سکھر میں پوجا کماری کا قتل


سندھ میں آئے روز کوئی نہ کوئی ایسی خبر ملتی ہے جس میں کسی بچے، بچی یا خاتون کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا جاتا ہے یا پھر جنسی زیادتی کر کے مارا جاتا ہے۔ سندھ میں دوسرے صوبوں کی نسبت خواتین اور بچوں کے زیادتی اور تشدد سمیت قتل کے واقعات زیادہ رکارڈ ہوتے ہیں۔ خواہ وہ کسی بھی قوم یا برادری کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں۔ ایسا ہی ایک دل دہلانے جیسا واقعہ دو روز قبل رونما ہوا ہے۔ ایک 16 سالہ ہندو لڑکی وحشت کی بھینٹ چڑھ کر مقتل گاہ پہنچ گئی۔

سکھر کے قریب روہڑی قومی شاہراہ کے لیفٹ سائیڈ پٹنی تھانے کے حدود نارا کنال کی رہائشی ہندو ناری پوجا کماری کی لاش پانی میں پڑی ملی۔ جس وقت پوجا کو اغوا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی اور وہ جبرا مذہب تبدیل کرنے اور شادی کرنے کے کا انکار کر رہی تھی۔ اس وقت فائرنگ ہوئی تین گولیاں پوجا کماری کے سر کو چیرتی ہوئی سندھ کی ثقافت تہذیب اور بین المذاہب کو کچلتی رہی۔ مجھے وہاں کے ایک شخص نے فون کر کے بتاتا کہ ہمارے علاقے میں ایک اوڈ کمیونٹی کی لڑکی کو زیادتی کی کوشش کے دوران قتل کیا گیا ہے۔

میں ٹھیک اس وقت سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں رپورٹنگ کی وجہ سے مصروف تھا۔ کچھ دیر معلوم ہوا کہ پولیس چوکی کے برابر میں واقعی ہی ایک ناری کا قتل ہوا ہے۔ پوجا کماری کا خاندان خانہ بدوش قبیلہ ہے۔ یہ لوگ مرد اور خواتین مٹی کی دیواریں اور گھر تعمیر کرتے ہیں۔ جہاں کام مل جاتا ہے وہیں پر قیام کرتے ہیں۔ شکارپور کے علاقے چک سے تعلق رکھنے والی پوجا کماری کا خاندان پہلے سکھر بیراج سے نکلنے والی کنال پر رہائش پذیر تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر انکروچمنٹ کے نام پر ہزاروں افراد کو بے گھر کیا گیا جس سے پوجا کے خاندان نے بھی سکھر سے نقل مکانی کرتے ہوئے روہڑی کے قریب نارا کنال کے برابر میں زرعی زمین خرید کر گھر بنایا۔ پوجا کا گھر جس علاقے میں ہے وہاں تقریباً کرمنل قسم کے لوگ رہائش پذیر ہیں۔ پوجا کی والدہ صبح سویرے چھوارا منڈی میں مزدوری کرنے جاتی ہے۔ کبھی کبھار پوجا کو بھی ساتھ لے جاتی تھی کبھی پوجا گھر میں اکیلی کام کاج کرتی تھی۔

پیر کی صبح جب پوجا کی والدہ مزدوری پر گئی تو پوجا کماری گھر میں اکیلی تھی۔ پوجا کماری کے گھر میں گھس کر ملزمان نے اغوا کرنے کی کوشش کی۔ ملزم واحد بخش لاشاری اپنے ماموں اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ پوجا کو اغوا کر کے جبرا مذہب تبدیل کر کے شادی کرنا چاہتا تھا۔ پوجا نے صاف انکار کر دیا کہ وہ نہ شادی کرے گی اور نہ مسلمان ہوگی۔ وحشی قسم کے ملزم نے پسٹل کے فائر کر کے پوجا کو موقع پر ہی قتل کر دیا۔ پوجا کے ورثہ کا کہنا تھا کہ کچھ دن قبل بھی انہیں ملزمان نے اس قسم کی کوشش کی تھی۔

پٹنی پولیس کو شکایت درج کی مگر پولیس نے کوئی ایکشن نہ لیا۔ اگر ایکشن لیا ہوتا تو پوجا قتل ہونے سے بچ جاتی۔ 16 سالہ پوجا کماری کی لاش تعلقہ اسپتال روہڑی منتقل کی گئی جہاں پر پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا نے قومی شاہراہ بلاک کر کے دھرنا دیا۔ ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک جانے وقوع پر پہنچ گئے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کی تسلی دی۔ پولیس نے تین گھنٹے کے اندر مرکزی ملزم واحد بخش لاشاری کو گرفتار کر کے پسٹل برآمد کر لیا اور تین ملزمان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا۔

پولیس نے مرکزی ملزم کو عدالت میں پیش کر کے، 10 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا۔ پوجا کماری کی دوسرے روز منگل کے دن شکارپور کے قریب آبائی قبرستان میں تدفین کی گئی۔ (ہندو میں اوڈ قبیلہ جو کہ خانہ بدوش ہے وہ اپنے مردوں کو جلانے کے بجائے مسلمانوں کی طرح تدفین کرتے ہیں ) ۔ تدفین کے بعد روہڑی میں تعزیت کا سلسلہ جاری تھا کہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی اقلیتی سینیٹر کرشنا کماری نے حیدرآباد سے روہڑی پہنچ کر متاثر خاندان سے تعزیت کی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

کرشنا کماری کا کہنا تھا کہ اگر پوجا کماری اغوا ہونے سے انکار نہ کرتی تو مسلمان ہوتی اور اس وحشی قاتل کی بیوی ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں بچیوں کو جبرا مذہب تبدیل کر کے شادیاں کی جاتی ہیں یہ کیس اس کا پکا ثبوت ہے۔ پوجا کماری کے قتل کے بعد ہندو اپنی جگہ مسلمانوں کی اکثریت بھی ہمدردی کے لئے پہنچی۔ پوجا نے اغوا ہونے سے انکار کر کے اپنی زندگی قربان کی اور ثابت کیا کہ عورت جتنی بھی کمزور کیوں نہ ہو مگر اسے زبردستی خریدا استعمال نہی کیا جا سکتا۔ ملزم کا گھر برابر میں ہونے کے باوجود اس نے پڑوس تک کا خیال نہ رکھا۔

سندھ میں خواتین کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم کے سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ سہیل میمن کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 2021 ع سندھ میں کارو کاری سمیت دیگر واقعات میں 176 افراد کو قتل کیا گیا تھا۔ جس میں 128 خواتین اور، 48 مرد شامل ہیں۔ کشمور میں 23 خواتین سمیت 27 انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ جیکب آباد ۾ 14 خواتین اور 12 مردوں کو قتل کیا گیا۔ شکارپور میں 18 خواتین پانچ مردوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ گھوٹکی ضلعی میں 14 خواتین اور تین مردوں کو سیاہ کاری کے الزام کے تحت قتل کیا گیا۔

سندھ میں جہاں خواتین کو تشدد قتل کیا جاتا ہے وہاں پر معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے ساتھ قتل کے واقعات میں بھی رکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ سندھ میں اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کے لئے پیپلز پارٹی جو دعوے کرتی ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ حکومت پوجا کماری قتل کیس میں نامزد ملزمان کو قانون کے تحت سزا دلوائیں تاکہ کوئی دوسری پوجا اغوا اور قتل ہونے سے بچ جائے۔

 

Facebook Comments HS