گوگل کی دنیا اور ہم سب
نیم حکیم کو خطرہ جان کہتے ہیں کیوں کہ مختصر علم میں نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس کی جدید دور کی مثال گوگل ڈاکٹر کی شکل میں ملتی ہے۔ کسی جاننے والے کی بیماری کا پتا چلے تو سب سے پہلے ہم گوگل کھولتے ہیں۔ تیمارداری بعد میں کرتے ہیں، مشوروں کی کتاب پہلے تیار کرتے ہیں اور پھر ملنے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر کسی مریض کو کوئی مشورہ یا دوائی دے تو مریض کو یقین نہیں آتا جب تک گوگل تصدیق نہ کر دے۔ ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائی خرید بھی لیں تو اس پر پوری سائنسی تحقیق کر ڈالتے ہیں، گوگل اجازت دے تو ہی کھاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ڈاکٹر سے ملاقات کے وقت بھی گوگل کا حوالہ دے کر بات کرتے ہیں۔ اگر ڈاکٹر اور گوگل میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑ جائے تو ڈاکٹر تبدیل کر لیتے ہیں، گویا کہ گوگل کا علم ایک ڈگری ہولڈر اور اعلی تعلیم یافتہ فرد سے زیادہ سمجھا جاتا ہے۔
دراصل بیماری کی تشخیص یا دوا کی تلاش کے لیے گوگل سرچ انجن کا استعمال عقلمندی نہیں ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف بیماری کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ فکرمندی اور ڈپریشن کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔ بیماری کا خوف بیماری سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ گوگل اور اس سے منسلک ویب سائٹس پر بغیر کسی روک ٹوک کے ہر طرح کی معلومات اور مختلف بیماریوں کی ملتی جلتی علامات موجود ہوتی ہیں، عین ممکن ہے کہ معمولی سی تکلیف کا پتا کریں اور گوگل آپ کو کسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کی خبر دے دے۔ اس لئے نیم حکیم یا گوگل ڈاکٹر بننے سے پرہیز ضروری ہے۔
بلا شک و شبہ گوگل معلومات کا خزانہ ہے۔ دوران پرواز جہازوں کو ٹریک کرنا ہو یا ان کے اوقات معلوم کرنے ہوں، گوگل حاضر ہے۔ گوگل نے ہمارے لئے موبائل فون میں محفوظ ضروری معلومات کے بیک اپ کی سہولت بھی مہیا کر رکھی ہے، گیلری ہو یا فون نمبرز، گوگل ان سب کو محفوظ کر کے بوقت ضرورت مہیا کر دیتا ہے۔ گوگل پلے سٹور کے بغیر تو ہر کوئی نا مکمل ہے۔
کسی لفظ کے معنی دیکھنے ہوں یا کوئی جملہ بنانے میں مدد درکار ہو، ایک زبان کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنا ہو یا کسی غیر ملکی سے گفتگو کرنی ہو، گوگل آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔ اس بات سے ایک قصہ یاد آ گیا۔ کچھ مہینے پہلے اخبار میں خبر پڑھی تھی کہ ایک 28 سالہ پاکستانی جوان نے خود سے عمر میں تقریباً تین گنا بڑی خاتون سے شادی کر لی تھی جس کا تعلق پولینڈ سے تھا، دلہن کی عمر بتانے کی ضرورت نہیں رہی البتہ ان کی شادی میں گوگل کا کیا کردار رہا یہ بات کر لیتے ہیں۔ دلہا کا کہنا تھا کہ اس کی اہلیہ کو اردو سمجھ نہیں آتی اور وہ آغاز سے ہی بات کرنے کے لیے گوگل ٹرانسلیٹر کا استعمال کرتے رہے ہیں۔
جن افراد کو صحیح انگریزی یا ای میلز لکھنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے وہ بھی گوگل کے ذریعے اپنی تحریر کو درست کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں نظام تعلیم کی خامیوں کی وجہ سے بی اے اور ایم اے پاس بیشتر افراد درست انگریزی لکھنے سے قاصر ہیں، گوگل ان کا بہترین مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
سٹاک مارکیٹ کا اتار چڑھاؤ دیکھنا ہو، پیپر کرنسی کی قیمت دیکھنی ہو یا ڈیجیٹل کرنسی کے ریٹ پر نظر ڈالنی ہو، گوگل سے چند لمحات میں مدد لی جا سکتی ہے۔
ماضی میں کسی نئے مقام پر پہنچنا ناصرف مشکل ہوتا تھا بلکہ اضافی وقت درکار ہوتا تھا، گوگل نے یہ مشکل بھی آسان کردی ہے۔ ایک غیر تعلیم یافتہ آدمی بھی گوگل میپ کے ذریعے با آسانی سفر کر سکتا ہے اور منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔ گھر بیٹھے گوگل ارتھ کے ذریعے پوری دنیا کی سیر کی جا سکتی ہے۔
موسم کا حال پوچھنا ہو یا کسی بھی جگہ کا درجہ حرارت دیکھنا ہو، گوگل کی سہولیات دستیاب ہیں۔ تمام کاروباری ویب سائٹس کی تلاش بھی آسانی سے گوگل کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
فوائد کے ساتھ ساتھ گوگل کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ گوگل نے معلومات کے حصول کو اتنا آسان بنا دیا ہے کہ انسان آرام طلب ہو گیا ہے، لائبریری جانا اور علم کے حصول کے لئے تگ و دو کرنا کم ہو گیا ہے۔
گوگل سے حاصل ہونے والی معلومات میں صحیح اور غلط، مستند اور غیر مستند سب کچھ موجود ہوتا ہے اور متعلقہ موضوع یا شعبہ کا ماہر آسانی سے پہچان سکتا ہے۔ گوگل میپ کبھی کبھی بند گلیوں میں بھی پہنچا دیتا ہے اس لیے اپنے ہوش و حواس بھی قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ موبائل فون میں موجود ذاتی نوعیت کی معلومات اب ذاتی نہیں رہی ہیں بلکہ سب کچھ گوگل کے پاس موجود اور محفوظ ہے۔
جب بھی ہم گوگل پر کسی چیز کی تلاش کرتے ہیں تو گوگل کو ہماری پسند، شوق، ترجیحات اور عادات کے بارے میں معلومات پہنچ جاتی ہیں۔ اسی لئے اکثر آپ نے دیکھا ہو گا کہ ویب سائٹس پر نظر آنے والے اشتہارات ہمارے رجحان سے مطابقت رکھتے ہیں۔ انٹرنیٹ اور گوگل کے آنے سے پہلے یادداشت پر بہت انحصار ہوتا تھا لیکن اب دماغ کا استعمال کم ہو گیا ہے کیوں کہ معلومات ہر وقت انٹرنیٹ کے ذریعے با آسانی دستیاب ہیں۔
بہرحال انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے فوائد سے انکار ممکن نہیں ہے۔ گوگل یقینی طور پر ایک انسائیکلوپیڈیا ہے جو آج کل کے ترقی یافتہ زمانے کی ایک بہترین ایجاد ہے، یہ ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے اور ہم اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اس کے بغیر شاید ایک دن گزارنا بھی ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال اچھے مقاصد کے لئے کیا جائے اور ہر اس کام سے احتیاط برتیں جو ہماری مذہبی تعلیمات، ملکی قوانین اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہو


