خواہشات مرضی اور نمائندگی
کہتے ہیں جرمن فلسفی شوپنہار جب کبھی ہوٹل کھانا کھانے جاتا تھا۔ تو دو کھانے آرڈر کرتا تھا۔ ایک کھانا کھاتا تھا دوسرا کھانا سامنے ٹیبل پر رکھتا تھا تاکہ اس کے سامنے کوئی دوسرا آدمی نہ بیٹھ سکے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ہیگل کی کلاس میں سینکڑوں جب کہ شوپنہار کی کلاس میں بمشکل تین چار سٹوڈنٹس ہوتے تھے۔ شوپنہار کہتے ہیں اگر آپ ایک بار دھوکہ دہی میں کامیاب ہوئے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ایک مستقل فراڈیے بن گئے۔
انسانوں کو عقلی جانوروں کے طور پر ارسطو کے نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے، شوپنہار کا خیال تھا کہ لوگ واقعی غیر معقول اور مکمل طور پر اپنی خود غرضانہ خواہشات کے تحت چلتے ہیں۔ یہ ان کی زندگی کی داخلی مرضی تھی، ایک ایسی قوت جو ہر فرد کے پاس ہوتی ہے جس نے انہیں کسی بھی قسم کے استدلال یا منطق کی نفی کرتے ہوئے وجود سے چمٹے رہنے میں مدد کی۔ اگرچہ اس بیان کے مضمرات بہت دور تک پہنچ رہے ہیں، لیکن ہم یہاں عمران خان صاحب کا جائزہ لیتے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو خان صاحب نے غیر معقول اور خود غرضانہ پالیسی کو اپنایا ہوا تھا جو جی میں آیا بول دیا لیکن یہی بول یا حرکت وقت کے ماتھے پر ہورڈنگ بورڈ کی طرح چسپاں ہو جاتا تھا ایک ایک کر کے ماتھا کیا پورا وقت خان صاحب کی خود غرضانہ اور غیر معقول حرکتوں اور پالیسیوں سے بھر گیا۔ خان صاحب اتنے دور نکل گئے کہ اپنا ہر وہ جھوٹ جس کو بچہ بھی جھوٹ غیر معقول اور خود غرضانہ بیان یا حرکت سمجھتے تھے لیکن خود خان صاحب سمجھتے تھے جو وہ کہتے یا کرتے ہیں وہ ٹھیک ہے۔ چونکہ یہی عمل خان صاحب کے ساتھیوں کو خوب سمجھ آ رہا تھا اس لیے تمام ساتھیوں نے خان صاحب کے لیے تالیاں بجائیں۔
شوپنہار کے کشش کے تصورات سے ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے تعلقات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مخصوص افراد کے لیے اپنی ہوس کو ختم کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔ کچلنا، شدید تعریف، یا رغبت، اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اسے کس طرح لیبل لگانا چاہتے ہیں، دوسرے لوگوں پر ہماری اپنی خواہشات کا محض اندازہ ہو سکتا ہے، ایک ناقابل فہم پیدائشی مقناطیسیت، یا شاید سماجی کنڈیشننگ کی ایک شکل بھی۔ قطع نظر اس کے کہ کسی مخصوص شخص کے ساتھ ہمارے جادو کے پیچھے کیا وجہ ہے، یہ جاننا بہت ضروری ہے۔
مگر خان صاحب نے یہ ضروری نہیں سمجھا مخالفین کو کچلنا اور ساتھیوں سے شدید تعریف سننا مخالفین پر اپنی مرضی کا لیبل لگانا خان صاحب کی خواہشات مرضی اور نمائندگی محض اندازہ ہو سکتا تھا مگر حقیقت نہیں۔ آج بھی اگر وہ سیاست، وقت اور حالات کی نزاکت سے واقف نہیں ہوئے تو خان صاحب اپنی نارسیزم اور خوش مندیوں کی واہ واہ سے تختہ دار تک پہنچ سکتے ہیں۔ خان صاحب کو اپنی آخری تقریر میں کیا ضرورت تھی کہ بھٹو کا ذکر کریں وہ بھی بغیر کسی منطق موقع محل کے- شاید خان صاحب کو اندر سے آواز آئی ہو گی کہ اپنی مرضی کی نمائندگی اور خواہشات نے مجھے چانکیہ تو بنایا لیکن چانکیہ سکھایا نہیں باقی فیصلے خان صاحب کی تقدیر وقت حالات مولانا صاحب کی جہادی امین اور نواز شریف صاحب کی قید و بند نیم سیاسی دانش اور نیت پر چھوڑ دیتے ہیں۔ رہی زرداری صاحب کی بات تو یہاں یہ بات کوٹ کرنا مناسب ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری زرداری کو معلوم ہے سانپ کا مارنا اور لاٹھی بچانا۔

