بند کواڑوں کا ادب

”بند کواڑوں کا ادب“ ایک سو گیارہ صفحات پر مبنی ان چالیس اداریوں پر مشتمل مجموعہ ہے جو شاہین زیدی نے بطور مدیرہ سہ ماہی مجلہ ”نوادر“ میں تحریر کیے ۔ شاہین زیدی ادبی دنیا میں بطور شاعرہ، ناول نگار، افسانہ نویس، مبصرہ، سفرنامہ نگار اور مدیرہ خاص مقام رکھتی ہیں۔ شاہین زیدی نے مجلہ نوادر اپنے سسر ڈاکٹر سید نظیر زیدی کی یاد کو تازہ رکھنے کی خاطر نکالنا شروع کیا اس لیے اکثر اداریوں میں ان کی یادوں کے پھول، جنہیں شاہین زیدی سمیٹتی نظر آتی ہیں، بکھرے ملتے ہیں۔
اس ضمن میں ”میرے آئیڈیل“ اور ”مجلس یادگار نظیر حسین زیدی“ بطور نمونہ پیش کیے جا سکتے ہیں۔ ادب کی روح معاشرے کی روح کو زندگی سے آشنا کروانے کا گر جانتی ہے اور ادب کا خالق ادیب ہوتا ہے، اگر ادیب ہی ادبی روح کا قاتل ٹھہرے تو معاشرے کو مردہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اس اصول کو گردانتے ہوئے شاہین زیدی ”فروغ علم و ادب، ٹھٹھرتی اندھیر نگری، بہروپ کی زندگی۔ کتنی؟ ، بے سبز بہار ادب، جبر کا ادب، اور بند کواڑوں کا ادب“ میں ان ادیبوں سے خائف نظر آتی ہیں جو ادب تخلیق کرنے کی بجائے گروہوں میں بٹ کر کچا ادب اگلتے ہوئے تمغات وصول کرنے کی سعی میں سرگرداں ہیں۔
اور ساتھ ہی ”ابھی کچھ لوگ باقی ہیں“ میں پر امید بھی ہیں کہ موجودہ دور میں راکھ میں کہیں نہ کہیں چنگاری بھر رمق، جو معاشرے کو روشن رکھنے کی ضامن ہے، باقی ہے۔ اداریہ ”اردو والوں کے بغیر اردو کانفرنس“ میں اس بات پر گریہ کرتی ہیں کہ موجودہ دور میں ادب کے نام پر جو کانفرنسیں ہو رہی ہیں ان کا ادب سے در کنار ادب کے معنی تک سے تعلق نہیں۔ یار دوست ادبی کانفرنس کا ڈھونگ رچا کر ملاقات کا بہانہ تلاش کرتے ہیں اور ان لوگوں کو محفل میں مدعو کرنا کسر شان سمجھتے ہیں جو حقیقی معنوں میں ادبی روح کے پاسباں ہیں۔
بیشتر اداریے اس بات کا پرچار کرتے ہیں کہ اردو کی بقا حقیقی معنوں میں پاکستان کی بقا ہے۔ اداریہ ”لمحہ فکریہ“ میں انہوں نے یہ موقف اپنایا ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں ہر زبان کو فروغ پانے کے مواقع میسر ہیں سوائے اردو زبان کے۔ شاہین زیدی کے لئے ان کے شوہر کی موت کا صدمہ بہت بڑا تھا جس سے وہ باہر تو نہ نکل سکیں مگر ان کی یاد کی شمع کو کبھی ”اہل علم و دانش“ تو کبھی ”یادوں کے چراغ“ میں روشن کرنے میں مصروف نظر آتی ہیں۔
اس کتاب کا بہترین اداریہ ”ٹھٹھرتی کتابیں اور بھاگتے درخت“ ہے جس میں مصنفہ نے درخت کو بطور علامت استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کا تذکرہ کرنے کی سعی کی ہے جو ادب کے برگد ہیں۔ اس کے علاوہ ایک طرف معاشرے کی سیاسی صورتحال، دہشت گردی، ٹارگیٹ کلنگ پر قلم اٹھاتی ہیں تو دوسری طرف نوجوانوں کو تخلیق اور تحقیق کی طرف راغب کرنے کی خواہش مند بھی ہیں۔ آخر میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ یہ کتاب بعنوان ”بند کواڑوں کا ادب“ متنوع رنگوں کا گلدستہ ہے جس کی خوشبو سے ادبی طالب علم کو ضرور لطف اندوز ہونا چاہیے۔

