سابقہ فاٹا اور بلدیاتی انتخابات
پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی بار نئے ضم شدہ اضلاع میں اکتیس مارچ کو بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں جو کہ قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت و احسن اقدام ہے۔ پہلے تو سابقہ فاٹا جیسے انتہائی بیک ورڈ علاقے سے اتنی زیادہ تعداد میں امیدواروں کا آنا خوش آئند بات ہے اور زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پہلی بار مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بڑی تعداد الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔ صرف ضلع شمالی وزیرستان سے تین سو ایک جبکہ جنوبی وزیرستان سے ایک سو ستائیس نشستوں پر خواتین الیکشن لڑنے کے لئے اتری ہیں۔
یہ پوری دنیا کو ہماری بہتر سوچ و مثبت امیج دکھانے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جوں ہی الیکشن قریب ہوتے جا رہے ہیں ہر جگہ سیاسی ماحول میں گرما گرمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ الیکشن کمپین میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت سے یہ اندازہ لگ رہا ہے کہ ضم اضلاع کے لوگوں میں بالخصوص نوجوانوں میں سیاسی شعور بیدار ہو چکا ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ کیونکہ سیاست میں اختلاف سوچ کی ہوتی ہے نہ کہ شخصیت کی، سیاست میں نظریاتی مخالفت ہوتی ہے مگر ذاتیات کی نہیں۔
عنقریب سابقہ فاٹا کے نوجوان سیاست میں نام پیدا کریں گے۔ حکومت وقت سے اپیل ہے کہ وہ اکتیس مارچ کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لئے پولنگ اسٹیشن پر بہترین انتظامات کریں تاکہ ووٹ ڈالتے وقت درمیان میں کوئی خلل نہ پڑے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اکتیس مارچ کو پولنگ اسٹیشن کا رخ کریں۔ اور اپنے لئے ان امیدواروں کا چناؤ کریں جو علاقے کی بنیادی مسائل کو اجاگر کریں۔ تعلیم، ترقی اور بہتر مستقبل و خوشحالی کے لئے کام کریں۔ سارے نوجوانوں کی بہتر اور روشن مستقبل کے لئے دعا گو ہوں۔

