خط میں لپٹا خان


خان جیسا پراعتماد وزیر اعظم عدم اعتماد کے ووٹ سے گھبرا جائے گا، ان کی خودی اور انا کے ساتھ کوئی ایسے کھیلے گا یہ خان کی ٹیم کے کھلاڑیوں اور چاہنے والوں کے تصور میں بھی نہ تھا۔ سیاست کے گورکھ دھندے میں ایسی زبان اور نعرے زیادہ وقت چل نہیں سکتے جو خان استعمال کرتے رہے۔ تضادات کے علم اور ہنر میں خان یکسانیت چاہتے ہیں جو ناممکن کوشش ہے۔ خان سیاست میں تقریباً 30 سال لگا کر بھی سیاسی نہیں بن سکے۔ جس کسی نے بھی ان کو سیاست میں ریاست مدینہ کی بات پکڑائی اس نے خان کو اپنے قد سے بڑا کام پکڑوا دیا۔

مولانا مودودی کا کام عمران خان سے لینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ اس منصوبہ کے ساتھ یہ ہی ہونا تھا جو آج ہو رہا ہے۔ اب جب کھیل ختم ہونے کا اعلان کر دیا گیا ہے، منتظمین وکٹیں تک اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گئے ہیں، آدھی پچ اکھیڑ دی گئی ہے، پھر بھی کپتان کے دو چار کھلاڑی بضد ہیں کے خان آخری گیند تک کھیلیں گے، بھائی وہ کھلیں گے کہاں؟ اس کا قانونی جواب اور جواز بنانے والے فروغ نسیم بھی خان الیون سے الگ ہو چکے ہیں۔

خان کا دل بہلانے کے لیے اب کھیل ختم ہو جانے والی بات کو الجھا کر وقت نکالا جا رہا ہے۔ خان کو ایک ایسے افسانوی خط میں لپٹا دیا گیا ہے۔ جو مستقبل کے بیانیے کے لیے تو کام آ سکتا ہے مگر کپتان کی کپتانی اور ٹیم کو لاحق خطرناک خطرات سے بچانے کا کام نہیں کر سکتا۔ عدم اعتماد کی تحریک سے خان کا اعتماد لرز چکا ہے۔ اب الجھا کر راج کرنے والا ناکارہ فارمولا کوئی اثر نہیں کر سکتا۔

زیرک سیاستدان اور شعبہ تعلیم کے وفاقی وزیر شفقت محمود ایک ٹی وی ٹاک شو میں تقریباً 15 منٹ اپنے دیکھنے اور سننے والوں کو صرف اس بات میں الجھائے بیٹھے تھے کے دیکھیں یہ خط نہیں مراسلہ ہے اور مراسلے کو خط نہ کہیں۔ خان اپنے اقتدار کی صبح لمبی ہونے کا سوچے ہوئے تھے مگر وہ مختصر شام ثابت کر دی گئی اور اب عددی آثار بتا رہے ہیں کے خان کے جانے کا وقت ہوا کرتا ہے۔ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے خان کے ہاتھ خالی ہیں، ان کے ہاتھ تو ہاتھ مگر ذہن بھی خالی ہے، اپنے دفاع میں اپنے تئیں قوم کے اکلوتے ایماندار وزیراعظم کے پاس اس وقت سوائے افسانوی خط کے کچھ نہیں رہا۔

انہوں نے دفاع میں دین کی دیوار کے پیچھے چھپنے کے لیے جو لغت، اصطلاحات اور محاورے اپنی تقاریر اور گفتگو میں استعمال کرنے شروع کیے ہیں وہ بھی خلق خدا کا روح گرمانے کا کام نہیں کر سکے۔ ہاتھ میں تسبیح پکڑے خان صاحب نے حزب اختلاف کو بدی اور اپنی حکومت کو علامتی طور پر نیکی کا نام دیا ہے۔ ”خان والی نیکی“ کی طرف بھی فورا لوگوں کا دل مائل نہیں ہو سکا۔ اپنی جماعت کے جوانوں کا حال یہ ہے کے اس مشکل گھڑی میں کی جانے والی انتہائی اہم تقاریر خاموش ہو کر سننے کو تیار نہیں بار بار خان صاحب کو اپنی بات سنانے کے لیے جلسہ گاہ کے شرکاء سے توجہ طلب کرنی پڑ رہی ہے، ۔ کوئی ایسے بھی کرتا ہے اپنے کپتان کے ساتھ۔ ایک طرف امپائر خان کی اپیل نہیں سن رہا، دوسری طرف کھلاڑی بھی اپیل کو وہ اہمیت نہیں دے رہے جو ان حالات میں درکار ہے۔ شاید اس ہی کو کہتے ہیں کھیل ختم۔ مگر خان یہ دل ”مانگے مور“ والی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔

کچھ سیاست کی نفاست اور لوازمات مشکل ہیں، کچھ خان کا مزاج ایسا تھا جو ان کو اقتدار راس نہیں آیا۔ اب تو ہوا ایسی چل پڑی ہے کے ماسوائے شیخ رشید کے باقی خان الیون ساری تتر بتر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ خان اپنی بہادری اور دشمن ملک کو شکستوں سے ہمکنار کرنے کی کہانی بھی دہرا رہے ہیں کے انہوں نے بھارت کے خلاف کل 23 کرکٹ میچ کھیلے جن میں سے 19 جیتے۔ مگر اب خان کی کرکٹ میں بھارت کو شکست دینے والی کہانی بھی ان کے اقتدار کو بچانے کے کام نہیں آ رہی۔

سیاسی چور اور چوہے ایک ایماندار وزیر اعظم کو نکالنے کے لیے منظم ہو گئے ہیں، ایک ایسا وزیر اعظم جو ملکی ریاست کو فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش میں مشغول رہا، جس نے دنیا میں جاکر پیسا کمانے کے بجائے اس قوم کا پیسہ چوروں اور ڈاکوؤں سے بچانے کے لئے دنیا چھوڑ کر اپنے ملک میں رہ کر وزیر اعظم بننے کے لیے جدوجہد کی۔ ان کو اب سب ساتھی چھوڑے جا رہے ہیں پھر بھی اکیلا چوروں کے خلاف کھڑا ہوا ہے اور کہتا پھر رہا ہے کے میں چھوڑوں گا کسی کو نہیں۔ قوم کو سالوں بعد کوئی دیدہ ور نصیب ہوا اس کو بھی چوروں نے برداشت نہیں کیا اور سازشیں کر کے انہیں اقتدار سے تقریباً نکال دیا ہے۔ ایک پیج پر ناز کرنے والے وزیراعظم سے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا مالکان اچانک سے پیج ہی چھین لیں گے۔

خان جھکنے والا نہیں تھا مگر کیا کرتا یہ جو 172 کی گنتی پوری کرنے کی مصیبت ان پر نازل ہوئی اس مصیبت سے نکلنے کے لئے ان کو گجرات، بہادر آباد اور کنگری ہاؤس کے دروازے دیکھنے پڑ گئے۔ پنڈی کی ہوائیں جب تک خان پر مہربان تھی، خان کو کسی کے آگے گھٹنے ٹیکنے نہیں پڑے مگر نا مہربانوں نے اچانک سے خان کے اقتداری گھٹنے ہی نکال دیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اشفاق لغاری

لکھاری، میڈیا سائنسز کا طالب علم ہے۔ پڑھنا، لکھنا، گھومنا اور سیاحت کرنا اس کے محبوب کاموں میں شامل ہیں۔

ashfaq-laghari has 27 posts and counting.See all posts by ashfaq-laghari

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments