زندگی کے علم کے چشمے
ڈیجیٹل میڈیا اپنے خیالات اور افکار کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے اور اپنی تخلیقات کو محفوظ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس بات کا مجھے تو پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا جب کراچی میں موبائل فون اور لیپ ٹوپ چھنا تھا۔ موبائل فون کئی دفعہ کھو چکا ہے اس لئے عادت سی ہو گئی تھی لیکن اس میں موجود تحریریں اور تصویریں بہت نایاب تھیں جن کا ہمیشہ ملال اور افسوس رہتا لیکن ٹیکنالوجی نے ڈیٹا محفوظ بنانے کی سہولت دے کر اس غم کو کسی حد تک کم کر دیا ہے۔ اس سہولت کا فائدہ گزشتہ دنوں اپنی ایک تحریر فیس بک میموریز میں ملی تو انداز ہوا کہ کس قدر شاندار یادداشت اور یادگار لمحہ تھا جسے ”ہم سب“ اور علم دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے۔
21 مارچ 2021 کو جناب اعظم معراج کے گھر پر معروف سیاسی ایکٹیوسٹ، مصنف اور سفر زندگی کے مسافر جناب فرخ سہیل گوئندی کے اعزاز میں ایک شام محفل کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں مجھے ناچیز کے علاوہ کراچی کے معروف صحافی، مصنف اور علم و دانش کے حامل ساتھیوں نے شرکت کی۔ جس میں جناب وارث رضا صاحب سرفہرست تھے۔ چونکہ فرخ سہیل گوئندی جناب اعظم معراج کے ساتھ ویڈیو انٹرویو کی وجہ سے مصروف تھے اور دیگر ساتھی ابھی تشریف نہیں لائے تھے لہذا مجھے وارث رضا صاحب سے گفتگو کرنے کا بھرپور وقت اور موقع ملا جو کسی بھی اعزاز اور فخر سے کم نہ تھا۔
وارث رضا صاحب نے میرے کام کے حوالے جو تجزیہ پیش کیا وہ میرے لیے انتہائی فائدہ مند تھا۔ ان کا مشاہدہ اور مشاورت انتہائی اہم تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ باتیں تمہیں وہ ہی بتا سکتا ہے جو تمہیں جانتا ہے اور تمہارے کام کو قریب سے دیکھتا ہے اور تمہاری بہتری کا خواہاں ہے۔ کچھ دیر بعد جناب فرخ سہیل گوئندی صاحب بھی ویڈیو انٹرویو سے فری ہو کر ہمارے ساتھ گفتگو میں شامل ہو گئے اور دیگر ساتھیوں بھی موقع پر پہنچ گئے۔ جن میں سینئر صحافی، معروف شاعر اور مصنف عثمان جامعی صاحب تھے جن کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”سرسید، سنتالیس اور سیکٹر انچارج“ محفل میں زیر گفتگو رہی اور اس کو خوب پذیرائی ملی۔
معروف صحافی، افسانہ نگار اور انتہائی متحرک ادیب اقبال خورشید بھی محفل میں اپنے کام اور خدمات کی وجہ سے حاضرین سے داد محصول کرتے رہے۔ صاحب علم اور صحافی رانا محمد آصف نے اپنے سوالات اور تجربات کے ذریعے محفل کو متحرک رکھا اور فرخ سہیل گوئندی کی گفتگو کو اپنے سوالات کا ایندھن فراہم کرتے رہے۔ وارث رضا صاحب کے تجزیے قابل ذکر رہے ان کے مختصر اور جامع جملے گفتگو کو نئی جہت اور توانائی دیتے رہے۔ اپنے علم، معلومات اور واضح خیالات کے ذریعے فرخ سہیل گوئندی کو متاثر کرنے والے لطیف آرائیں نے بھی ادب، ثقافت اور پنجابی زبان کے متعلق انتہائی اہم گفتگو کی۔
شام 7 بجے سے شروع ہونے والی یہ گفتگو کھانے کے وقفے کے بعد رات 30 : 11 بجے تک جاری رہی جس کا محور اور محرک جناب فرخ سہیل گوئندی صاحب ہی رہے۔ اس محفل میں کتابوں، ادب، زبان، عالمی سیاست و سیاحت، ترکی، تہذیب، ملکی حالات، بھٹو ازم، کراچی، مہم سازی اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ میرے لیے یہ لمحات انتہائی یادگار اور انمول تھے کیونکہ زندگی کے علم کے چشمے میرے سامنے رواں تھے اور میں ایک پیاسے کی طرح خاموشی سے اپنے علم کی پیاس کو زندگی کا خوبصورت اور ناقابل بیان تجربہ فراہم کر رہا تھا۔
اور خود کو خوش نصیب محسوس کر رہا تھا کہ ایسے قابل اور علم دوست انسانوں کی رفاقت سے براہ راست زندگی کے تجربات سیکھنے کو مل رہے تھے۔
ایسی محفل جو کسی بھی یونیورسٹی کے کئی سمیسٹرز، کئی جگہوں کے سفر اور کتابوں کے علم سے بڑا کر ہے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو زندگی میں زندگی کے علم کے چشموں کے پاس رہتے ہیں۔ شکریہ جناب اعظم معراج اور فرخ سہیل گوئندی صاحب اس یادگار محفل کو برپا کرنے کے لئے۔ کاش ایسی محفلیں کراچی شہر کی رونقوں کو بحال کرنے کے لئے جاری رہیں۔


