ایک پڑھے لکھے جرگے کا آنکھوں دیکھا حال


جرگے (عموماً) یک طرفہ اور نا انصافی پر مبنی ہوتے ہیں، کمزور کو مضبوط روایات اور مذہبی وعیدوں سے ڈرا کر دبانے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ یہی روایات اور مذہبی تاویلات زورآور کے حق میں اکسیر کا کام کرتے ہیں۔

اگلے دن ہم ایک ”غیر روایتی“ جرگے میں مدعو تھے۔ مدعیان پڑھے لکھے اور کاروباری لوگ تھے جب کہ مدعا علیہم سارے ڈاکٹر تھے۔

مدعیوں میں سے ایک دوست یوں گویا ہوئے ”شاید گفتگو کا آغاز مجھے کرنا چاہیے، کیوں کہ جب رقم دی گئی تھی تو وہ میری موجودگی میں۔ بلکہ میں نے خود گن کر دی تھی۔ اس لیے اس معاملے کا مجھ سے براہ راست تعلق یوں بھی ہے کہ میں اس میں ضامن ہوں“ ۔ انھوں نے واقعے کا مختصر سا پس منظر بیان کیا اور یوں بات سے بات چل نکلی۔ دونوں فریق بولتے رہے، ایک دوسرے کو دھیمے سروں میں ٹوکتے بھی رہے، کبھی ایک دوسرے کی تصحیح کرتے رہے، بیچ بیچ میں ایک ڈاکٹر صاحب ماحول کو یخ بستگی سے بچانے کے لیے چٹکلے چھوڑتے رہے۔

ایک شاعر مزاج مدعی کے بھاری بھر کم الفاظ اکثر ڈاکٹروں کے اوپر سے گزر جاتے تھے، یہاں تک کہ جب ایک مقام پر انھوں نے ایک ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ ”بیٹا! احکام حق کو تاویلوں سے پابند نہ بناوٴ“ تو ڈاکٹر صاحب بولے ”میں کون ہوتا ہوں پابند بنانے والا“ ۔ ڈاکٹر صاحب نے چالاکی سے اپنی لاج خود رکھی اور اگلوں پر رعب بھی پڑ گیا کہ اتنے مشکل جملے کو بھی وہ سمجھ گئے ہیں حالاں کہ ڈاکٹر صاحب بہ زبان جسم بتا رہے تھے کہ ”کچھ پلے نہیں پڑا“

دونوں فریقوں کے کچھ مشیر کبھی ایک دوسرے کے کان میں کھسر پسر کرتے اور کبھی (یہ کہہ کر کہ ہم مشورہ کر کے آتے ہیں ) باہر چلے جاتے۔ اندر رہ جانے والوں میں جب بات بگڑنے لگتی یا آواز کی پچ اونچی ہونے لگتی تو ساتھ بیٹھا ہوا دوست اپنے ہاتھ کا پنجا آرام سے اوپر سے نیچے کر کے اشارہ کر دیتا۔

مدعا علیہم میں سے ایک ڈاکٹر نے تجویز پیش کی کہ ”آپس کے مشورے اور تمام گفتگو سننے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نقصان چوں کہ دونوں فریقوں کا ہوا ہے، اس لیے تاوان بھی دونوں کو ایک جیسا بھرنا چاہیے، یعنی آدھا آدھا۔ آدھی رقم کا آدھا حصہ ہم ابھی دے دیتے ہیں اور باقی آدھا حصہ تین مہینے کی مدت میں ادا کیا جائے گا۔“

مدعیوں میں سے ایک شخص نے جواب دیا ”جرگے کا ہمیشہ سے ایک اصول ہے کہ اگر فیصلہ آدھے آدھے پر ہونا ہو تو پھر رقم موقع پر ادا کی جاتی ہے، مزید وقت اس صورت میں دیا جاتا ہے جب آدھی رقم سے زیادہ پر دونوں متفق ہوں۔“ اس بات سے مخالف فریق کے ایک ڈاکٹر صاحب بھی متفق تھے۔

بہرحال آخری فیصلہ اس بات پر ہوا کہ ایک مہینے کی مدت میں مدعی کو ساٹھ فی صد رقم ادا کی جائے گی اور باقی چالیس فی صد وہ (مدعی) اپنا تاوان یا نقصان تصور کر لیں گے۔ دونوں فریق اس فیصلے پر مطمئن تھے۔

(اصولی طور پر مدعی کو پوری رقم ملنی چاہیے تھی مگر جرگوں میں ہمیشہ سے اس طرح ہوتا آیا ہے، عدالتیں بھی عموماً ایسے فیصلے سناتی ہیں کہ ایک کروڑ کی رقم پندرہ ہزار روپے مہینہ کے حساب سے ادا کی جائے کیوں کہ مدعا علیہ کے بقول اس کے پاس وہ رقم موجود ہی نہیں ہوتی تو کہاں سے ادا کرے۔ یہ پیسے بٹورنے کا درست قانونی طریقہ ہے )

جاتے جاتے ایک شخص بولا کہ ”میں نے پیسوں کا معاملہ اس خوش اسلوبی سے کبھی حل ہوتے نہیں دیکھا، آپ دونوں فریق مبارک باد کے مستحق ہیں“ ۔ اس پر مجھ ایسے ایک شوخ نے جواب دیا کہ ”معاملہ اس سے بھی زیادہ خوش اسلوبی سے اور کم وقت میں حل ہو سکتا تھا اگر مدعی ساری رقم سے دست بردار ہو جاتا“ ۔

جرگے کے اختتام پر باوقار عشائیے کا اہتمام کیا گیا تھا۔

Facebook Comments HS