فلسفہِ رواقیت: زندگی میں غیر یقینی حالات سے نمٹنے کا ایک قدیم نسخہ

اماندہ روگری - بی بی سی فیوچر


روافیت پسندی سٹائکس
بہت سارے لوگوں کے لیے دنیا مسلسل اتھل پتھل کا شکار ہے جس سے نمٹنا بعض افراد کے لیے کافی مشکل ہو سکتا ہے، لیکن کیا روافیت (Stoicism) کا فلسفہ ایسے دشوار ادوار کو برداشت کرنے میں کوئی مدد دے سکتا ہے؟

اُس کے لیے یہ ایک انتہائی مشکل زندگی تھی۔ وہ غلامی میں پیدا ہوا تھا، ایک موقع پر اس کے مالک نے اس کی ٹانگ توڑ دی تھی جس کی وجہ سے وہ معذور ہوگیا تھا۔ آخر کار اُسے آزادی مل گئی، اس نے اگلے 25 سال اپنے شوق کو پورا کرنے میں بسر کیے۔ جس کا مقصد صرف یہ نکلا کہ اُس کی تمام کوششوں کو ایک آمر نے غیر قانونی قرار دے دیا۔ وہ بیرون ملک بھاگ گیا، اور باقی زندگی جلاوطنی اور غربت میں بسر کی۔

یہ سوانحی خاکہ اُس یونانی فلسفی ایپِکٹیٹس (Epictetus) کی زندگی کے بارے میں ملتا ہے جو سنہ 55 عیسوی کے آس پاس پیدا ہوا تھا۔ وہ ‘فلسفہِ رواقیت’ (Stoicism) کا نظریہ پیش کرنے والا فلسفی تھا۔ تاہم اُس کی زندگی کے بارے میں مورخین کے اختلافات ہیں۔ ہم یہ بات یقینی طور پر نہیں کر سکتے کہ آیا وہ ایک غلام پیدا ہوا تھا، یا محض ایک نوجوان غلام بن گیا تھا۔ یہ واضح ہے کہ اس کے لیے ایسی زندگی آسان نہ تھی۔ یہ سب کچھ آسان نہ تھا۔ اور نہ ہی اس کی دنیا پرسکون تھی جس کے ذریعے اس کی زندگی کے بارے میں اندازہ لگانا آسان تھا۔ اگر تو وہ آج کے جدید ترکی میں اپنی جائے پیدائش سے ہجرت کر کے سنہ 65 عیسوی کے آس پاس روم آیا تھا، جیسا کہ چھ لوگوں کا خیال ہے، تو اس کا بچپن بہت ہنگامہ خیز گزرا ہوگا۔ ہو سکتا ہے اس نے اُس شہر میں آتشزدگی کے دو بڑے واقعات دیکھے ہوں جس نے شہر کے دو تہائی حصے کو جلایا تھا اور ایک سال تک سیاسی طور پر اس قدر ہنگامہ خیز زندگی گزاری کہ جس میں اس نے چار مختلف شہنشاہوں کے ادوار کو دیکھا، جن میں سے دو قتل ہوئے اور ایک نے خود کو ہلاک کیا۔

اور پھر بھی ایپِکٹیٹس کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کی اسے ضرورت تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ‘یہ واقعات نہیں ہیں جو لوگوں کو پریشان کرتے ہیں، یہ ان واقعات کے بارے میں لوگوں کے فیصلے ہیں (جو انھیں پریشان کرتے ہیں)’۔

یہ خیال فلسفیانہ مکتب کے ستونوں میں سے ایک ہے جسے ‘فلسفہِ رواقیت’ (Stoicism) کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کی بنیاد ایتھنز میں فلسفی زینو نے چوتھی صدی قبل مسیح کی بغاوت، بحران اور تشدد کے دوران رکھی تھی۔ یہ درسگاہوں کی بہت سی تعلیمات میں سے ایک تھا جس سے ہم اب بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں – یہی وجہ ہے کہ آج ہم اس کی بازگشت نفسیات، اپنی مدد آپ کے ادب اور یہاں تک کہ مذہب میں بھی بہت زیادہ سُن رہے ہیں۔

چاہے وہ جنگ ہو یا وبائی بیماری، ہماری صحت ہو یا مالیاتی مسائل، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہماری زندگی کتنی ہی مشکلات محسوس کر رہی ہو، فلسفہِ رواقیت (اسٹوئکس) کے مطابق، ہم پھر بھی ترقی کر سکتے ہیں۔ کیری اینڈرنسن جو لوگوں کو اچھی زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں، وہ لکھتی ہیں کہ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ روافیت (Stoicism) ایک ایسا نظریہ ہے، یا ایک ایسا مکتبہِ فکر تھا جو ‘مشکل وقتوں سے نمٹنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا’ ۔ یہاں کچھ اہم راستے ہیں جو روافیت کے نظریے کو ماننے والے ‘اسٹوئکس’ غیر یقینی ادوار سے نمٹنے کے لیے پیش کر سکتے ہیں:

پہچانیں کہ آپ کیا کنٹرول کر سکتے ہیں (اور کیا نہیں کر سکتے)

جیسا کہ ایپِکٹیٹس نے کہا کہ رواقیت کے نظریے کو ماننے والے کے لیے یہ خود وہ حالات نہیں جو ہنگامہ آرائی کا باعث بنتی ہے۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ آپ ان حالات کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں۔ اور کچھ چیزیں ہمارے قابو سے باہر کے حالات سے لڑنے، یا کسی ایسے نتیجے سے منسلک ہونے سے زیادہ تکلیف کا باعث بنتی ہیں جو ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔

پہلی رکاوٹ – یہ اتنی اہم ہے کہ ایپِکٹیٹس نے اسے ‘زندگی میں ہمارا سب سے اہم کام’ قرار دیا – یہ شناخت کرنا ہے کہ آپ کے قابو سے باہر کیا ہے، اس پہلو کو رواقیت پسند اسٹوئکس ‘بیرونی عوامل’ کہتے ہیں۔ خوش قسمتی سے رواقیت پسندوں نے اسے بہت آسان بنا دیا ہے۔ یہ آپ کے اپنے خیالات، انتخاب اور اعمال کے علاوہ سب کچھ ہے۔ مثال کے طور پر صحت کو لے لیں۔ آپ روزانہ پانچ وقت کھانے اور ورزش (آپ کی پسند) کا انتخاب کر سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کبھی بھی صحت کے مسائل (ایک بیرونی عامل) کا شکار نہیں ہوں گے۔ اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسا ہوتا ہے، تو آپ صرف اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دے رہے ہیں، بلکہ آپ اپنے آپ کو حقیقی مایوسی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

کیونکہ ہمارے لیے اس بارے میں یہ غلطی کرنا بہت آسان ہے کہ ہم کیا کنٹرول کر سکتے ہیں اور کیا نہیں، اس لیے ایپِکٹیٹس نے اس ذہنی عادت کو اپنانے کی سفارش کی کہ ہم ہمہ وقت بیرونی عوامل کی شناخت کرنے کی صلاحیت مضبوط کریں۔

اس نے مشورہ دیا کہ ‘خاص چیزوں کے معاملے میں جو آپ کو خوش کرتی ہیں، یا آپ کو فائدہ دیتی ہیں، یا جن سے آپ وابستہ ہو گئے ہیں، وہ اپنے آپ کو یاد دلائیں۔ وہ کیا چیزیں ہیں؟ تھوڑی قیمت والی چیزوں سے شروعات کریں۔ مثال کے طور پر اگر یہ سیرامک کپ ہے جو آپ کو پسند ہے، تو کہہ دیں کہ ‘مجھے سیرامک کپ کا شوق ہے۔ جب یہ ٹوٹ جائے گا تو آپ اتنے پریشان نہیں ہوں گے۔’ اپنی بیوی یا بچے کو بوسہ دیتے وقت اپنے آپ سے بار بار کہیں کہ ‘میں ایک بشر کو چوم رہا ہوں’۔ پھر اگر وہ آپ سے چھین لیے جائیں تو آپ پریشان نہیں ہوں گے۔’ (مشہور یہ بھی ہے کہ اس نے یہ بھی کہا کہ اپنے بچے کو چومتے وقت آپ کو بتانا چاہیے کہ ‘کل آپ مر سکتے ہیں’ – یہ مشورہ اس کے وقت اور ہمارے وقت میں بہت زیادہ بیماری کے طور پر دیکھا جاتا ہے)۔

ایپِکٹیٹس نے کہا کہ ‘یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے سمندری سفر پر جانا۔ میں اس سفر پر جانے سے پہلے کیا تیاری کر سکتا ہوں؟ کپتان، کشتی، تاریخ، اور کشتی رانی کے لیے بہترین وقت کا انتخاب کریں۔ لیکن پھر ایک طوفان آگیا۔ ٹھیک ہے، اب یہ میرا کام نہیں رہا۔ میں نے وہ سب کچھ کر دیا ہے جو میں کر سکتا تھا۔ اب یہ کسی اور کا مسئلہ ہے – یعنی کپتان کا۔’

چونکہ آپ ان بیرونی چیزوں کو کنٹرول نہیں کر سکتے اس لیے روافیت پسند (اسٹوئکس) کہتے ہیں کہ ان پر پریشان ہونے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بہر حال ان میں سے کوئی بھی ‘لاتعلق’ بیرونی چیز ہماری خوشی کے لیے ضروری نہیں ہے – صرف اتنا اہم ہے کہ ایسے کنٹرول سے باہر حالات کی حقیقت میں بالآخر ہم اپنا رویہ کیسے تشکیل دیتے ہیں۔

آپ ہمیشہ جواب دینے کا طریقہ منتخب کرتے ہیں

یہ وہ طریقہ ہے جو ہمیں رواقیت پسندی کے دوسرے کلیدی اصول پر لاتا ہے۔ اپنے کنٹرول سے باہر کے حالات کو قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ غیر فعال ہوجائیں، کیونکہ آپ ہمیشہ ایک اہم چیز پر قابو رکھتے ہیں اور وہ آپ کی اپنی ذات ہے، آپ خود ہیں۔

اپنی ڈائریوں میں جسے ‘مراقبہ’ کے نام سے جانا جاتا ہے، مشہور رومی شہنشاہ-فلسفی، مارکس اوریلیس نے لکھا کہ ‘اگر آپ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں تو آپ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ آپ سردی میں ہیں یا گرمی میں ہیں، آپ کو نیند آرہی ہے یا آپ اچھی نیند سو رہے ہیں، لوگ آپ کو برا بھلا کہتے ہیں یا اچھا، چاہے آپ مرنے کے قریب ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ وہ عمل جس میں ہم مرتے ہیں وہ بھی زندگی کے اعمال میں سے ایک ہے اور اسی لیے یہاں بھی یہ کافی ہے کہ یہ ‘بہترین اقدام ہے جو آپ کر سکتے ہو’۔

خاص طور پر رواقیت پسندوں سٹوئکس نے ہر چیلنج کا مقابلہ انصاف، ضبط نفس اور عقل کے ساتھ کرنے کی سفارش کی۔ جب کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ فطری انسانی جذبات ہیں جن کے پیدا ہونے کا امکان ہے، لیکن پھر بھی ان کے پاس غصہ یا غم جیسے ‘جذبات’ کے لیے بہت کم برداشت تھی۔ وہ ان کیفیات کو اپنے آپ کو ایسے نتائج سے جوڑنے کا نتیجہ سمجھتے تھے جو آپ کے کنٹرول میں نہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

نجومی، ریاضی دان یا شاعر، عمر خیام کی وجہ شہرت کیا؟

انسانی تہذیب میں آئینے کا کردار

تخت باہی: دو ہزار سال پرانی تہذیب کا امین

سعودی عرب کی پراسرار تہذیب کے راز جاننے کی کوشش

رواقیت پسندی کے ایک اور مشہور حامی، سینیکا نے خاص طور پر رومن سینیٹر سِیسرو کے بارے سخت الفاظ استعمال کیے، جن کے پاس ‘نہ خوشحالی میں سکون تھا اور نہ ہی مصیبت میں صبر’۔ ایک نچلے مقام پر سینیکا نے کہا کہ سیسیرو نے ایک خط لکھا جس میں اس نے اپنے ماضی پر ماتم کیا، حال کے بارے میں چیخیں ماریں، اور مستقبل سے مایوس ہو گئے۔

سینیکا نے نصیحت کی کہ ‘سیسرو نے اپنے آپ کو نیم قیدی کہا، لیکن واقعی اور صحیح معنوں میں عقلمند آدمی کبھی بھی اس حد تک نہیں جائے گا کہ اس طرح کی گھٹیا اصطلاح استعمال نہیں کرے۔ وہ کبھی بھی نیم قیدی نہیں رہے گا، لیکن ہمیشہ اس آزادی سے لطف اندوز ہو گا جو ٹھوس اور مکمل ہو، اس آزادی میں کہ وہ اپنا آقا خود ہوگا اور سب سے بلند ہوگا۔’

ہر چیلنج کو سیکھنے کا موقع اور ایک امتحان کے طور پر دیکھیے

نہ صرف یہ کہ ایک سنگین صورتحال کے دوران پرسکون رہنا ممکن ہے، بلکہ اصل چیلنجز بالکل وہی ہیں کہ ہم کس طرح پرسکون رہنا سیکھتے ہیں، اس قدر کہ ان کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے – ایک ایسا خیال جو جدید دور کی کہاوتوں میں زندہ ہے، یعنی یہ سوچنا کہ ‘جو بھی ہو، یہ آپ کو مار تو نہیں سکتا، آپ کو مضبوط بناتا ہے۔’

سینیکا نے مشورہ دیا کہ یہ دیوتاؤں کے احسان کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ آخر کار دیوتا چاہتے ہیں کہ ‘اچھے آدمی’ اتنے ہی نمایاں ہوں جتنے وہ ہو سکتے ہیں، اس لیے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ خاص طور پر ان لوگوں پر آزمائشیں بھیجتے ہیں۔

اس طرح کے چیلنجز ہمیں عام طور پر زندگی کو بہتر طور پر سمجھنے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔ سینیکا نے لکھا کہ ‘ہر وقت خوش قسمت رہنا اور ذہنی پریشانی کے بغیر زندگی گزارنا قدرتی دنیا کے نصف سے لاعلم رہنا ہے۔’

روافیت پسندی سٹائکس

کوویڈ-19 کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں بہت سارے لوگوں کی زندگی میں بے نظیر تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔

پھر اس کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہو سکتا ہے۔ سینیکا اور دیگر رواقیت پسندوں کا خیال ہے کہ ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ بدترین حالات بھی بالآخر ہمارے لیے کسی نہ کسی طرح اچھے ثابت ہو سکتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ تبدیلی (اور نقصان) ہمیشہ مستقل ہیں

یہ ناممکن لگتا ہے کہ کسی پیارے کی موت جیسے بیرونی عامل سے ہم پریشان نہ ہوں۔ لیکن رواقیت پسند حقیقت کو یکسر قبول کرنے کے حق میں تھے۔ اور انھوں نے سکھایا کہ حقیقت کا مطلب ہے مسلسل تبدیلی، نقصان اور مشکلات۔

مارکس اوریلیس نے پوچھا کہ ‘کیا کوئی تبدیلی سے ڈرتا ہے؟ خیر، تبدیلی کے بغیر بھی کیا کبھی کچھ ہو سکتا ہے؟ اگر لکڑی کو گرم کرنے والی لکڑی کو تبدیل نہ کیا جائے تو کیا آپ خود غسل کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کو کھانا کھلایا جا سکتا ہے، جب تک کہ آپ جو کھاتے ہیں وہ تبدیل نہ ہو جائے؟ کیا زندگی کا کوئی اور فائدہ بغیر کسی تبدیلی کے حاصل کیا جا سکتا ہے؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ آپ کے لیے تبدیل ہونا ضروری ہے اور تبدیلی پوری فطرت کے لیے اتنی ہی ضروری ہے؟’

بدترین واقعے کے لیے تیار ہوں اور اس کے لیے مشق کریں

جتنا انھوں نے حقیقت کو قبول کرنے کی وکالت کی، خود کو مشکل حالات کے سامنے پیش کردینے کے بالکل برعکس، رواقیت پسندوں نے مشکل حالات کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا پسند کیا۔ انھوں نے خاص طور پر یہ سوچا کہ ‘یہ میرے ساتھ کبھی نہیں ہوگا’ کے انتہائی پرفریب انسانی جال سے اپنے آپ کو بچایا۔ انسان آخر کار مستقبل کے بارے میں حقائق کا سامنا کرنے سے جھجکتے کیوں ہیں۔ ہم یہ کیوں سوچتے ہے کہ ہمیں قدرتی آفات، بیماری یا جنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، نہ کوئی کاروباری منصوبہ یا رومانوی تعلق خراب ہوگا۔

لیکن اگر آپ نے کبھی کسی اور کے ساتھ ایسا ہوتا دیکھا ہے تو یہ بالکل آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ سینیکا نے خبردار کیا کہ ‘کیا یہ مجھے اس بات پر حیران ہونا چاہئے کہ وہ خطرات جو ہمیشہ میرے ارد گرد مندڈلا رہے ہیں وہ کسی دن مجھ سے ٹکرا جائیں؟’

اور پھر بھی بہت سے لوگ ایسے نتائج کے بارے میں سوچنے یا منصوبہ بندی کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ ‘بہت سے لوگ سمندری سفر کا منصوبہ بناتے ہیں اور طوفان کے بارے سوچتے بھی نہیں۔ ہمارے ذہن کے لیے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے کہ وہ پہلے سے موجود خطرات سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار کریں۔ ‘میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو گا’ اور ‘کیا آپ کو کبھی یقین ہوتا کہ ایسا ہو جائے گا؟’ کیوں نہیں؟ جان لو کہ ہر حالت بدل سکتی ہے، اور جو کچھ کسی کے ساتھ ہوتا ہے وہ تمہارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔’

رواقیت پسندوں کے مطابق، اس قسم کی احتیاطی تدابیر ہمیں کسی بڑی مصیبت کے آنے کے وقت پریشانی میں مبتلا نہیں ہونے دیتی ہیں۔ بدترین ممکنہ نتائج سے گزر کر، ہم ان کے حقیقی طور پر سامنے آنے کی صورت میں ان سے نمٹنے کے لیے جذباتی طور پر تیار ہوتے ہیں، یقیناً اس کے بعد ہم عملی طور پر بھی تیاری کرنے کا امکان رکھتے ہیں – اگر واقعی آفت آتی ہے تو اُس آفت کے اثرات کو قدرے آسان بنانے کا امکان ہے۔ ایک مشق جسے آج بھی پوری دنیا میں اعلیٰ عہدیداران کے دفتروں اور سرکاری عمارتوں میں اپنایا جاتا ہے، اسے اکثر ‘قبل از وقت’ کہا جاتا ہے۔

قدیم زمانے میں اس کے لیے یہ ایک انگوٹھی ہوتی تھی۔ یہ ایک ‘پریمیڈیٹاشیو میلورم’ (برائیوں کا پیش خیمہ) تھا۔

لیکن زیادہ پریشان مت ہوئیے

مستقبل کے لیے منصوبے بنائیں۔ ہاں، لیکن وہیں نہ پھنسے رہیں۔ آپ کے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی حالات کا مقابلہ کرنے کی اپنی صلاحیت پر اعتماد رکھیں۔ اسی طرح جیسے آپ ہمیشہ رکھتے ہیں۔ رومن رہنما مارکس اوریلیس لکھتا ہے کہ ‘مستقبل آپ کو پریشان نہ کرے۔ آپ اس تک پہنچیں گے اگر آپ کے پاس وہی ہے جو آپ کو اسی وجہ سے حاصل ہونا چاہیے جس کا اطلاق آپ حال میں کرتے ہیں۔’

اس کے بجائے موجودہ لمحے پر توجہ مرکوز کریں اس میں ہمارے پاس اس وقت جو کچھ ہے اس کے لیے مشکور ہونے کی مشق کرنا بھی شامل ہے، اس پر توجہ مرکوز نہیں کرنی کہ ہم مستقبل میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں (یا اس سے بچنا چاہتے ہیں)۔

اسے سادہ حقائق تک رکھیں

رومن رہنما مارکس اوریلیس وہ باتیں جو آپ کو نظر آتی ہیں اس میں اضافی مفروضوں کو شامل کرنے کے بارے میں بھی خبردار کرتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ‘آپ کے ابتدائی تاثرات کی رپورٹ سے آگے آپ اس میں اپنی اضافی تفصیل بیان نہ کریں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرا چھوٹا لڑکا بیمار ہے۔ میں وہی دیکھ رہا ہوں۔ میں یہ نہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ خطرے میں ہے۔’

دوسروں کی مدد کریں، اور مدد طلب کریں۔ لیکن اپنے آپ کو جذباتی طور پر محفوظ رکھیں

افلاطون کے پیروکاروں کی طرح، رواقیت پسند (سٹوئکس) کا خیال تھا کہ زندگی میں ہمارا بنیادی مقصد انسان ہونے میں سبقت حاصل کرنا ہے۔ اور انسانی فطرت، ان کے خیال میں ایک سماجی رویہ ہے ۔یہاں تک کہ انصاف (جو کہ قدیم فلسفے میں، دوسرے لوگوں اور ہماری برادریوں کے لیے ہماری ذمہ داریوں کو شامل کرتے ہوئے ‘انصاف’ کے عام تصور سے بالاتر ہے) اولین خوبیوں میں سے ایک تھی۔

اس لیے دوسروں کی مدد کرنا ضروری تھا۔ لیکن اس طرح کسی دوسرے کے غم یا غصے کو اس جذبے سے اپنانے سے بچنا تھا جیسے یہ آپ کا اپنا ہو۔ ایپِکٹیٹس نے لکھا کہ ہر طرح سے کسی ایسے شخص کے ساتھ ہمدردی کریں جو پریشان ہے، ‘لیکن اپنے پورے دل و جان سے ہمدردی نہ کریں۔’

روافیت پسندی سٹائکس

ایسے برے حالات جو آپ کے اختیار میں نہیں ہوتے ہیں ان میں پھنس جانے سے بھی زیادہ بدترین حالات ہوتے ہیں۔

مدد مانگنے میں کوئی شرم محسوس نہ کریں۔ مارکس اوریلیس نے لکھا کہ کبھی کبھی یہ واحد طریقہ ہے جس سے آپ اپنی زندگی کا ‘بنیادی کام’ پورا کر سکتے ہیں – اپنے کردار کو بہترین طریقے سے ادا کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کرنا۔

اپنے آپ کو مشکل احساسات سے مت ہٹائیں

غم جیسے ‘جذبوں’ کے لیے ان فلسفیوں کی نفرت اور ان کے اندر نہ آنے کے مشورے کے باوجود رواقیت پسند (اسٹوئکس) اچھی طرح سمجھ گئے کہ ہم میں سے اکثر کے لیے یہ احساسات اب بھی پیدا ہوں گے۔ اور اسی طرح جس طرح جدید ماہر، برین براؤن منفی جذبات کو ‘بے حس’ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، رواقیت پسند نے دلیل دی کہ ہمیں اداسی یا غصے جیسے احساسات کو ‘دھوکہ دینے’ کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ چھٹی لینا یا اپنے آپ کو کام میں مصروف کرنا، انھیں صرف عارضی طور پر دور کرتا ہے۔ جب یہ احساسات واپس آئیں گے تو امکان ہے کہ وہ اور بھی طاقتور ہو کر واپس آئیں گے۔

سینیکا نے لکھا کہ ‘اپنے غم سے نظریں چرانے سے بہتر ہے کہ اس پر فتح حاصل کی جائے۔’ لیکن یہ کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ آج سائیکو تھراپسٹ ‘احساسات کو محسوس کرنے’، ان پر کارروائی کرنے اور ان کے بارے میں بات کرنے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ تارا براچ، ایک معروف کلینیکل ماہر نفسیات اور ذہن سازی کی رہنما، ‘مقدس توقف’ کا مشورہ دیتی ہیں – غصے یا غم کے درمیان میں بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے اور ان سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ایک لمحہ نکالیں۔ سینیکا کے لیے اس کا حل صرف فلسفے کا مطالعہ کرنا تھا۔

طویل نقطہ نظر لیں اور یاد رکھیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا

ایک مشق مارکس اوریلیس نے تجویز کی تھی کہ تصور کریں کہ آپ زمین کو نیچے دیکھ رہے ہیں، ہر چیز کو جیسا کہ یہ عموماً ہوتی ہے اُسی انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ پھر تاریخ کی طویل ٹائم لائن کا تصور کریں۔ وہ لوگ جو آپ سے بہت پہلے زندہ رہے، اور وہ جو بعد میں زندہ رہیں گے۔ (یہ گرینڈ کینین ویژولائزیشن کے قدیم ورژن کی طرح ہے جسے کچھ معالجین تجویز کرتے ہیں)۔

‘پورے وجود کے بارے میں سوچو، جس میں آپ اس کا سب سے چھوٹا حصہ ہیں، اس پورے وقت کے بارے میں سوچو جس میں آپ کو ایک مختصر اور لمحہ فکریہ دیا گیا ہے، تقدیر کے بارے میں سوچو – آپ اس کا کون سا حصہ ہیں؟’

اس نے لکھا کہ آخرکار ‘ہر سمندر کائنات میں ایک قطرہ ہے۔’

‘موجودہ وقت پورے لامتناہی زمانے کی ایک سوئی کی نوک کے برابر ہے۔’


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24793 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments