کیا ”یس مین“ کا مجسمہ بنے رہنا ذہنی صلاحیتوں کی توہین نہیں ہے؟


خوابوں و خیالوں کی جنت بہت حسین ہوتی ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی تگ و دو یا جستجو نہیں کرنا پڑتی بلکہ تصور یاراں ہی کافی ہوتا ہے، یہ ایک ایسی ذہنی کیفیت ہوتی ہے جس میں ایک ان دیکھا سا سرور ہوتا ہے، جس کے میٹھے سحر میں کھو کر ایک قیمتی و باصلاحیت بندہ آہستہ آہستہ ضائع ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب حالات کے بے رحم تھپیڑوں سے آنکھ کھلتی ہے تو ادراک ہوتا ہے کہ جو خواب بیچنے والے تھے وہ کروڑوں اربوں کے مالک بن کر ایک شاہی زندگی بسر کر رہے ہیں اور جھوٹے خوابوں سے بہلنے والے وہی دکھوں اور مصائب و آلام سے بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

آخر یہ اتنا بڑا تضاد کیوں ہے؟ خواب دکھانے والے ایک بھرپور زندگی کے مالک جب کہ خوابوں سے بہلنے والے ایک بامشقت زندگی کے مالک؟ آخر یہ چکر کیا ہے؟ دنیا کو مثل مردار اور گھٹیا سمجھنے والے عالیشان بنگلوں کے مالک اور ان کی باتوں میں آ کر اپنا تھوڑا بہت بھی قربان کر دینے والے ساری عمر اپنے اور اپنے بچوں کے لئے ایک بہتر زندگی کا بندوبست نہیں کر پاتے؟ روحانی و مذہبی خوابوں سے بہلانے والوں کے بچے یورپ یعنی کافروں کے ملک میں تعلیم حاصل کر کے وہیں کے ہو کر ایک سیکولر لائف انجوائے کرتے ہیں جب کہ خوابوں سے بہلنے والوں کے بچے پھٹے ٹاٹ اور ٹوٹے ہوئے ڈیسکوں پر بیٹھ کر بمشکل میٹرک کر کے ریڑھیاں لگا کر ساری عمر اپنی لائف کو دھکا لگاتے رہتے ہیں اور صبر و شکر کے ساتھ اسی روایتی سرکل آف لائف پر اکتفا کر لیتے ہیں۔

خدا سب کا مگر مالک و مختار چند لوگ؟ کیا یہ خدائی تقسیم ہے یا چند ذہین قسم کے مداریوں کا رچایا ہوا چکر ہے؟ المیہ یہ ہے کہ ان پسے اور بدحال لوگوں کے ذہنوں میں ان مفاد پرستوں نے کمپیوٹر پروگرامنگ کی طرح یہ پیغام بھی فیڈ کیا ہوا ہے کہ جو اللہ کے کاموں میں لگے ہوتے ہیں مثلاً مذہبی پنڈت وغیرہ، ان پر مالک کا خاص کرم ہوتا ہے اسی لیے ان پر پیسہ عاشق ہو جاتا ہے اور یہ بھولا بھالا طبقہ اسی بات کو حقیقت مان لیتا ہے اور اپنے دکھوں کو ایک طرف کر کے اپنے بچوں کے لئے کمائے گئے چند روپوں میں سے عبادت کی غرض سے اسی مالک کی رضا کی خاطر جس نے انہیں ریڑھی کا مالک بنایا ہے ان چنیدہ قسم کے لوگوں کے غلے میں ڈالتا رہتا ہے جنہیں مالک نے پہلے ہی بزنس ٹائیکون بنایا ہوا ہوتا ہے۔

ہائے یہ معصومیت بمقابلہ شعبدہ بازیاں؟ دماغ لگانے کے لئے بھی تو فرصت اور تھوڑی سی بے فکری چاہیے ہوتی ہے مگر طبقہ مزدوراں کو اتنا ہوش کہاں؟ یا روٹی پوری کر لیں یا سوچ بچار؟ روٹی کے چکروں میں ہی سب کچھ لٹ جاتا ہے۔ ان دکھ بھری باتوں کا مقصد آپ کے ساتھ ایک سٹوڈنٹ کا مائنڈ سیٹ شیئر کرنا ہے جو ایک دکھ بھری زندگی کو بھی اپنے مالک کی طرف سے ایک آزمائش سمجھتا ہے اور صبر شکر سے زندگی کو دھکا لگانے میں مصروف ہے۔

جب کبھی میرے پاس کوچنگ کی غرض سے آتا ہے تو اس کی زندگی کا یہ معمول ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ اعمال اپنے ثواب کے ذخیرہ کو وسیع کرنے کی غرض سے مجھے اور میرے کلاس کے دوسرے طلباء کو بتاتا رہتا ہے اور ہم سب کو تلقین کرتا ہے کہ یہ اعمال آپ نے دوسروں تک لازمی پہنچا نے ہیں تاکہ آپ کے ثواب کا میٹر بھی آن ہو جائے۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ یہ باتیں تم کہاں سے سیکھتے ہو؟ یہ باتیں میں اپنے ٹاؤن کے امام صاحب سے سیکھتا ہوں وہ ایک طرح سے میرے دوست بن چکے ہیں۔

میں نے پوچھا کہ کیا امام صاحب کے بچے سکول جاتے ہیں؟ اس کا کہنا تھا کہ امام صاحب کے بچے ایک مہنگے ترین انگریزی سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان کا یہ خواب ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بڑے عہدوں پر براجمان دیکھیں۔ میں نے پلٹ کر پوچھا کہ اتنے وی آئی پی اور مہنگے ترین کالجز کے باوجود تم نے ایک معمولی سے سرکاری کالج میں داخلہ کیوں لیا ہے؟ اس کا کہنا تھا کہ میرے ابو مہنگا کالج افورڈ نہیں کر سکتے اور میرے چھوٹے بہن بھائی بھی عام سے سکول میں پڑھتے ہیں۔

میں نے پوچھا تمہارے والد کیا کام کرتے ہیں؟ اس کا کہنا تھا کہ وہ شروع سے ہی ریڑھی لگاتے ہیں اور بس اللہ کا شکر ہے گھر چلتا رہتا ہے۔ میں نے تجسس سے پوچھا کہ ایک شاہی مسجد کا خطیب اپنے بچوں کی تعلیم کی خاطر مہنگے اداروں کا انتخاب کرتا ہے جب کہ آپ کے والد مہنگی تعلیم افورڈ نہیں کر سکتے ایسا کیوں؟ سر ہم غریب لوگ ہیں اور ہمارے ریسورسز و لنکس بھی اتنے زیادہ نہیں ہیں مگر خطیب صاحب پر مالک کا خاص کرم ہے کیونکہ وہ خود کو ساری زندگی کے لیے مالک کو وقف کر چکے ہیں اسی وجہ سے زندگی اور زندگی کی نعمتیں ان پر مہربان ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اس نے اس بات کا حوالہ بڑے اطمینان و سکون کے ساتھ مذہبی کتب سے ثابت بھی کر دیا۔ میں نے سوال کیا کہ کیا تم جانتے ہو کہ ہمارے علاقہ کے جو نامی گرامی خطیب ہیں وہ ہمارے شہر کے بزنس ٹائیکون بن چکے ہیں اور ان کے بچے بیرون ملک میں ایک شاہی زندگی بسر کر رہے ہیں؟ ذرا سوچو یہ مالک کی کیسی رحمت کی بارش ہے جو صرف چند برگزیدہ لوگوں پر برستی ہے اور کروڑوں لوگ اس سے محروم رہ کر چیونٹیوں کی طرح رینگنے پر مجبور ہیں؟

مگر حیرت کی بات ہے کہ اس سدھائے ہوئے سٹوڈنٹ کے پاس صرف ایک ہی جواب تھا کہ یہ مالک کے چنیدہ لوگ ہیں۔ سوچتا ہوں کہ یہ بے بسی کا کیسا لیول ہے جو ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے مگر نشان کوئی نہیں چھوڑتا اور المیہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوان اسے مالک کی تقسیم سمجھتے ہیں۔ ہماری مذہبی کلاس کی تو پانچوں گھی میں ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور ہم جیسوں کو دنیا سے بچنے پر آخرت میں بہت کچھ ملنے کا دلاسا اور خود کے لیے دنیا بھی ہماری اور آخرت بھی ہماری ہے۔ میں نے فرسٹ ائر کے بھولے بھالے سٹوڈنٹ سے پوچھا کہ کیا تمہارے ذہن میں سوالات پیدا نہیں ہوتے؟ سر بے حساب مگر جب کبھی خطیب صاحب سے پوچھنے کی کوشش کی تو کہہ کر دیتے ہیں کہ مذہب تسلیم کرنے کا نام ہے نا کہ سوال کرنے کا۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا ”یس مین“ کا مجسمہ بنے رہنا ذہنی صلاحیتوں کی توہین نہیں ہے؟

  • 01/04/2022 at 11:39 صبح
    Permalink

    بے حد محبت آپ کی کاوشوں پر۔ بہت شکریہ

Comments are closed.