے مہمل الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کی کوئی وضاحت نہیں کہ یہ اتھارٹی، ڈویژن، باڈیز اور قوانین کون سے ہیں اور اس سے کس چینل سے رابطہ کیا جائے گا۔ اسی طرح ایکٹ کے آخر میں اخراجات کے آڈٹ کے لیے ایک فارم بھی فراہم کیا گیا ہے لیکن اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں اس فارم سے کرنا کیا ہے اور کس کے پاس جمع کرانا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ مفادات کے اظہار (disclosure) کا ہے۔ جب بھی کسی ڈاکٹر اور دوا ساز کمپنی کے مفادات میں اشتراک پیدا ہو اور اس کا اثر ڈاکٹر کی میڈیکل پریکٹس یا تحقیقات پر ہونے کا امکان ہو وہاں ان اشتراک مفاد کا پبلک سطح پر علانیہ اظہار اخلاقی طور پر ضروری ہوتا ہے۔ اس ایکٹ میں اس اظہار کا ذکر تو ہے لیکن زیادہ سے زیادہ میڈیکل انسٹیٹیوشن کی انتظامیہ کو یا اپنے سینیئرز کو آگاہ کرنے کی حد تک ہے۔ نہ انڈسٹری پر نہ ہی شعبہ صحت کے ماہرین پر کوئی ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ پبلک سطح پر کوئی اظہار کریں۔ جب تک اشتراک مفاد یا اختلاف مفاد کا اظہار عوامی دسترس میں نہیں ہو گا اس کے ہونے یا نہ ہونے کا عملاً کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
سوشل میڈیا اور ای کامرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں اب دوا ساز کمپنیاں آن لائن مارکیٹنگ کے میدان میں آ گئی ہیں۔ حالیہ ایکٹ اس حوالے سے بالکل خاموش ہے اور مارکیٹنگ کے صرف قدیم ذرائع پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس قانون میں چند اور چھوٹے سقم بھی موجود ہیں البتہ یہ بڑے مسائل زیادہ اہم ہیں۔
ایک تو اس قانون کو سامنے لانے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی اور پھر اس میں ایسے سقم ہیں جو گزشتہ قوانین کی طرح اس کو بھی ایک ناقابل عمل قانون بنا دے گا۔ اگر کوئی قانون حالات کے مطابق نہیں ہے، اس میں عمل درآمد کی صلاحیت نہیں موجود یا وہ اس مسئلے کا احاطہ نہیں کرتا جس کے لیے وہ بنایا گیا ہے تو وہ ناقابل عمل بن کر رہ جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی بھی قسم کی قانون سازی میں اس مسئلے سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز یا ان کی نمائندہ باڈیز سے مشاورت کی جائے اور ایک کڑے نظر ثانی کے پراسیس سے گزار کر کسی قانون کو جاری کیا جائے۔
اگر کوئی نیا قانون نہیں آتا یا اس قانون میں کوئی تبدیلی نہیں بھی کی جاتی تب بھی اس کے نفاذ اور عمل درآمد پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو خاص توجہ دینی ضروری ہے۔ چونکہ یہ ایکٹ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری ہوا ہے، اس کا دائرہ نفاذ فارماسوٹیکل انڈسٹری اور اس سے منسلک افراد تک محدود ہے۔ ڈاکٹروں اور دیگر ماہرین پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں پر یہ ایکٹ نسبتاً خاموش ہے۔ پاکستان میڈیل کونسل پر اب یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ڈاکٹروں پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں پر ایک ضابطہ اخلاق جاری کرے اور صوبائی میڈیل کمیشن کو چاہیے کہ کونسل کی ہدایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس حوالے سے قانون سازی کرے۔
[ 1 ] کراچی بائیوایتھکس گروپ شعبہ صحت کے تعلق رکھنے والے ماہرین کا ایک غیر رسمی مجموعہ ہے جو ہر دو ماہ میں ایک بار ایک اجلاس منعقد کرتا ہے۔ اس اجلاس میں شعبہ صحت سے متعلق مسائل پر گفتگو ہوتی ہے اور مختلف نقطہ ہائے نظر سے اس پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ ہر سال ان اجلاس کی میزبانی کسی ایک میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے پاس ہوتی ہے۔ اس بار یہ ذمہ داری ایس آئی یو ٹی کے سینٹر آف بایو میڈیکل ایتھکس اینڈ کلچر کے پاس ہے۔


