نو جوان سرکاری ملازم کی آپ بیتی

پلیٹ میں موجود دال کے ساتھ روٹی کا نوالہ بناتے ہوئے کسی سوچ میں گم تھی کھانے کی ٹیبل پر موجود بابا کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ جی بابا! کھانا کیوں نہیں کھا رہی کب سے دیکھ رہا ہوں آخر کس سوچ میں ہو؟ کسی سوچ میں نہیں بابا بس یوں ہی۔ آج کل تم سویرے واک پر بھی نہیں جا رہی سب خیر تو ہے بابا نے تفتیشی انداز سے پوچھا۔ بس تھکن کی وجہ سے میں نے

Read more

غیر متوازن

دروازے کو منہ پر مارے اپنا فیصلہ سنا کر پیروں کو پٹختا اپنی موٹر سائیکل پر سوار گھر سے باہر نکلنے والا خود سر مرد، اور گھر کے کسی کونے پر منہ میں دوپٹہ دبائے اپنی چاہت اور سسکیوں کو چھپاتے ہوئے رب کے حضور سر خم کیے دنیا کے ہاتھوں ذلیل و مجبور عورت! دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ دین نے یہ ترازو غیر متوازن نہیں رکھا یہ کمال تو معاشرے کا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کے عورت کو

Read more

عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر

پسینے میں شرابور، اشک بار آنکھوں کو بند کیے مصلحے پر ماتھا رگڑتی رہی ظاہری تو جسم پر کوئی چوٹ نہیں لگی تھی مگر پورا وجود دل پر لگی چوٹ کا ماتم منا رہا تھا۔ اندھیرے کمرے میں جس طرح میرا وجود نظر نہیں آ رہا تھا ٹھیک اسی طرح میں نظر نہیں آنا چاہتی تھی منظر سے غائب ہوجانا چاہتی تھی۔ بے شک اللہ ہاتھ پاؤں اور جسم سے پاک ہے مگر جائے نماز پر خدا کو سجدہ کرنے

Read more

جذبات کی عکاسی۔۔۔بولتی قبریں

میں نے دونوں ہاتھوں میں مٹھائیاں دبا کر ، دانتوں کو دانتوں پر جما کر زبان کو قید کر رکھا تھا۔ اگرچہ خود سے آدھی عمر چھوٹی بہن کی زبان سے کردار کشی کی گولیوں نے میرے دل پر ایسے وار کیا کہ جیسے چہرہ غم کی بہاروں سے داغ دار ہو اور ہر اس اپنے کی جانب سے الگ طرح کے رنگین جملے اور طعنے جسم کو چیر روح کو چھلنی کر رہے ہوں۔ رات گئے کمرے میں آرام

Read more

ایک سفر رانیوں کے ساتھ

بیگ میں لیپ ٹاپ رکھنے کی وجہ سے کندھے اس قدر دکھ رہے تھے کے میں کسی بھی بس پر چڑھ جاتی مگر آفس سے لیٹ نکلنے کی وجہ سے نہ تو کوئی بس نظر آ رہی تھی نہ ہی رکشہ، ایک عام انسان کی طرح سب سے پہلے تو میں نے سسٹم کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے ہر اس شے کو برا بھلا کہا جسے ٹھیک کرنا میرے بس میں نہیں تھا۔ مگر جب ہاتھ اٹھا کے گھڑی دیکھی

Read more

جذبات کی عکاسی

ننھی سی انگلی سے شیشے پر جمی دھول پر اپنا نام لکھا اور کلاس بھی۔ ہیڈ ماسٹر کے قدموں کی آواز آتے ہی میں نے ان کی کار کا شیشہ فورا اپنی چھوٹی چھوٹی ہتھیلیوں سے صاف کرنا شروع کر دیا۔ ہیڈ ٹیچر جب تک میرے کارناموں کا مظاہرہ کر چکی تھیں اور یوں میری کلاس لگی۔ بچپن میں جس نظم نے مجھے شدید متاثر کیا وہ تھی ”ابو لائے موٹر کار! اس کے نیچے پہیے چار! پہلے تو لگتا

Read more