مردان کار کا عجوبہ

شاعر مشرق نے بیسویں صدی کے وسط میں مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ؎
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
قائداعظم ان تینوں صفات کا حسین مرقع تھے اور جہاد زندگانی میں یہی ان کی شمشیریں تھیں۔ وہ جب اس نتیجے تک پہنچ گئے کہ انڈین کانگرس کی تمام جدوجہد ہندوستان میں ہندو راج قائم کرنے کے لیے ہے، تو انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک جداگانہ وطن کا حصول اپنا مشن بنا لیا اور جناب قمرالدین خاں کے ذریعے امیر جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی تک پیغام پہنچایا کہ آپ اسلامی ریاست کے لیے مرادن کار تیار کرنے کا عظیم کام جاری رکھیں جبکہ میں اسلام کے لیے سرزمین حاصل کرنے کی جدوجہد کرتا رہوں گا۔ جماعت اسلامی لاہور کے مقام پر اگست 1941 میں قائم ہوئی۔ جلد ہی اس کا مرکز دارالسلام (پٹھان کوٹ) منتقل ہو گیا۔ وہاں دعوت و تربیت کا سلسلہ پوری یک سوئی سے جاری رہا۔ پاکستان کے قیام کا اعلان ہوتے ہی مولانا لاہور منتقل ہو گئے اور کئی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد 5۔ ذیلدار پارک اچھرہ میں رہائش پذیر ہوئے۔
جماعت اسلامی کی بنیاد اعلیٰ انسانی اخلاقیات اور اسلام کی سربلندی پر رکھی گئی تھی۔ ایسے افراد تیار کرنا مقصود تھے جو اپنی سیرت و کردار میں سرور دوعالم حضرت محمد ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے قریب تر ہوں۔ رویوں میں شائستگی، وقت کی پابندی، مالی معاملات میں شفافیت، اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک، مزاج میں اعتدال پایا جاتا ہو۔ جماعت کے اجتماعات ٹھیک وقت پر شروع ہوتے اور ختم ہو جاتے۔ ان میں دلیل کے ساتھ سنجیدہ گفتگو ہوتی۔
جماعت اسلامی کے اندر ایک ایسا کلچر فروغ پا رہا تھا جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لیے یکسر اجنبی تھا۔ مجھے وقت کی پابندی کا ایک واقعہ نصف صدی سے زیادہ گزر جانے کے بعد بھی یاد ہے۔ یہ 1950 کے اوائل کا ذکر ہے۔ ان دنوں سید ابوالاعلیٰ مودودی ’تحفظ اخلاق‘ کی تحریک چلا رہے تھے اور وائی ایم سی اے ہال میں ایک تقریب سے خطاب کرنے کا پروگرام تھا۔ میں شرکت کے لیے وہاں پہنچا، تو گیٹ پر میری اپنے بھتیجے اسرار احمد سے ملاقات ہو گئی جو کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں زیرتعلیم تھے اور اسلامی جمعیت طلبہ کی انتخابی سیاست میں بڑے فعال تھے۔
آگے چل کر وہ اسلامی دنیا میں ڈاکٹر اسرار احمد کے نام سے معروف ہوئے۔ ہم دونوں ایک ساتھ ہال میں داخل ہوئے اور ایک دوسرے کے برابر بیٹھ گئے۔ تقریب شروع ہونے میں ابھی دس منٹ باقی تھے اور ہم بے چینی سے مولانا کی آمد کے منتظر تھے۔ دس منٹ گزر گئے اور مولانا تشریف نہیں لائے۔ مجھ سے اپنے بھتیجے کا اضطراب دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ اگر مولانا بھی وقت کی پابندی نہیں کریں گے، تو جماعت اور جمعیت میں یہ اعلیٰ روایت کیونکر مستحکم ہو گی؟ پانچ منٹ کی تاخیر سے مولانا تشریف آئے اور اپنے خطاب سے پہلے تاخیر سے آنے پر معذرت کی۔ یہ ہماری سیاسی تاریخ کا پہلا نہایت خوشگوار واقعہ تھا۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی عوام کی خدمت اور ان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت پر خاص توجہ دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنے دفتروں کے اندر یا ان سے متصل عمارت میں دارالمطالعے قائم کرنے کی روایت ڈالی جہاں اخبارات و رسائل کے علاوہ درسی اور دینی کتابیں بھی دستیاب تھیں۔ محلے کے لوگ اور طالب علم آتے اور معلومات افزا کتابوں سے استفادہ کرتے۔ بعد ازاں بڑی متانت اور شائستگی سے مسائل پر تبادلۂ خیال کیا جاتا اور یوں قومی شعور پروان چڑھتا رہتا۔
ذہنی آسودگی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کا بھی خاص خیال رکھا جاتا۔ جماعت اسلامی نے شعبۂ خدمت خلق منظم کیا جس کے تحت قریے قریے گشتی شفاخانے قائم ہوئے جو محلے محلے جاتے اور مریضوں کا علاج کرتے۔ دیہات میں بھی بیمار لوگ ان کا انتظار کرتے۔ اس طرح عوام کی فلاح و بہبود کا کام خوش اسلوبی سے فروغ پاتا رہا۔ مولانا نے اپنے کارکنوں اور ہمدردوں میں یہ بات ذہن نشین کر دی تھی کہ خدمت خلق کسی مقصد کا ذریعہ نہیں، بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک بڑا مقصد ہے اور قرب الٰہی کا نہایت موثر ذریعہ ہے۔
جماعت اسلامی کا ایک بہت بڑا مقصد سیاسی کلچر میں اسلامی ثقافت کا فروغ اور اچھی قیادت کی تعمیر تھا۔ مولانا بار بار تاکید فرماتے رہے کہ اختلاف اور احتجاج کے دوران قانون کی پابندی اور ہر مرحلے میں شائستگی کا مظاہرہ ایک مسلم شہری کے لیے لازمی ہے۔ انہوں نے اجتماعی مطالبات کے حق میں جلوس بھی نکالے اور احتجاج بھی کیا، لیکن یہ سب کچھ تہذیب اور شائستگی کی حدود میں ہوا اور نئے نئے پرامن طریقے ایجاد کیے گئے۔ جماعت اسلامی کی ہر سرگرمی اور جدوجہد میں بلا کا نظم اور وقار ہوتا۔
بعض اوقات ’خاموش احتجاج‘ کئی روز تک جاری رہتا جو عوام کی سیاسی تربیت کا نہایت اچھا طریقہ تھا۔ ہر دور میں حکومتوں کا یہی معمول رہا ہے کہ اپوزیشن کا احتجاج روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دیتیں جس کی رو سے پانچ افراد ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے تھے۔ حکومت کے اس حربے کی قوت زائل کرنے کے لیے جماعت اسلامی نے چار چار افراد کی ٹیمیں بنانا اور ان کے درمیان فاصلہ رکھنے کا باقاعدگی سے اہتمام کیا۔ اس طرح قانون شکنی بھی نہ ہوتی اور احتجاج کا مقصد بھی پورا ہو جاتا۔
جماعت اسلامی کے منظم، پرامن اور مہذب مظاہروں کی قوت عشروں تک قائم رہی اور چند ماہ قبل بھی یہ سر چڑھ کر بولی ہے۔ گوادر میں جماعت اسلامی کے پرامن احتجاج میں ہزاروں نوجوان اور شہری کئی ماہ موسم کی سختیوں کے باوجود شریک رہے اور گوادر کے شہریوں کے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اسی طرح کراچی کے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں ایک ماہ کے لگ بھگ نہایت پرامن احتجاج جاری رہا۔ کہیں ایک گملا ٹوٹا نہ کوئی نکسیر پھوٹی اور سندھ کی حکومت بلدیاتی قوانین میں مطلوبہ تبدیلیاں لانے پر مجبور ہو گئی۔ جماعت اسلامی کا احتجاجی اسلوب آج کے پرفتن عہد میں فتح یاب ہو رہا ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ وہ بالآخر قوم کے مزاج کا حصہ بن جائے گا۔ یہی مردان کار کا بہت بڑا عجوبہ ہو گا۔

