جذبات کی عکاسی


ننھی سی انگلی سے شیشے پر جمی دھول پر اپنا نام لکھا اور کلاس بھی۔ ہیڈ ماسٹر کے قدموں کی آواز آتے ہی میں نے ان کی کار کا شیشہ فورا اپنی چھوٹی چھوٹی ہتھیلیوں سے صاف کرنا شروع کر دیا۔ ہیڈ ٹیچر جب تک میرے کارناموں کا مظاہرہ کر چکی تھیں اور یوں میری کلاس لگی۔ بچپن میں جس نظم نے مجھے شدید متاثر کیا وہ تھی ”ابو لائے موٹر کار! اس کے نیچے پہیے چار! پہلے تو لگتا تھا کہ ابو کی کار ہو گی اور وہ مجھے سکول سے لینے آیا کریں گے مگر دسویں جماعت تک پہنچ کریہ حقیقت کھل چکی تھی کہ مڈل کلاس فیملیز کے لئے یہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔

پھر دل ہی دل میں۔ میں اس مشن پر نکل پڑی کہ جب میں خود کماؤں گی تو سب سے پہلے کار خریدوں گی۔ کالج میں میری ایک سہیلی کے گھر میں گاڑی تھی ایک دن میں اسے بازار میں اس کی امی کے ساتھ دیکھا وہ کس شان سے اپنی گاڑی سے اتری اس کے نیلے رنگ کی چمچماتی ہوئی کار نے میری خواہش کو اور پروان چڑھایا اور یوں میں نے موازنہ کرنا شروع کیا کہ کار ہوتی ہے تو نہ ہی رستے کی گرمی نہ ہاتھوں میں سامان کے تھیلے کا بوجھ اور نہ ہی بس کے دھکے ارادے میں پختگی آ گئی کہ میں بھی ایک دن ایسی کار میں اپنی امی کے ہمراہ شان سے سفر کروں گی۔

پہلی جاب کی تنخواہ سے میں نے مٹی کا ایک گلک خریدا جس میں کار خریدنے کے لیے پیسے جوڑنے کی مہم چلا دی اور اپنی ہر تنخواہ سے کچھ پیسے اس میں ڈالنے لگی۔ وقت کے ساتھ تعلیم میں اضافہ ہوا، محنت میں اور تنخواہ میں بھی۔ کبھی بہن کی شادی کبھی گھر کی مرمت کبھی بجلی کے بلوں کا پہاڑ تو کبھی عید کی تیاریاں، بڑھتی تنخواہ کے ساتھ ذمے داریاں بھی بڑھنے لگی اور کار خریدنے کی جدوجہد دبنے لگی۔ امی کے پیروں میں درد رہتا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ میں بازار نہیں جا سکتی لہذا شوق اب ضرورت کی شکل اختیار کر چکی ہے مگر کار کی قیمت تو آسمان سے جا لگی ہے جہاں نگاہیں پہنچتی ہیں ہاتھ نہیں! اب تو روزمرہ کی آمدنی سے روزمرہ کی ضرورت پوری کرنا ہی روز مرہ کی جدوجہد ہے۔ بچپن کا وہ خواب اب بھی خواب ہے اور ہم 3 سے 23 کے ہو گئے۔

Facebook Comments HS