برصغیر میں فلور کراسنگ کے قانونی پہلو
ہمارے ہاں آج کل فلور کراسنگ کو ایک طرف سے تو قریب قریب ملکی سلامتی کے خلاف جرم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف سے اسے ایسے پیش کیا جا رہا ہے جیسے یہ کوئی بہت بڑی نیکی کا کام ہو۔ ان دونوں انتہاؤں سے ہی اتفاق ممکن نہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ فلور کراسنگ میں اگر رشوت یا ارکان کی خرید و فروخت (ہارس ٹریڈنگ) کا عمل دخل نہ ہو تو باوجود اس کے کہ آئین پاکستان کے مطابق اسے ہر صورت متعلقہ رکن اسمبلی کی اسمبلی رکنیت کے خاتمہ پر منتج ہونا ہے، پھر بھی یہ کوئی جرم نہیں، بلکہ ایک ”خلاف ورزی“ ہی ہے۔
بالکل ویسی خلاف ورزی جیسی سپیکر نے ریکویزیشن جمع کروائے جانے سے 14 دن کے اندر اجلاس بلانے کی بجائے 25 مارچ کو اجلاس بلا کر کی، جیسی ارکان پارلیمنٹ اپنے گوشوارے الیکشن کمیشن کے پاس مقررہ مدت کے اندر جمع نہ کروا کر کرتے ہیں، جیسی آئین سے متصادم کوئی آرڈیننس جاری کر کے یا بل پاس کر کے حکومتیں یا اراکین پارلیمان کرتے ہیں۔
فلور کراسنگ بنیادی اور تاریخی طور پر ایک سیاسی جماعت کے ڈسپلن کا معاملہ زیادہ ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے ڈسپلن اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پارٹی آئین کے مطابق کسی بھی رکن کی پارٹی رکنیت ختم کر سکتی ہیں لیکن ایسا ہونے سے متعلقہ رکن سزا یافتہ یا مجرم نہیں بن جاتا، نہ ہی وہ کسی دیگر سرکاری عہدہ پر تعیناتی کے لیے نا اہل ہو جاتا ہے۔
پارلیمانی جمہوریت میں پارلیمنٹ میں منصفانہ فیصلہ سازی کے لیے اراکین پارلیمنٹ کا آزادانہ رائے کے اظہار کا حق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حق پر غیر ضروری قدغنیں اور بندشیں ایک پارلیمانی جمہوری نظام کی موثر فعالیت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے دستور فلور کراسنگ کے خلاف کوئی قانون مہیا نہیں کرتے تاکہ پارلیمان کے اندر صحتمند اختلاف رائے کے اظہار کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔ لیکن پاکستان اور برصغیر کا اپنا ایک خاص پس منظر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے علاوہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے آئین میں بھی فلور کراسنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے antiڈیفیکشن قوانین موجود ہیں۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے سیاسی جماعتوں میں توڑ جوڑ کے ذریعے حکومتوں کو بنایا، گرایا اور کمزور کیا جاتا رہا ہے جسے پاکستان میں سیاسی استحکام اور جمہوریت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح انڈیا میں خاص طور 60 کی دہائی کے آخر اور ستر کی دہائی کے اوائل میں ہونے والے انتخابات میں پارلیمنٹ اور سٹیٹ اسمبلیوں میں منتخب ہونے والے کل تقریباً 4000 منتخب ارکان میں سے پچاس فیصد نے اپنی وفاداریاں تبدیل کیں۔
مرکز میں تبدیلی پر ریاستی اسمبلیوں میں غیر معمولی وفاداریاں تبدیل ہونے کی وجہ سے کئی ریاستوں میں حکومتیں گرتی رہیں جس نے انڈیا کو شدید قسم کے سیاسی عدم استحکام سے دوچار کیا۔ ہریانہ اسمبلی کے ایک رکن ”گیا لال“ نے ایک ہی دن میں تین بار اپنی وفاداری تبدیل کر کے ”آیا رام، گیا رام“ جیسی سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کے لیے استعمال ہونے اصطلاح کو جنم دیا۔ اس طرح کے حالات کے پیش نظر ملک کے اندر سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے انڈیا میں 1985 میں آئین کے اندر سیاسی وفاداری تبدیل کرنے پر متعلقہ رکن کی نا اہلی کا قانون متعارف کروایا گیا۔
بعد میں 2003 کی ترمیم کے ذریعے اس قانون کو مزید سخت بنایا گیا اور چند دیگر تبدیلیوں کے ساتھ ایک تہائی اکثریت کی منظوری کے ساتھ پارٹی کی split (نیا گروپ) بنانے کی اجازت ختم کردی، البتہ متعلقہ پارٹی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کے ساتھ دیگر پارٹی میں ادغام کی اجازت برقرار رکھی۔ پاکستانی آئین میں آرٹیکل 63۔ A میں دیے جانے والے فلور کراسنگ سے متعلق قانون میں متعلقہ رکن کے لیے ”نا اہلی“ کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے ”رکنیت ختم ہونے“ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
اسی طرح بنگلہ دیشی آئین کے آرٹیکل 70 میں مہیا کیے گئے سیاسی وفاداری کی تبدیلی سے متعلق قانون میں ”نا اہلیت“ جیسا لفظ استعمال کرنے کی بجائے ”متعلقہ رکن اپنی نشست خالی کر دینے کا پابند ہو گا“ جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ ان دونوں دستوروں کے برعکس انڈین آئین کے دسویں شیڈول میں مہیا کردہ فلور کراسنگ کرنے والے رکن کے لیے ”نا اہلیت“ کی پینلٹی مہیا کی گئی ہے۔ انڈیا کی اعلی عدالتی نظائر کے مطابق یہ نا اہلیت متعلقہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے یا متفقہ رکن کے دوبارہ منتخب ہو جانے میں سے جو پہلے ہو اس وقت تک برقرار رہتی ہے۔
انڈیا اور بنگلہ دیش دونوں میں ان قوانین کو بتدریج سخت بنانے میں ارکان کی آزاد رائے کے بنیادی حق کو کم سے کم متاثر کرنے کے حوالے سے احتیاط بھی نظر آتی ہے۔ ارکان کی آزادی کو نقصان پہنچانے کے احتمال کی وجہ سے ان قوانین کو مختلف سیاسی اور قانونی ماہرین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں البتہ کچھ حلقوں کی جانب سے نا اہلی کی مدت بڑھا کر پانچ سال کر کے اس قانون کو مزید سخت کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
پاکستانی قانون کے برعکس فلور کراسنگ کا مذکورہ انڈین قانون سپیکر کو نا اہلیت کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ سپیکر کے فیصلہ میں عدالتی مداخلت کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ البتہ انڈین سپریم کورٹ فلور کراسنگ سے متعلقہ ترمیم کے کیس میں یہ قرار دے چکی ہے کہ اگرچہ مذکورہ ترمیم بنیادی آئینی ڈھانچہ سے متصادم نہ ہونے کی وجہ سے درست ہے لیکن سپیکر کے نا اہلیت سے متعلق فیصلہ کے خلاف محدود گراؤنڈز ( بدنیتی پر مبنی فیصلہ اور تین دیگر گراؤنڈز) پر عدالتی نظر ثانی ممکن ہے۔
انڈین سپریم کورٹ یہ بھی قرار دے چکی ہے کہ سپیکر کا اس قسم کا فیصلہ ہاؤس کا فیصلہ نہیں ہوتا لہذا اسے پارلیمانی فیصلوں والی امیونٹی حاصل نہیں۔ انڈیا میں اس بابت یہ بحث بھی ہوتی رہی ہے کہ یہ اختیار سپیکر کی بجائے کسی غیر جانبدار شخص یا اتھارٹی کے پاس ہونا چاہیے۔ پاکستانی آئین کے مطابق ڈیفیکشن (سیاسی وفاداری کی تبدیلی یا فلور کراسنگ) کی بابت اور متعلقہ رکن کی رکنیت کے خاتمہ کا فیصلہ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل بھی دائر کی جا سکتی ہے۔
انڈیا اور پاکستان کے آئین میں اس حوالے سے ایک اور فرق بھی ہے۔ انڈین آئین ڈیفیکشن ہوتے ساتھ ہی ڈیفیکشن وقوع پذیر ہونے کو مکمل تصور کرتا ہے اور پارٹی ہیڈ کو اختیار دیتا ہے کہ وہ چاہے تو 15 دن کے اندر اسے اغماض برتے (معاف کر دے)، بصورت دیگر معاملہ سپیکر کے پاس چلا جاتا ہے جو کہ ایک ٹرائبیونل کے طور پر اس پر فیصلہ دیتا ہے۔ جبکہ پاکستانی قانون میں ڈیفیکشن کا وقوع پذیر ہونا اس وقت مکمل اور قابل سزا ہوتا ہے جب پارٹی ہیڈ مقررہ مدت میں متعلقہ رکن کو شو کاز کر کے ڈیفیکشن کی بابت صفائی کا موقع فراہم کرنے کے بعد تحریری طور پر متعلقہ رکن کی ڈیفیکشن ڈیکلیئر کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ہی معاملہ مذکورہ ڈیفیکشن کی بابت اور متعلقہ رکن کی رکنیت کے خاتمہ پر فیصلہ کے لیے سپیکر سے ہوتا ہوا الیکشن کمیشن کے پاس جا سکتا ہے۔
پاکستان میں موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں میری نظر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش تینوں ممالک کے آئین صرف اپنی پارٹی کی ہدایت کے خلاف خاص ووٹ دینے کو ہی ڈیفیکشن قرار نہیں دیتے بلکہ کسی بھی رکن کا ایک پارٹی کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد اس پارٹی سے استعفی دینے یا کسی اور پارٹی میں شامل ہونے کو بھی ڈیفیکشن قرار دیتے ہیں اور ایسا کرنے پر بھی کسی رکن پر وہی پینلٹی لاگو کرتے ہیں جو کہ پارٹی لائن کے برعکس ووٹ دینے پر عائد ہوتی ہے۔
یہاں مستعفی ہونے یا کسی اور پارٹی میں شامل ہونے میں لفظ ”یا“ بہت اہم ہے۔ یعنی کوئی رکن اگر اپنی پارٹی سے استعفی دے دے اور اس کے بعد کسی اور سیاسی جماعت میں شامل نہ ہو تو بھی اس پر وفاداری تبدیل کرنے کے قانون کا اطلاق ہو گا۔ اسی طرح اگر کوئی رکن اپنی پارٹی سے مستعفی ہوئے بغیر بھی کسی اور پارٹی میں شمولیت اختیار کر لے تو بھی اس قانون کا اس پر اطلاق ہو گا۔
آئین میں درج فلور کراسنگ کے متعلق قانون میں اپنی پارٹی چھوڑنے، دوسری پارٹی جوائن کرنے اور رکنیت کے خاتمہ (انڈیا میں نا اہلیت) کا وقت (یعنی کس وقت سے رکنیت ختم تصور ہو گی) جیسے سوالات کو ٹھیک سے سمجھنے کے لیے انڈین سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا 2007 میں ایک مقدمہ ”راجندر سنگھ رانا بنام سوامی پرساد موریا“ میں سنایا گیا تفصیلی فیصلہ بہت اہم ہے۔ سال 2002 کے الیکشن کے نتیجہ میں بہوجن سماج پارٹی اتر پردیش میں بمشکل حکومت بنا پائی تھی۔
کسی بھی پارٹی کے پاس واضح اکثریت نہ ہونے کے باعث مشکلات سے دوچار گرتی ہوئی بہوجن سماج پارٹی کی حکومت نے گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کی قرارداد منظور کی تو اس وقت کے اپوزیشن لیڈر سماج وادی پارٹی کے راہنما نے گورنر سے استدعا کی کہ اسے حکومت بنانے کے لیے مدعو کیا جائے۔ بہوجن سماج پارٹی کے 13 ارکان نے بھی گورنر سے ملاقات کر کے سماج وادی پارٹی کے راہنما کو حکومت بنانے کے لیے مدعو کرنے کی حمایت کردی۔
بہوجن سماج پارٹی کی طرف سے ان 13 ارکان کو پارٹی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی میں شامل ہونے کے الزام میں نا اہل قرار دینے کے لیے درخواست سپیکر کے پاس جمع کروا دی۔ اس وقت تک چونکہ ابھی پارٹی میں کم از کم ایک تہائی ارکان کی طرف سے split ہو کر الگ ہونے کی آئین میں اجازت موجود تھی، لہذا بہوجن سماج پارٹی کی طرف سے 13 ارکان کے خلاف نا اہلی کی درخواست سپیکر کے پاس جمع ہونے کے بعد بہوجن سماج پارٹی کے 109 میں سے 40 ارکان جن میں گورنر سے ملاقات کرنے والے 13 ارکان بھی شامل تھے نے سپیکر کو ان کے split کو جائز قرار دینے کی درخواست دے دی۔
یہ معاملہ سپیکر سے ہوتا ہوا ہائیکورٹ اور پھر انڈین سپریم کورٹ میں جا پہنچا۔ انڈین سپریم کورٹ نے اس فیصلہ میں جو قانونی نکات طے کیے ان میں سے دو پاکستانی تناظر میں بہت اہم ہیں۔ ایک تو یہ کہ ڈیفیکشن کے نتیجہ میں نا اہلی کا فیصلہ جب بھی ہو یہ ex post facto ہو گا۔ یعنی یہ ڈیفیکشن ہونے کے دن سے ہی موثر تصور ہو گا۔ مطلب یہ کہ نا اہلی کا فیصلہ خواہ جب بھی حتمی طور پر سنایا جائے لیکن متعلقہ رکن کو اسی دن سے ہی نا اہل تصور کیا جائے گا جس دن اس نے نا اہلی کا باعث بننے والا قدم عملی طور پر اٹھایا تھا۔
اس فیصلہ کی روشنی میں 13 ارکان اگر نا اہل قرار پاتے ہیں تو وہ اسی دن سے نا اہل قرار پائیں گے جس دن انہوں نے گورنر سے ملاقات کی، لہذا انہیں split ہونے والے 40 ارکان میں ایک تہائی اکثریت پوری کرنے کے لیے قانونی طور پر شمار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرا اہم نقطہ جو عدالت نے طے کیا وہ پاکستان میں موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں سب سے اہم ہے۔ عدالت کے مطابق کسی پارٹی سے مستعفی ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں متعلقہ رکن تحریری طور پر باقاعدہ استعفی دے بلکہ رکن کے کسی کنڈکٹ (عمل) سے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی چھوڑ چکا ہے، لہذا ایسی صورتحال میں بھی ڈیفیکشن کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔
انڈین سپریم کورٹ نے مذکورہ 13 ارکان کو نا اہل قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلہ میں تحریر کیا کہ ان ارکان کا اپنی پارٹی کی حکومت کی طرف سے اسمبلی کو تحلیل کیے جانے کی قرار داد منظور ہونے کے باوجود کسی دوسری پارٹی کے راہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دینے کی تائید اور حمایت میں گورنر سے ملاقات کرنا اور اپنی پارٹی کی بجائے دوسری پارٹی کے ساتھ اسمبلی کی سیٹوں پر بیٹھنا یہ infer کرنے (نتیجہ اخذ کرنے ) کے لیے کافی ہے کہ وہ اپنی پارٹی سے مستعفی ہوچکے ہیں اور وہ سماج وادی پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں اب اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے وہ اراکین جو اپنی پارٹی سے ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں اور تحریک عدم اعتماد میں اپنی ہی پارٹی کے خلاف ووٹ دینے کا عندیہ دے رہے ہیں، کیا ان کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی سے مستعفی ہو چکے ہیں؟


