عمران خان کا الوداعی خطبہ
کچھ لوگ کبھی یہ بات نہیں مانیں گے کہ عمران خان ایک نا اہل اور خود پسند انسان ہے جو اپنے اقتدار کے لئے پورے ملک کو داؤ پر لگا سکتا ہے۔ تاہم یہ بات تاریخ میں ریکارڈ پر رہے گی کہ عمران خان کو جب قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں رہی تو انہوں نے ایک سفارتی بریف کو بنیاد بنا کر اپنے اقتدار کے خلاف ’غیر ملکی سازش‘ کا ڈھول پیٹنے کی کوشش کی۔
واشنگٹن میں سابق پاکستانی سفیر کے لکھے اس سفارتی مراسلہ کو سیاسی بازی گری کا حصہ بنا کر عمران خان نے آنے والی کسی بھی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے اور پاکستان کے خارجہ تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ آج قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جس مراسلہ کی بنیاد پر قومی غیرت کی عمارت استوار کرنے کی کوشش کی ہے، وہ ایک معمول کی سفارتی کارروائی ہے جسے وزارت خارجہ میں بین الملکی تعلقات کے جائزہ کے دوران استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مختلف دارالحکومتوں میں پائی جانے والی تشویش دور کی جا سکے اور بہتر طریقے سے پاکستان کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ کسی ملک کے وزیر اعظم نے کبھی اپنے ہی سفیر کے اندازوں پر مبنی کسی سفارتی مراسلہ کو ’بیرونی سازش‘ کا ثبوت قرار دینے کی کوشش نہیں کی ہوگی۔ تاہم قومی اسمبلی میں اکثریت کا اعتماد کھو دینے اور اپنی ہی پارٹی میں وسیع توڑ پھوڑ کا سامنا کرنے بعد عمران خان چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح پاکستانی عوام کو وہ یہ کہہ کر گمراہ کرسکیں کہ ان کے سوا کوئی اس ملک پر حکمرانی کا اہل نہیں ہے۔
لگتا ہے عمران خان کو کسی بادشاہ کے گھر پیدا ہونا چاہیے تھا تاکہ ملک کی سربراہی انہیں وراثت میں ہی مل جاتی۔ بدقسمتی سے وہ ایک سرکاری اہل کار کے گھر پیدا ہوئے اور کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی لیکن اس کے بدلے میں وہ پاکستان پر مطلق العنان حاکمیت کا تاحیات پروانہ چاہتے ہیں۔ ستر برس کی عمر کو پہنچنے والے کسی شخص کی ایسی ہوس اقتدار سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ عمران خان نے گزشتہ تین ہفتے کے دوران اپنا اقتدار بچانے کے لئے دھونس، دھمکی، کاسہ لیسی، منت سماجت اور خوشامد کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے منہ میاں مٹھو کے مصداق خود کو غیرت مند اور پاکستانی مفاد کا اکلوتا رکھوالا قرار دینا چاہتے ہیں۔ عمران خان کے نظریہ کے مطابق اگر اس ملک میں ان کے علاوہ سب دھوکے باز اور وطن فروش ہیں تو پھر سوچنا چاہیے کہ ایسا ملک کیسے اپنے ہونے کا جواز فراہم کر سکتا ہے؟ اپنا اقتدار بچانے اور مستقبل کے سیاسی مشن کے لئے ایک نیا ’نعرہ‘ ایجاد کرنے کے لئے بطور وزیر اعظم قوم سے خطاب میں عمران خان نے جو بے سر و پا باتیں عوام کو ذہن نشین کروانے کی کوشش کی ہے، وہ پوری پاکستانی قوم کے منہ پر کالک پوتنے کے مترادف ہے۔ اس طرز عمل پر عمران خان کو خود اپنے آپ سے گھن محسوس کرنی چاہیے۔ آج کی تقریر نے اس غیرت اور خود داری کے کفن میں آخری کیل ٹھونک دی ہے جسے عمران خان اپنا طرہ امتیاز قرار دیتے ہیں۔
آج معمولی سی سمجھ بوجھ رکھنے والے شخص کو بھی علم ہو گیا ہے کہ شکست سامنے دیکھ کر عمران خان بوکھلا چکے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی کے ساتھ ملی بھگت کے نتیجے میں انہیں بدستور اتوار تک وزیر اعظم رہنے کا جو موقع ملا ہے، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے سرکاری وسائل اور عوام کے اختیار کردہ عہدہ کو ذاتی پبلسٹی اور دوسروں کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈا کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ عدم اعتماد کا سامنا کرنے والے کسی وزیر اعظم کا یہ رویہ کسی قومی جرم سے کم نہیں ہے۔ جو شخص جمہوری طریقہ سے منتخب ہو کر اقتدار میں آنے کا دعوے دار ہے، وہ اسی جمہوری طریقے سے اقتدار چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس سے زیادہ شکست خوردہ ذہنیت اور کیا ہوگی۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی میچ ہارنے کے بعد بھی ہارنے والی ٹیم کا کپتان ’بیرونی سازش‘ کا عذر تراش کر ہار ماننے سے انکار کردے۔ عمران خان نے ساری زندگی کرکٹ کھیلی ہے لیکن بدقسمتی سے وہ ایک اچھے سپورٹس مین نہ بن سکے ورنہ آج سیاسی ہزیمت کے اس مرحلے پر وہ وقار اور متانت کا مظاہرہ کرتے اور باعزت طریقے سے اقتدار اپنے جانشین کے حوالے کر کے اپوزیشن کے بنچوں پر جا بیٹھتے۔
ابھی اس سفارتی مراسلہ کی اصابت اور پس منظر کا تعین ہونا باقی ہے جسے بنیاد بنا کر عمران خان یہ جھوٹا اور گمراہ کن دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی حکومت کے خلاف امریکہ میں سازش تیار کی گئی اور اپوزیشن لیڈر اپنے مفاد کے لئے اس سازش کا حصہ بن گئے۔ قوم سے خطاب میں عمران خان نے پہلے امریکہ کا نام لیا لیکن ساتھ ہی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ نہیں امریکہ نہیں ایک غیر ملک، گویا ان میں اب بھی اتنی ہمت و حوصلہ نہیں ہے کہ وہ الزام لگا رہے ہیں تو یہ جرات بھی کر سکتے کہ اس ملک کا نام لے لیتے جہاں سے سبک دوش ہونے والے پاکستانی سفیر نے یہ مراسلہ لکھا تھا۔ ابھی یہ تحقیق ہونا باقی ہے کہ کس کی ’ہدایت و مشورہ‘ پر اسد مجید خان نے امریکی حکام سے اپنی ملاقات کی بنیاد پر یہ مراسلہ اور تجزیہ ایک سفارتی مراسلے میں وزارت خارجہ کو بھیجا تھا جسے شاہ محمود قریشی کے ’پاک اور بے گناہ‘ ہاتھوں عمران خان تک پہنچایا گیا۔ جس روز ان واقعات کی کڑیاں ملا لی گئیں، اس روز یہ بات بھی اظہر امن الشمس ہو جائے گی کہ حقیقی سازش کس نے کی تھی اور اس کا کرتا دھرتا کون تھا۔ امید کرنی چاہیے کی آنے والی حکومت دیگر مصروفیات میں سب سے پہلے اس معاملہ پر توجہ دے گی اور ان کرداروں کو سامنے لایا جائے گا جو اس سفارتی مراسلے کے درپردہ مصروف عمل رہے ہیں۔ پاکستان کے قومی مفاد کے علاوہ خارجہ تعلقات کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ اس معاملہ پر اعلیٰ اختیاراتی عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ اس کمیشن کی تمام کارروائی کو عام لوگوں کے مشاہدہ کے لئے کھلا رکھا جائے اور کمیشن کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی تحقیقات عوام کے سامنے پیش کرے اور ماضی کی طرح اسے حکومت وقت کے حوالے کر کے اہم قومی معاملات کو عوام سے چھپانے کا اہتمام نہ ہو۔
عوام کو سچ بتانے کے دعوے دار عمران خان نے قوم سے خطاب میں غیر ملکی سازش کی جزئیات تو تفصیل سے بیان کیں اور ان سے خود ہی ایک سازشی جال بن کر سادہ لوح عام پاکستانی کو اس میں پھانسنے کی کوشش تو ضرور کی لیکن انہیں دیانت داری سے یہ سچ بیان کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ گزشتہ تین روز کے دوران بار بار فوجی قیادت سے کس ’خفیہ قومی مشن‘ کی تکمیل کے لئے ملاقاتیں کرتے رہے تھے۔ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ وہ قوم سے جو خطاب بدھ کو کرنے والے تھے، اسے جمعرات تک کیوں مؤخر کیا گیا۔ اس دوران وہ کون سا فارمولا تھا جس کے تحت عمران خان نے اپوزیشن کو یہ پیغام بھجوایا تھا کہ انہیں ’فیس سیونگ‘ کا موقع دیا جائے اور اپوزیشن نے جب انہیں ’این آر او‘ دینے سے انکار کر دیا تو سازشی تھیوری کو مرچ مصالحہ لگا کر بیچنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد وہ عوام کو ایک نئے نعرے کے پیچھے لگا کر اس ملک میں مسلسل انتشار اور بے چینی کی کیفیت پیدا کرسکیں۔
عمران خان کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ انہوں نے اپنے سیاسی وسیم اکرم عثمان بزدار کو کن حالات میں استعفی دینے کا حکم دیا اور چوہدری پرویز الہیٰ کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے کی پیش کش قبول کرنے پر کیسے آمادہ کیا گیا تھا؟ یہ ایک علیحدہ کہانی ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لالچ میں چوہدری پرویز الہیٰ ایسی سیاسی ٹھوکر کھا بیٹھے، جس کا خمیازہ ان کے پورے خاندان کو بھگتنا پڑے گا۔
عمران خان سچ ہی جاننا یا بتانا چاہتے ہیں تو انہیں یہ بتانا چاہیے تھا کہ قومی اسمبلی کی اکثریت کیوں ان کے خلاف ہو چکی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ وزارت اعلیٰ کے وعدے کے باوجود مسلم لیگ (ق) میں پھوٹ پڑ گئی، بلوچستان عوامی پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان کو جاتے جاتے یہ سچ تو مان ہی لینا چاہیے تھا کہ ان کی پارٹی کے جو ارکان اب ان کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر جہانگیر ترین کے جہاز میں بھر بھر کر بنی گالہ لایا جاتا تھا اور عمران خان ایک ایک کے گلے میں تحریک انصاف کا مفلر ڈالتے ہوئے ’ایک اور وکٹ اڑا دی‘ کا نعرہ لگاتے تھے۔ انہیں بتانے سے زیادہ یہ جاننا چاہیے تھا کہ کیوں ملکی اسٹبلشمنٹ ان سے عاجز آ چکی ہے اور وہ کیا وجوہات ہیں کہ ملک معاشی ابتری، سیاسی بحران اور سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے۔ جس دست شفقت کی وجہ سے عمران خان کی حکومت قائم ہوئی تھی، اس کے نیوٹرل ہو جانے پر ہی یہ متزلزل ہو رہی ہے اور اب اتوار کو اس کا حتمی ڈراپ سین بھی ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نیوٹرل ہونے کو حیوانی خصوصیت کہنے پر ’مجبور‘ ہو گئے تھے۔
سیاسی مطلب برآری کے لئے عمران خان نے ہر طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن یہ نہیں جان پائے کہ ساڑھے تین سال میں وہ امور حکومت چلانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ جو اپوزیشن اس وقت قومی اسمبلی میں اکثریت کی بنیاد پر عمران خان کو وزارت عظمی کے سنگھاسن سے کھینچ کر اتارنا چاہتی ہے، وہ تو کل تک سینیٹ میں اکثریت کے باوجود بھی اپنی مرضی کا کوئی فیصلہ کروانے کے قابل بھی نہیں تھی۔ اپوزیشن اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے میں اسٹبلشمنٹ کی آلہ کار بنی ہے تو اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا لیکن بظاہر یہی لگتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ ہائبرڈ انتظام کے تحت لائے گئے عمران خان جیسے نا اہل وزیر اعظم کی غلطیوں کا مزید بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی جس کی وجہ سے اسے ملکی انتظامی اور سیاسی معاملات میں مداخلت سے دست کش ہونا پڑا۔ یہی عمران خان کے سیاسی زوال کی اصل وجہ ہے۔ انہوں نے اقتدار کے لئے جو سہارے تلاش کیے تھے، اب وہ مزید ان کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ دگرگوں معاشی حالت سے صرف عام شہری کی زندگی ہی اجیرن نہیں ہوئی، فوج کو بھی دفاعی اخراجات میں کمی کا براہ راست اثر قبول کرنا پڑا ہے۔ دفاعی بجٹ میں کسی سیاسی اقتصادی حکمت عملی کی وجہ سے کمی نہیں کی گئی تھی بلکہ ملک کے پاس یہ مصارف برداشت کرنے کے وسائل ہی نہیں تھے۔
عمران خان نیا پاکستان بنانے کا نعرہ لگاتے تھے لیکن کوئی بھی لیڈر اپنے سوا سب کو وطن فروش قرار دے کر ترقی کا سفر شروع نہیں کر سکتا۔ عمران خان نے وسیع تر سیاسی مفاہمت کے اصول کو ہر مرحلے پر مسترد کیا۔ انہوں نے مخالف سیاسی لیڈروں کو چور لٹیرے قرار دے کر اپنا سیاسی سکہ چلانے کی کوشش کی۔ بالآخر ’فیس سیونگ‘ کے لئے انہی کی منت کرنا پڑی۔ اپوزیشن نے اگر سیاسی مفاہمت سے گریز کیا ہے تو اس کی ساری ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔ بوکھلا ہٹ میں انہوں نے ’چور لٹیروں‘ کو ایک عالمی طاقت کی سازش کا آلہ کار قرار دینے کی کوشش ہے۔ اب وہ اپوزیشن میں رہ کر یہ مصالحہ بیچیں گے اور خود کو قائد اعظم ثانی ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ البتہ اس سوال کا جواب آنا ابھی باقی ہے کہ اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد ان کی سیاسی حیثیت و اپیل میں کیا کشش باقی رہ جائے گی۔


