بچوں کے ذہنی عوارض اور ان کا حل


بچے کسی بھی قوم، ملک، معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہوا کرتے ہیں یہ کسی بھی قوم، ملک، معاشرے کا مستقبل بھی ہوا کرتے ہیں ان کی جسمانی، ذہنی صحت، تعلیم و تربیت اور اور پرورش کے ہر پہلو پر ہر معاشرہ، قوم، ملک اجتماعی طور پر اور ہر خاندان، والدین اور انفرادی طور پر توجہ دیتے ہیں اور اگر بات کی جائے خاص طور پر ذہنی صحت کی تو یہ اور بھی ضروری ہو جاتی ہے اور ذہنی صحت کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

بچوں کی ذہنی طور پر صحت مند ہونے کا مطلب ہے صحتمند سماجی مہارتیں سیکھنا اور جائزہ لینا اور پھر مسائل ہوں تو ان سے کیسے نمٹا جائے ذہنی طور پر صحت مند بچوں کی زندگی کا معیار مثبت ہوتا ہے اور وہ گھر، اسکول اور اپنی اردگرد کے ماحول میں انھیں اور مثبت ہوتا ہے اور وہ گھر، اسکول اور عام طور بچوں میں ذہنی خرابیوں کو بچوں کے سیکھنے، برتاؤ کر نے یا اپنے جذبات کو سنبھالنے کے طریقے میں سنگین تبدیلیوں کے طور پر بیان کیا جاتا ہے بہت سے بچے کبھی بھار خوف اور پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں یا خلل ڈالنے والے روئیے کا مظاہرہ کرتے ہیں اگر علامات سنگین اور مستقل ہیں اور اسکول، گھر یا کھیل کی سر گرمیوں میں مداخلت کرتے ہیں تو بچے کو دماغی خرابی کی تشخیص ہو سکتی ہے۔

عام طور پر بڑوں میں بھی دماغی مسائل وقت کے ساتھ خاص مواقعوں پر منظر عام پر آتے ہیں اسی طرح دماغی عارضے کی علامات وقت کے ساتھ ساتھ بچے کے بڑھنے کے دوران علامات بھی بدلتی رہتی ہیں اور ان میں مشکلات بڑھتی جاتی ہیں اور بچے کی شخصیت کی مختلف جہتیں سامنے آتی رہتی ہیں جو پہلے کبھی نہیں آئیں تھیں۔

اب بات کرتے ہیں ان دماغی / ذہنی عوارض کی جن کی بچپن میں تشخیص کی جا سکتی ہے ان میں اضطراب یعنی اے ڈی ایچ ڈی یا توجہ کی کمی، خوف یا تشخیص اور رویوں کی شکایات شامل ہیں اس کے علاوہ دل کی دھڑکن تیز ہو جانا پسینہ آنا وغیرہ شامل ہے۔

اب ان عوارض کی بات کرتے ہیں جن کو عرف عام میں ڈس آڈرز کہا جاتا ہے ان میں موڈ ڈس آڈرز بہت زیادہ ہمارے بچوں میں نظر آتی ہے انھیں جذباتی عوارض بھی کہا جاتا ہے ان میں اداسی، ناراضگی کے مستقل احساسات یا حد سے زیادہ خوشی محسوس کرنے یا حد سے زیادہ تنہائی کے اثرات طاہر ہوتے ہیں جو کہ مختلف کیفیات و اوقات میں خطرناک صورتحال بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

اب آتے ہیں نفسیاتی عوارض یا ڈس آڈرز کی جا نب ان میں عام طور پر تحریف شدہ بیداری اور سوچ شامل ہوتی ہے ان کی دو علامات بہت عام ہیں ایک یہ کہ ایسی تصاویر یا آوازوں کا دیکھنا اور سننا جن کا دراصل کوئی وجود ہی نہ ہو اور دوسری اہم بات یا علامت ان آوازوں یا تصاویر کے متعلق وہم کا پالنا یا ان پر یقین رکھنا وغیرہ۔

بہت سے بچوں میں او سی ڈی یعنی جنونی عارضہ خیالات یا خوف سے دوچار رہتے ہیں عام طور پر بچے کسی جراثیم یا جانور کا غیر معقول خوف ہے جو کسی ایک حرکت پر بضد ہوتا ہے۔

پی ایس ٹی ایس ڈی پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس یعنی ایک ایسی حالت ہے جو کہ کسی تکلیف دہ یا خوفناک واقعے کے بعد پیدا ہو سکتی ہے جیسے کہ جنسی یا جسمانی حملہ کسی عزیز کی غیر متوقع موت یا قدرتی آفات وغیرہ کی خوفناک اور نا قابل فراموش یا دیں لکھتے ہیں اور یہ جذباتی طور پر بے حس بھی ہوسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ کئی عوارض جداگانہ بھی ان عوارض میں مبتلا بچوں مین یاداشت، شناخت اور اپنے اور اپنے اردگرد کے بارے میں عمومی آگاہی حاصل کرنے اور پھر برقرار رکھنے کے سلسلے میں شدید تناؤ کی صورت پیدا ہوتے ہیں۔

کچھ بات کر لی جائے حقائق کی خرابی کی کی ایسی صورت حال کی جس میں ایک بچہ عام طور پر جان بوجھ کر جسمانی اور جذباتی علامات پیدا کر تا ہے یا پھر ان کے حوالے سے شکایات کا اظہار کر تا ہے تاکہ اس کو مدد یا ضرورت والے پیرائے میں دیکھا اور برتا جائے اور خاص مواقعوں پر بہت ہی خاص ہو جایا کرتی ہے۔

جنسی اور صنفی عوارض بڑھتے ہوئے مسائل میں ہمیں شدت کے ساتھ نظر آنے لگے ہیں یہ کبھی کبھی ایسی صورت حال بھی ہمارے سامنے لے آتے ہیں کہ جس میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے بچوں میں جنسی خواہش بہت بڑھ جاتی ہے اور اس میں عمر کا پہلو بھی خاص طور پر نظر انداز ہو تا نظر آ رہا ہے اس کے علاوہ ان روئیے کی کمزوری صنفی شناخت کی خرابی میں ظاہر ہوتے ہیں اور اپنے پورے ماحول کو غیر معمولی حد تک متاثر بھی کرتے ہیں۔

ان تمام مسائل کی نشاندہی کے بعد آجاتی ہے ان کی وجوہات کی تو ہم یہاں یہ بات واضح کر دیتے ہیں کہ ذہنی یا دماغی امراض کی کوئی خاص یا ایک وجہ نہیں ہوتی بلکہ کئی وجوہات مل کر کسی بھی بچے کو ذہنی عارضے میں مبتلا کر دیتی ہیں جیسے کہ حیاتیاتی، نفسیاتی اور ماحولیاتی عوامل کے مرکب کی وجہ سے ہو سکتے ہیں جن بچوں کی خاندانی تا ریخ ذہنی اور دماغی صحت کی خرابی کی اپنی تاریخ رکھتی ہے ان کی نشوونما میں یہ عنصر غالب آ جاتا ہے ان کے تمام مسائل میں مزاج میں تبدیلی، بے ترتیبی، سوچ، دائمی اضطراب اور خود اپنی ذات کی قدر کا مبالغہ آمیز احساس وغیرہ۔

ان تمام مسائل کی موجودگی اور اسباب کی آگاہی کے بعد بات کی جانی چاہیے ان کے حل کی یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ چونکہ بچے عموماً حساس اور حد درجہ انتہائی تیز رفتار سیکھنے کے عمل، مشاہدہ کرنے اور اپنی عمر کے لحاظ سے اس سے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایسے میں حل کی کوششیں چاہے آپ والدین ہوں، معالج ہوں، استاد ہوں، یا کوئی اور قریبی عزیز بچے ان تمام رشتوں اور تعلق کی سنجیدگی کو بھی بھانپ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس سلسلے میں ضروری ہے کہ ابتدائی علامات کی ثقافت کے ساتھ ہی اپنانا بہت ضروری ہے کیونکہ اکثر ذہنی مسائل کی ابتدا منفی تربیت ہی کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے۔

معاشرتی روئیے بھی ہمارے بچوں ذہنی عوارض میں مبتلا کر دیتے ہیں وہیں ان کو ان عوارض سے باہر نکالنے میں بھی ان کا بڑا اہم کردار ہو سکتا ہے اور ہمیں ان پر دینی چاہیے۔

ذہنی صحت کے لئے جسمانی صحت کا ہونا بھی ضروری ہے ہمیں ہمارے بچوں کی جسمانی صحت و ضروریات کا خیال رکھنا ہو گا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایک صحت مند جسم ہی میں ایک صحت مند دماغ / ذہن پرورش پاتا ہمیں متوازن اور صحت بخش غذا کا رواج دینا ہو گا فاسٹ فوڈ کے نام پر بچوں کو ہر اچھی اور متوازن غذا تو ضروری چائے گی لیکن نقصان دہ اور غیر متوازن غذاؤں سے پرہیز کے لئے کوئی مستقل اور مناسب حل تلاش کرنا ہو گا اردگرد کے ماحول ان کی ذہنی آموزش کے لئے موافق بنانا ہو گا۔

ایک اہم پہلو جس پر شاید ہم غور کرنا بھی فضول سمجھتے ہیں وہ ہے روحانیت کا پہلو بچوں کی روزمرہ عادات میں روحانیت مثبت پہلووں کا خاص کردار ہوتا ہے اس سلسلے میں مذہب اسلام کی پاکیزہ اور لازوال تعلیمات سے فائدہ اٹھانے کی اشد ضرورت ہے اور بطور والدین، استاد یا معاشرے کے فرد کے پہلے خود کو اس سانچے میں ڈالئے کہ بچوں کو بھی اس ابدی، لازوال اور بہترین پیغام سے روشناس کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں اس ذہنی انتشار سے محفوظ رہ سکیں کہ جس آج اہل مغرب بہت زیادہ اور ہم بھی کسی حد دوچار ہیں۔

Facebook Comments HS