سرکاری مردم شماری اور اقلیتوں کے تحفظات


سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غیر مسلم پاکستانیوں ( اقلیتوں ) کی آبادی میں اضافے کے بجائے کمی ہوئی ہے 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق غیر مسلم پاکستانیوں ( مذہبی اقلیتوں ) کی آبادی 1998 کی نسبت 3.37 فیصد سے کم ہو کر 2017 میں 3.52 فیصد رہ گئی ہے مجموعی طور پر 19 سالوں میں اقلیتوں کی آبادی میں 0.21 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ 1998 سے 2017 تک مجموعی آبادی میں 56.92 فیصد کے لگ بھگ اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسیحی آبادی میں 25.71 فیصد ’ہندوں کی آبادی میں 70.62 فیصد اور شیڈول کاسٹ کی آبادی میں 157.58 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کے برعکس قادیانی /احمدی آبادی میں 35.71 فیصد اضافہ ہوا ہے ان اعداد و شمار کے مطابق دیگر مذہب ( پارسی‘ بدھ مت وغیرہ ) کی آبادی میں 60 فیصد کمی ہوئی ہے۔

یہ وہ اعداد و شمار ہیں جن کی وجہ سے غیر مسلم پاکستانی ( مذہبی اقلیتوں ) مردم شماری کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں۔ پاکستان میں آخری بار مردم شماری سال 2017 میں کی گئی تھی اسے چھٹی۔ یہی وہ مردم شماری ہے جس پر مذہبی اقلیتوں ’خواجہ سراؤں‘ افراد باہم معذوری ’سول سوسائٹی سمیت سیاسی جماعتوں نے بھی اعتراضات اٹھائے تھے جبکہ حکومت نے بھی 2021 میں چھٹی مردم شماری کے نتائج کا اعلان کرنے ساتھ ہی اس پر اٹھائے گئے اعتراضات کو کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے اگست 2022 میں نئی مردم شماری کروانے کا اعلان کیا تھا۔

اگست میں ہونے والی اس مردم شماری کے لئے تیاریاں جاری ہیں حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ رواں سال ہونے والی یہ مردم شماری روایتی طریقے سے ہٹ کر ڈیجیٹل طریقے کرائی جا رہی ہے جس کے لئے مردم شماری کرنے والوں کو خصوصی ٹیبلٹ یا موبائل فون دیے جائیں گے جن میں ایسا سافٹ وئیر ہو گا جس کے ساتھ موقع پر افراد کا اندراج کیا جا سکے گا ایک خود کار طریقہ کار کے تحت اندراج کے ساتھ ہی یہ ڈیٹا مرکزی ڈیٹا بیس میں منتقل ہو جائے گا جس کی وجہ سے اس میں دوبارہ رد و بدل نہیں ہو سکے گا۔

حکومتی کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ ڈیجٹل طریقے سے کی گئی اس مردم شماری کے نتائج حقیقی ہوں گے اور ان میں کسی قسم کا رد و بدل نہیں کیا جا سکے گا۔ حکومتی دعوے اپنی جگہ درست تاہم کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ نئی مردم شماری سے قبل اقلیتوں کے تحفظات دور کیے جاتے‘ کوئی ایسا کمشن تشکیل دیا جاتا جس میں اقلیتوں سمیت پاکستان بھر کے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور سیاسی جماعتوں کے نمائندگان کو شامل کیا جاتا اور ان کی تجاویز کی روشنی میں مردم شماری کا طریقہ کا ر طے کیا جاتا تا کہ اس حوالے سے کسی قسم کا ابہام نہ رہتا مگر ایسا نہیں کیا ’بظاہر پہلی بار ڈیجیٹل طریقے سے مردم شماری ہونے جا رہی ہے مگر طریقہ کار وہی ہے‘ اسی طریقہ وہی ہے۔

وہی اساتذہ گھروں پر جاکر افراد شماری کریں گے جو کہ پہلے ہی کرتے تھے تاہم اب کی بار ان کے ہاتھ میں پینسل رجسٹر کے بجائے ٹیبلٹ یا اینڈرائیڈ موبائل ہو گا مذہبی اقلیتوں کی جانب سے نئی مردم شماری کے اعلان کو خوش آئند تو قرار دیا جا رہا ہے مگر یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا کہ مردم شماری کے عمل کو مزید بہتر بنانے کے لئے اسے اگلے سال تک موخر کر دیا جائے اور مارچ یا اپریل میں مکمل تیاری کے ساتھ مردم شماری کروائی جائے ’اس حوالے سے سول سوسائٹی کے نمائندگان کا کہنا ہے کہ مردم شماری سے قبل آگہی مہم چلائی جائے جس کے ذریعے ہر پاکستانی ( مہاجرین‘ اقلیتی افراد ’خواجہ سراؤں‘ خانہ بدوشوں ) کو درست معلومات فراہم کرنے کے لئے آمادہ کیا جائے ’اقلیتی آبادیوں کے سروے اور سرکاری عملے کی مدد کے لئے مقامی رضاکاروں کو شامل کیا جائے اور اس امر پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے کہ مذہب اور مادری زبان کے خانے میں درست کوائف لکھوائے جائیں تاکہ مذہبی و ثقافتی رنگا رنگی کی حقیقی تصویر سامنے آئے علاوہ ازیں افراد شماری کے بعد بے ضابطگیوں کے بروقت اور موثر تدارک کے لئے ادارہ شماریات کے ضلعی دفتر میں شکایات کے اندراج کا طریقہ کار بھی وضع ہونا چاہیے تاکہ باقی ماندہ افراد کا اندراج ممکن بنایا جا سکے۔

Facebook Comments HS