مسلمانوں کا عظیم ماضی اور موجودہ اسلامو فوبیا


مسلمان جو ایک عظیم الشان ماضی رکھتے ہیں۔ مسلمان جن کے قبضے میں صدیوں تک دنیا کی حکومت رہی۔ کوئی قوم ترچھی نگاہ ڈالنے کی تاب نہ رکھتی تھی، اس کے فرزند اسلامی جھنڈا لے کر جدھر رخ کرتے بڑھتے ہی چلے جاتے تھے۔ وہ ہواؤں کا رخ موڑ دیتے، ہر میدان ان کے ہاتھ ہوتا۔ ان کی ایک صدا پر جنگل کو جانوروں نے خالی کر دیا، ان کے قدموں میں سپر طاقت (قیصر و کسریٰ ) آ گئی، جو علاقے مسلمانوں نے فتح کیے وہاں اسلامی روایات کے مطابق حکومت قائم کی۔ عثمانیہ سلطنت جس نے بڑے براعظموں پر حکمرانی کی اور مغل سلطنت جس نے بھی صدیوں تک حکمرانی کی۔ اسلام کے ان سپوتوں کی جواں مردی، ہمت و استقامت اور حوصلے کو دیکھ کر اور آج کے مسلمانوں کی بے بسی اور خستہ حالی کو دیکھ کر بے ساختہ لبوں سے یہ شعر جاری ہوتا ہے

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

زمانہ بڑی تیزی سے کروٹ لے رہا ہے اور مسلمان اسی تیزی کے ساتھ زمانے کے مصائب و آلام میں گرفتار، ہر ظلم و ستم سہنے پر مجبور، ذلت و نکبت کے دلدل میں پھنستے اور اپنے حقوق سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے شعائر کا مذاق سرراہ اڑایا جا رہا ہے اور انہیں دہشتگرد کے لقب سے بھی نوازا جا رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کو بھی پروان چڑھایا جا رہا ہے یا یوں کہہ لیں کے اس وقت دنیا کے مسلمانوں کو ایک منظم مائنڈ سیٹ اسلام فوبیا کا سامنا ہے۔

اسلامو فوبیا مسلمانوں اور اسلام کے خلاف خوف و نفرت نیز مذہب سے وابستہ کسی بھی چیز کے خلاف، جیسے مساجد، اسلامی مراکز، قرآن پاک، حجاب وغیرہ کے خلاف نفرت، خوف اور تعصب کا مجموعہ ہے۔ اسلامو فوبیا کی شناخت کیسے کی جا سکتی ہے، یہ کیسے ظاہر ہوتا ہے، جسے نہ صرف واقعات سے دیکھا جا سکتا ہے، بلکہ نقطہ نظر، بیانات، رویے اور اشارے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ ذہن میں رہتا ہے اور یہ رویوں میں جھلکتا ہے، اور یہ پرتشدد کارروائیوں سے ظاہر ہو سکتا ہے، جیسے کہ مساجد کو جلانا، املاک کی توڑ پھوڑ، سکارف پہننے والی خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنا، یا پیغمبر اسلام یا اسلام کی مقدس علامتوں کی توہین کرنا وغیرہ۔

اسلام فوبیا کے جراثیم مغرب میں ابھی کے نہی بلکہ اس مائنڈ سیٹ کی مثال ایک صدی پہلے بھی ملتی ہیں جب 1910 میں ایلین کوئلین جو کہ فرینچ بیوروکریٹ تھا نے اپنی پی ایچ ڈی کی ریسرچ میں یہ واضح لکھا کہ ”مسلمان عیسائیوں اور یورپیوں کا فطری اور ناقابل مصالحت دشمن ہے۔ اسلام تہذیب کی نفی ہے، اور بربریت، بد عقیدتگی اور ظلم کی سب سے اچھی امید اہل اسلام سے کی جا سکتی ہے۔“ لیکن اسلام فوبیا کو پچھلی دو دہائیوں کے بعد سے کچھ زیادہ ہی فروغ ملا اور یہ دنیا کے کچھ حصوں میں مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، اسلام کے خوف کو پھیلانے والی شدید مہمات اور عوامی گفتگو کے ذریعے، اور مسلمانوں، مساجد، اسلامی لباسوں، اور اسلامی انتہائی قابل احترام شخصیات کو نشانہ بنانے والے نمایاں واقعات کے ذریعے اس کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔

لیکن اس امر میں تمام اسلامی ممالک ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور کوئی خاطر خواہ اقدام نہی کر سکے کے کہ دنیا میں اسلام فوبیا کہ رجحان کو ختم کیا جا سکے گیلپ کے ایک سروے کے مطابق مغرب میں مسلمانوں کو عزت کی نگاہ سے نہی دیکھا جاتا اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر والے واقعات کی بنا پر مسلمانوں کی ایک انتہا پسند تصویر دنیا کو دکھائی گئی جو کہ بالکل حقیقت کے منافی ہے گویا یو کہ لیں کہ 9 / 11 کے دلخراش واقعے کے بعد مغربی دنیا میں مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی گئی۔ جس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جیسا کہ ماضی قریب میں نیوزی لینڈ میں ایک انتہائی دل سوز واقع دیکھنے کو ملا۔

مسلم دنیا کی جانب سے مسلم ممالک کی تعاون تنظیم او آئی سی کو اسلامو فوبیا کے رجحان پر نظر رکھنے اور رکن ممالک کو وقتاً فوقتاً رپورٹیں فراہم کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا اور رکن ممالک کو بین الاقوامی برادریوں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ جب بھی ممکن ہو دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون میں اس رجحان سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ترغیب بھی دی گئی۔ نیوزی لینڈ والے واقعے کے بعد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے تعاون سے جنرل اسمبلی میں قرار داد پیش کی گئی جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے ) نے 15 مارچ منگل کو پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی ایک قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا جس میں 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ قرارداد کو OIC کے 57 ممبران اور چین اور روس سمیت آٹھ دیگر ممالک نے اسپانسر کیا۔

کئی رکن ممالک نے اس دستاویز کو سراہا، لیکن ہندوستان، فرانس اور یورپی یونین کے نمائندوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب کہ مذہبی عدم برداشت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، اس قرارداد میں صرف اسلام کا ذکر کیا گیا ہے اور دوسروں کو خارج کر دیا گیا ہے۔ قرارداد عالمی سطح پر پاکستان کی ایک اہم کامیابی ہے لیکن اس سے اسلام فوبیا کے واقعات کس حد تک کم ہوں گے اس کا تعین تو وقت کرے گا۔ لیکن اس وقت دنیا کے مسلمانوں کو اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہم آسماں سے زمین پر آگرے ہیں

جس کی وجوہات کو میں نے تحریر کے شروع میں ایک شعر میں بند کر دیا ہے۔ امت کا کام امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے لیکن ہم آج کیا ہیں یہ ہر مسلمان خود جانتا ہے یا یوں کہ لیں ہم برائے نام مسلمان ہیں اور یہ ہی ہماری خستہ حالی کی وجہ ہے۔

Facebook Comments HS