پی ٹی آئی کا مکمل صفایا، پروگرام فائنل
عمران خان کی بیڈ لک یہ ہوئی کہ ان کو حکومت تو بنا کر دے دی گئی لیکن وہ ریت پر کھڑا تاج محل ثابت ہوا، جس تیزی کے ساتھ عمران خان کی ہنگامی طور پر ہوا بنائی گئی اور اسی تیزی سے ہوا نکال بھی دی گئی اور اس سے کہی تیزی سے ان کے خلاف محاذ کھل گئے۔ اللہ تعالی کو تکبر، غرور، انا پرستی اور میں ہرگز پسند نہیں ہیں بدقسمتی یہ ہے کہ عمران خان میں یہ چاروں چیزیں ایک ہی وقت میں پائی گئی وہ بھی جب وہ وزیراعظم بنے۔ وزیراعظم بننے سے قبل انہوں نے سب سے زیادہ شریف برادران سے مالی سمیت دیگر تمام فوائد حاصل کیے لیکن اقتدار ملنے کے بعد سب سے بڑے دشمن بھی شریف برادران تو دور ان کی فیملی کی خواتین کے دشمن بھی بن گئے۔
عمران خان اور عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں ابھی شروعات ہیں۔ عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی گنتی پوری ہی نہیں بلکہ گنتی عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن تک 200 سے زائد پہنچنے کا قوی امکان ہے۔ آصف زرداری کے متعلق مشہور یہ جوڑ توڑ کے بادشاہ اور شہباز شریف کا مصلحت پسندی میں دوسرا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ ان دونوں شخصیات نے اگر عمران خان اور تحریک انصاف کا مکمل صفایا کرنے کا بیڑا اٹھالیا تو یہ اس کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی چھوڑیں گے۔
وفاق اور پنجاب کے بعد اگلے مرحلے میں صدر عارف علوی، سپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی سپیکر کی فوراً چھٹی کرائی جائے گی۔ اس کے بعد کے پی کے میں عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے گی۔ لیکن آزاد کشمیر سے جو اطلاعات آ رہی ہیں لگتا ہے عمران خان اور عثمان بزدار کے بعد فوراً کشمیر والے نیازی صاحب کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کے بعد گلگت سے بھی تحریک انصاف کی چھٹی کرانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔
اس حوالے سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے چیف آرگنائز و سابق سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی شاہ غلام قادر کافی حد تک اپنا ہوم ورک مکمل کرچکے ہیں۔ ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر چوہدری یسین بھی پیش پیش ہیں۔ اس وقت آزاد کشمیر کا ایوان 52 ارکان پر مشتمل ہے جس میں تحریک انصاف کی 33 سیٹیں ہیں۔ جن میں دو گروپ آل ریڈی بن چکے ہیں۔ ایک گروپ عمران خان کی نئی اے ٹی ایم تنویر الیاس کا ہے۔ میرے ذرائع کے مطابق جنہوں نے وزیراعظم بننے کے لئے ایک طاقتور شخصیت کو پندرہ ارب روپے بھی دیے لیکن وہ اب تک ہضم بھی ہو چکے ہیں۔
تنویر الیاس کے ساتھ عمران خان نے علیم خان کی طرح ہاتھ کیا۔ تنویر الیاس کو بھی علیم خان کی طرح سینئر منسٹر بنا کر قصہ ختم کر دیا گیا۔ دوسرا گروپ بیرسٹر سلطان محمود کا ہے۔ جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی کے ساتھ اس وقت ایوان مین ایک بھی ایسا وزیر یا حکومتی رکن موجود نہیں جو ان کے ساتھ کھڑا ہوا۔ اپوزیشن کی ٹوٹل 19 سیٹیں ہیں جبکہ ان کو ہاؤس میں تبدیلی کے لئے صرف 7 ارکان کی مزید حمایت درکار ہے۔
اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے چیف آرگنائزر شاہ غلام قادر سے میری بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ "آزاد کشمیر میں سب کو معلوم ہے مسلم لیگ (ن) کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے۔ کشمیر میں جو وزیر اعظم بنایا گیا وہ بالکل عمران خان کی طرح برائے نام وزیراعظم ہیں۔ پاکستان میں جب تبدیلی آ جائے گی یقیناً کشمیر میں بھی تبدیلی لازمی ہوگی۔ ہم نے اس پر اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔ گزشتہ دنوں پارٹی قائد میاں نواز شریف سے لندن میں میری تفصیل سے عدم اعتماد کے معاملات پر گفتگو ہوئی ہیں انہوں نے میری بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ شاہ صاحب آپ اپنی تیاری مکمل رکھیں۔ عمران خان کے بعد آپ نے کشمیر میں بھی تبدیلی لے کر آنی ہے اس کی تمام تر ذمہ داری آپ کی ہے۔ اپنی جماعت اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اپنا ہوم ورک مکمل رکھیں۔”
شاہ صاحب نے مزید انکشاف کیا کہ کشمیر میں پی ٹی آئی کے دو گروپ ہیں، سلطان محمود، تنویر الیاس کے الگ الگ گروپ ہیں جبکہ نیازی صاحب اکیلے ہیں۔ اللہ ہے یا وہ ہیں۔ انہوں نے ایک اور انکشاف کیا کہ 22 مارچ کو پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا گیا جس میں عمران خان کے حق میں قرارداد پاس کرنا تھی لیکن 33 ارکان میں سے صرف 8 ارکان پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہنچ سکے۔
شاہ صاحب کہتے ہیں کہ "کشمیر کے سیاستدانوں کی خواہش ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی پاکستان کے ساتھ ہی الیکشن ہوں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے جو ارکان ہیں ان کا ہمارے ساتھ مکمل رابطہ ہیں۔ ہم نے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا جائے گا اور ان سے مشاورت کریں گے۔ میاں نواز شریف کا مکمل تعاون میرے ساتھ ہیں اور میں مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ میرا ایک ہی مقصد ہے کہ آزاد کشمیر میں پارٹی کو پہلے کی طرح مضبوط اور مستحکم کرنا ہے۔ میں کسی ذاتی مفاد کے لئے نہیں صرف پارٹی مضبوطی اور کشمیر کی ترقی کے لئے جدوجہد کر رہا ہوں۔ میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ میں گزشتہ کئی سالوں سے سیاست کر رہا ہوں مجھ پر کوئی ایک پیسے کا بھی الزام لگانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ میاں نواز شریف کا پیغام پارٹی کے تمام لوگوں تک پہنچا دیں گے۔ میری پہلی ترجیحی پرانے اور پارٹی کے وفادار اور مخلص ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔”
ان سے سوال پوچھا کہ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیراعظم کا امیدوار پیپلز پارٹی سے ہو گا یا مسلم لیگ (ن) سے ہو گا۔
شاہ صاحب کا کہنا تھا "اس وقت ایوان میں پی ٹی آئی کے بعد پیپلز پارٹی دوسری بڑی جماعت ہے۔ ہمارا نمبر دوسرا ہے لیکن ہم اس سارے معاملے میں میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور آصف زرداری کو مکمل اعتماد میں لیں گے۔ اگلا سیٹ ایپ ان کی مشاورت سے ہی بنے گا۔ اگر گلگت میں بھی عدم اعتماد آتی ہے تو ایسا ممکن ہے کہ گلگت میں پیپلز پارٹی کو حکومت مل جائے اور کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو مل جائے۔ اس پر مشاورت دونوں جماعتوں کی قیادت سے وقت آنے پر ہوگی۔ فی الحال یہ تمام آپشن زیر غور ہیں۔”
چوہدری یسین کی گرفتاری پر پوچھے سوال پر شاہ صاحب بولے "آزاد کشمیر ایف آئی اے کے انڈر نہیں آتا۔ چوہدری یسین کی جموں کشمیر ہاؤس سوسائٹی اسلام آباد کے اندر ہے جس پر گرفتاری ہوئی۔ سیاست میں جیلیں چلتی رہتی ہیں، دو چار دن کی بات ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ حکومت اب اس پوزیشن میں ہے کہ ایف آئی اے کے ذریعے کشمیر کے سیاستدانوں کو گرفتار کر لے۔”
آخر میں انہوں نے مشورہ دیا کہ ہماری لیڈر شپ کو بلوچستان اور کے پی میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی میں بھی ہماری پارٹی مضبوط ہے، اندرون سندھ میں بھی پارٹی مضبوط "ہو سکتی ہے، سیٹیں نکال سکتے ہیں۔ کوئٹہ میں بھی کام ہو سکتا ہے۔ اس پر سنجیدگی سے پارٹی قیادت کو کام کرنا چاہیے۔ ہزارہ بٹ ہمارا ہوتا تھا، پشاور بھی ہمارا تھا۔ اگر میاں نواز شریف بلوچستان اور کے پی کے میں جماعت کو مضبوط کرنے کی ذمہ داریاں مریم نواز اور حمزہ شہباز کے سپرد کر دیں تو وہ یقیناً پارٹی کو پورے ملک کی جماعت بنا دیں گے۔ پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت اور سندھ میں کافی حد تک ہماری جماعت کی پوزیشن مضبوط اور مستحکم ہے اس پر پارٹی قیادت کو فوری کام کرنا چاہیے۔”


