پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: فیصلہ کن ٹیسٹ کے آخری دن پاکستانی بلے باز میچ بچانے کے لیے کوشاں


امام الحق
لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیموں کے مابین تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے آخری دن کا کھیل جب شروع ہوا تو سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال تھا کہ آسٹریلوی کپتان کے اننگز ڈیکلیئر کرنے کے دلیرانہ فیصلے کے بعد بابر اعظم کی ٹیم کیا میچ جیتنے کے لیے میدان میں اترے گی یا پھر میچ ڈرا کرنا اس کا مقصد ہو گا۔

اس سوال کا جواب میدان میں اور میدان سے باہر موجود تمام شائقین اور ماہرین کو پہلے ہی سیشن میں پاکستانی بلے بازوں کی سست بلے بازی سے مل گیا۔

اب سے کچھ دیر قبل تک پاکستان نے دوسری اننگز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 166 رنز بنا لیے تھے اور اسے فتح کے لیے 47 اوورز میں مزید 185 رنز درکار تھے۔

اس وقت کریز پر کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان موجود ہیں اور یہ وہی جوڑی ہے جس نے کراچی ٹیسٹ میں کلیدی اننگز کھیل کر آسٹریلیا کو سیریز میں سبقت لینے سے باز رکھا تھا۔

جب جمعے کو کھیل کا آغاز ہوا تو پاکستان کو فتح کے لیے مزید 278 رنز درکار تھے اور اس کی تمام وکٹیں باقی تھیں مگر پاکستانی اوپنرز گذشتہ روز کے سکور میں صرف چار رنز کا اضافہ ہی کر سکے اور 77 کے سکور پر عبداللہ شفیق کو کیمرون گرین نے وکٹوں کے پیچھے کیچ کروا کے مہمان ٹیم کو پہلی کامیابی دلوا دی۔

اس اننگز کے دوران عبداللہ شفیق کو کئی مواقع ملے۔ جہاں چوتھے دن کے اختتامی لمحات میں سٹیو سمتھ نے ان کا آسان کیچ گرایا وہیں ڈی آر ایس کے باعث وہ اپنے خلاف دیے گئے ایک فیصلے کو تبدیل کروانے میں کامیاب رہے۔

پانچویں دن آسٹریلیا کو دوسری وکٹ کے لیے بھی زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور اظہر علی صرف 17 رنز بنانے کے بعد اس اننگز میں نیتھن لیون کی پہلی وکٹ بنے۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی سکور 105 رنز تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’خان صاحب کا تو علم نہیں لیکن آسٹریلیا نے اپنا پتا پھینک دیا، اب پاکستان کی باری ہے‘

فواد عالم کا کھڑے ہونے کا انداز پھر زیر بحث، سٹارک کی رضوان کو کی گئی گیند کے چرچے

’شاید پاکستان کو خوابوں کا پیس اٹیک مل گیا ہے‘

آج کمِنز کا بھی ’یومِ پاکستان‘ تھا

لیکن بابر اعظم سر اٹھا کے جیے۔۔۔

راولپنڈی ٹیسٹ میچ میں دو سنچریاں بنانے والے امام الحق اور کپتان بابر اعظم نے لنچ تک سست روی سے بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور پاکستان کی رن بنانے کی اوسط فی اوور تین رنز سے کم ہی رہی۔

بابر اعظم

بابر اعظم سے پاکستانی ٹیم کو ایک مرتبہ پھر ویسی ہی اننگز درکار ہے جیسی انھوں نے کراچی ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں کھیلی تھی

کھانے کے وقفے کے فوراً بعد لیون کی امام الحق کو ایک مخصوص لائن پر کھلانے کی مشق اس وقت بارآور ثابت ہوئی جب وہ سلی مڈآف پر سٹیو سمتھ کو کیچ دے بیٹھے۔

اس نقصان کے بعد پاکستانی بلے باز مزید محتاط ہو گئے اور واضح نظر آنے لگا کہ ان کا مقصد اب میچ ڈرا کرنا ہے۔

تاہم آسٹریلوی بولرز کی جانب سے مثبت بولنگ کا ثمر انھیں جلد ہی فواد عالم کی وکٹ کی شکل میں ملا۔ پہلی اننگز میں مچل سٹارک کی گیند پر بولڈ ہونے والے فواد کو اس مرتبہ کپتان پیٹ کمنز نے ایل بی ڈبلیو کیا۔ فواد عالم نے علیم ڈار کے فیصلے کے خلاف تھرڈ امپائر سے مدد چاہی مگر وہ بھی ان کے کام نہ آ سکے۔

خیال رہے کہ اس میچ کے ڈرا ہونے کی صورت میں جہاں ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر آسٹریلیا کی پہلی پوزیشن تو برقرار رہے گی وہیں پاکستان اپنی دوسری پوزیشن کھو کر چوتھے نمبر پر چلا جائے گا۔ تاہم اگر پاکستان یہ میچ جیت جائے تو وہ پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست آ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp