ابسولوٹلی ناٹ

قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کرنے کے بجائے کپتان شہر شہر اپوزیشن راہنماؤں کو للکارتے بھی پھر رہے ہیں۔ اور مذہب کارڈ استعمال کر کے اپنے سپورٹرز کو جذباتی طور پر اشتعال بھی دلا رہے ہیں۔ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کو نیکی اور بدی کی جنگ قرار دیتے ہوئے قوم سے حمایت مانگ لی ہے۔ عمران خان اپوزیشن کے تین بڑے راہنماؤں کے بارے میں جس قسم کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ وہ ان کے منصب کے شایان شان نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو فائٹر بھی سمجھتے ہیں۔ اور پارلیمنٹ سے فرار کی راہ بھی اختیار کر رہے ہیں۔ آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر اسد قیصر اپوزیشن سے نظریں ملانے سے ہچکچا رہے تھے۔ انہوں نے ایک مرحوم رکن قومی اسمبلی کی وفات پر فاتحہ خوانی کرانے کے بعد بڑی عجلت میں اجلاس ملتوی کر دیا۔
وزیراعظم دراصل اسٹیبلشمنٹ پر پریشر ڈال کر اس کو اپنا نیوٹرل رول ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ملکی وسائل اور صوبائی حکومتوں کی مدد سے کثیر تعداد کو اکٹھا کر کے خان صاحب طاقتور قوتوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں۔ کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اب بھی ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے 27 مارچ کے جلسے کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ہونے والا یہ جلسہ انہیں موجودہ بحرانی صورت حال سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی لیے خان صاحب نے اپنے تمام وسائل اس جلسے کے لیے وقف کر دیے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے کارکنوں نے جلسے کی مناسبت سے ایسے بینرز اور پوسٹرز شاہراہوں پر لٹکا دیے ہیں۔ جن پر مذہبی عبارات اور قرآنی آیات کنندہ کی گئی ہیں۔ تاکہ لوگوں کو یہ باور کرایا جا سکے۔ کہ کرپٹ اپوزیشن عمران خان جیسے صادق اور امین لیڈر کے خلاف صف آرا ہے۔
تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑے حیران ہیں۔ کہ وزیراعظم کیا کرنے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی اس سوچ میں مبتلا ہے کہ ان کے پاس کون سا ترپ کا پتہ ہے۔ جسے بروئے کار لا کر وہ بازی پلٹ دیں گے۔ حالانکہ پارلیمان میں وہ بری طرح پٹ چکے ہیں۔
صحافی حضرات نے مختلف نوعیت کے تبصروں کے ذریعے لوگوں کے دماغ ماؤف کر کے رکھ دیے ہیں۔ بقول ان کے شاید خان صاحب اہم ترین شخصیت سے استعفی بھی مانگ سکتے ہیں۔ یا اپنی من پسند شخصیت یا کسی غیر متنازعہ شخص کی تعیناتی کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ ہر کوئی دور کی کوڑی لا رہا ہے۔ اس حوالے سے مبصرین وزیراعظم کی حال ہی میں چند صحافیوں سے ملاقات کا تذکرہ بھی کر رہے ہیں۔ جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا، دیکھتے ہیں کون استعفی دیتا ہے۔ وزیراعظم کا یہ بیان بڑا معنی خیز ہے۔
خان صاحب معاملے کو پارلیمان میں حل کرنے کے بجائے سڑکوں پر لا کر اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں۔ کہ انہیں جمہوریت کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ وہ گزشتہ پندرہ دنوں سے سڑکوں پر ہیں۔ اسی وجہ سے امور مملکت بھی ٹھپ ہوچکے ہیں۔ معیشت ویسے ہی زبوں حالی کا شکار ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس بھی التوا کا شکار چلے آرہے ہیں۔ بیوروکریسی بھی تذبذب کا شکار ہے۔ فائلوں کا ڈھیر وزیراعظم کی میز پر پڑا فیصلوں کا منتظر ہے۔ تاکہ کاروبار سلطنت چلے۔
مگر وہ این آر او نہیں دوں گا، ایک گیند سے تین وکٹیں اڑاؤں گا۔ اور تین چوہوں کا شکار کروں گا، کی گردان میں مصروف ہیں۔ عمران خان نے ساڑھے تین سالوں میں سینکڑوں دفعہ این آر او نہیں دوں گا، کا نعرہ بلند کیا ہو گا۔ مگر اب وہ خود ایک ایک ممبر قومی اسمبلی اور اتحادی جماعتوں سے این آر او کے متمنی ہیں۔ لیکن انہیں ہر جگہ سے کورا جواب مل رہا ہے۔ اب تو شاید پاکستان کی طاقتور ترین شخصیت نے بھی انہیں Absolutely Not کہہ دیا ہے۔ جو وزیراعظم کے لیے انتہائی پریشان کن بات ہے۔ 23 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ میں آرمی چیف اور وزیراعظم عمران خان کی باڈی لینگویج کو مبصرین نے حکومت کے لیے مایوس کن قرار دیا ہے۔ مانسہرہ کے جلسے میں خان صاحب کی تقریر سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ کہ اسٹیبلشمنٹ کا دست شفقت اب ان کے سر پر نہیں رہا۔
موجودہ نا موافق حالات میں کوئی معجزہ ہی ان کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچا سکتا ہے۔ قومی اسمبلی کے منحرف اراکین کی اکثریت ابھی تک اپوزیشن کیمپ میں موجود ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ اس بات پر غور کر رہی ہے۔ کہ منحرف اراکین اسمبلی کی سزا تاحیات نا اہلی ہونی چاہیے۔ یا آئین پاکستان کے مطابق انہیں صرف ڈی سیٹ کرنا کافی ہو گا۔
سپریم کورٹ میں دائر صدارتی ریفرنس کو دیکھتے ہوئے متحدہ اپوزیشن نے اپنا فوکس حکومت کے اتحادیوں پر مرکوز کر دیا ہے۔ تاکہ کسی غیرمتوقع فیصلے کی وجہ سے ان کی اکثریت کم نہ ہو سکے۔
تحریک عدم اگر ناکام بھی ہوتی ہے تب بھی موجودہ حکومت کا اپنی مدت پوری کرنا ناممکن ہو گا۔ کیوں کہ اپوزیشن عمران خان کی حکومت کو سکون کے ساتھ چلنے نہیں دے گی۔ اس کے علاوہ اخلاقی طور پر وزیراعظم کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا اپنا جواز کھو دے گا۔

