سنکی دانش گرد حسن نثار کو شائستگی ریما عمر سے سیکھنی چاہیے
حسن نثار آج کل ذہنی ٹراما کے ایک سخت ترین فیز سے گزر رہے ہیں بالکل اسی طرح سے جس طرح کسی جوتشی کی درجنوں پیشگوئیاں پے درپے ناکام ثابت ہو رہی ہوں اور وہ بے بسی کے ساتھ اپنا سر پیٹنے لگتا ہے، اپنا غصہ مختلف طرح سے اوروں پہ نکالنے لگتا ہے۔ خود کو عقل کل سمجھنے والے یا سیلف سینٹرڈ قسم کے بندے کا یہ المیہ ہوتا ہے کہ اسے اپنے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا اور اگر کوئی عمر میں جونیئر اور ساؤنڈ قسم کا تعلیمی کیریئر رکھنے والا اس قسم کے سنکی سینئر دانشور کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے جس کے لائف کریڈٹ میں غصہ، نفرت، تعصب اور بلند آواز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا تو وہ غصے سے چلانے لگتا ہے اور مخاطب کو گھٹیا القابات سے نوازنے لگتا ہے۔
سنتے آئے ہیں کہ انسان کا ذہنی معیار اور شائستگی کا لیول اس کی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے جیسے ہی وہ بولنے لگتا ہے اس کا حقیقی پر سونا پھدک کر باہر آ جاتا ہے۔ بڑھتی عمر کے ساتھ اور مختلف چینلز کے اینکرز سے ”سینئر تجزیہ کار“ کا لفظ بار بار سننے کی وجہ سے ایسے بندوں کو یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ وہ سینئر تجزیہ کار کی حیثیت سے شاید اس ذہنی پختگی کی سطح کو چھونے لگے ہیں جس کی تمنا بہت سے کرتے ہیں مگر بہت کم لوگ اس بلند ذہنی کی مچان تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور اس قسم کے بلند ذہن لوگوں کا طرز فکر ان کی زبان اور رویے میں جھلکنے لگتا ہے۔
مگر ہم بات کر رہے ہیں ایک ایسے سینئر تجزیہ کار کی، جس کی صرف عمر بڑھی ہے ذہنی پختگی کا معیار قطعی طور پر بلند نہیں ہو پایا اور اس قدر شخصی وہم کا شکار ہو چکا ہے کہ اسے یوں لگنے لگا ہے کہ اس کے علاوہ باقی سب بہرے، گونگے اور کند ذہن ہیں اور جو عمر بھر کا اس کی ذہنی پٹاری میں ہے وہی حرف آخر اور قطعی ہے۔ اپنے اسی ماحصل پر اترانا ایسے لوگوں کا وتیرہ بن جاتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ دوسروں پر ہنستے رہتے ہیں۔
جیو کا ایک مشہور پروگرام رپورٹ کارڈ جس میں بہت سے صحافی و دانشور اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور ملکی صورتحال پر انتہائی دھیمے لہجے اور شائستگی کے ساتھ بات کرتے ہیں، انہی معزز مہمانوں میں انتہائی سلیقہ مند، شائستہ اور انتہائی پڑھی لکھی خاتون ریما عمر بھی موجود ہوتی ہیں جو انتہائی نرم لہجے میں وہ سب کچھ کہہ جاتی ہیں جس سے سینئر تجزیہ کاروں کے پر جلتے ہیں۔ اس پروگرام کا حصہ غصیلے اور ہتھوڑے کی طرح برسنے والے حسن نثار بھی ہوتے ہیں جنہیں اپنے متعلق پختہ یقین ہو چکا ہے کہ وہ اپنے ذہن کی اس بلند ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں جہاں صرف ان کا پہنچنا ہی ممکن تھا باقی تو سب کیڑے مکوڑے ہیں۔
حسن نثار چونکہ بولنے کے عادی ہیں اور سننے کے حوصلے سے بالکل عاری ہیں، جب ریما عمر ان کے کسی سوال کا جواب دینے کی کی کوشش کر رہی تھی تو انہوں نے تضحیکی ہنسی ہنستے ہوئے کہا کہ ”آپ کی سمجھ چھوٹی ہے یہ کھلے گی آہستہ آہستہ“ جب حسن نثار کی آواز بلند ہونے لگی تو اینکر نے مداخلت کرتے ہوئے اختلاف رائے کی خوبصورتی کی بات کی تو موصوف کا کہنا تھا کہ یہ خوبصورتی نہیں ہے بلکہ سٹرپٹیز ہے۔ بات یہاں پر ختم نہیں ہوئی حسن نثار نے ریما کو ٹیکنیشن بولا اور پھر جواب میں ریما نے بھی موصوف کو ”سینک“ بول دیا۔
لیکن آپ لفظ سٹرپٹیز پر غور کریں اور سینئر تجزیہ کار کی ذہنیت پر ماتم کریں، جس کا کھلا ڈھلا مطلب ”ایروٹک انٹرٹینمنٹ یا کپڑے اتارنا“ بنتا ہے۔ یہاں معاملہ مردانہ عزت نفس کا ہے اور ریما بار بار شائستگی کے ساتھ حسن نثار کو درست کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر موصوف کی آواز کا والیم ہمیشہ کی طرح بلند ہوتا جا رہا تھا۔ اس قسم کی حرکت اسی پروگرام میں کچھ عرصہ پہلے بھی موصوف اختیار فرما چکے ہیں۔ اصل میں موصوف عمران خان صاحب کے مینٹور اور جوتشی کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے اور اب اچانک سے حالات کی ستم ظریفی کی وجہ سے بوجہ مجبوری انہیں سبکدوش ہونا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے بوکھلائے ہوئے ہیں۔
ریما نے بڑے خوبصورت انداز میں اس خبطی دانشور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ٹیکنیشن ہونے پر فخر ہے اور آپ کو ٹیکنیشن کی عزت کرنی چاہیے اور اسے ڈاؤن گریڈ نہیں کرنا چاہیے۔ دراصل ٹیکنیشن باریک بین بھی ہوتا ہے اور معمولی سے معمولی نقص کو بھی بڑی آسانی سے پکڑ لیتا ہے۔ اسی لئے تو موصوف ریما پر برہم ہوئے اور ان کو یہ برداشت نہیں ہوا کہ ایک جونیئر اپنے سینئر کی اصلاح کرنے کی جرات کرے۔ کچھ لوگ بڑھتی عمر اور علم میں پختگی کی وجہ سے عاجز اور شائستہ ہو جاتے ہیں مگر افسوس حسن نثار ان لوگوں میں سے بالکل نہیں ہیں بلکہ ان کی ذہنی گروتھ ایک سطح تک پہنچنے کے بعد رک چکی ہے جس کا انہیں ادراک بالکل بھی نہیں ہے۔


