اذیت پسندی یا مساکیت


چوں کہ ہمارے سماج میں نفسیاتی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کا کوئی طریقہ وضع نہیں کیا گیا اس لیے نفسیاتی بیمار افراد بھی نارمل انسانوں کے ساتھ بلکہ ان میں گھل مل کر رہتے ہیں۔ میرا یہ کہنے کا ہر گز مطلب نہیں کہ ایسے افراد کو قید تنہائی کی سزا سنا دی جائے بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو کم ازکم خود احساس ہونا چاہیے کہ وہ کسی عارضے کا شکار ہیں لہذا دوسروں کی زندگی کو جہنم زار بنانے سے گریز کریں۔ اگر کسی وجہ سے وہ اپنا علاج کرنے یا کروانے سے قاصر ہیں تو انھیں کم ازکم اتنا تو شعور ہو کہ بقول غالب

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں عفلت ہی سہی

نفسیاتی امراض میں سے ایک مرض بڑا عام اور قابل توجہ ہے اور وہ ہے ایذا پرستی یا مساکیت۔

ایذا پرستی ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔ اس عارضے میں مبتلا شخص دائمی ناخوشی کا حامل ہوتا ہے۔ نفسیات کی اصطلاح میں ایذا پرستی کو مساکیت کہا جاتا ہے۔ مساکیت کا شکار فرد خوف اور چڑ چڑے پن کا جا بے جا اظہار کرتا ہے۔ ایسے شخص کی باتوں سے نا امیدی اور ناخوشی پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص ہر بات سے منفی پہلو نکال لیتا ہو اس کا مطلب ہے وہ ایذا پرست ہو گیا ہے اور چاہتا ہے کہ ہر شخص اس ایذا کو محسوس کرے۔ ہنستے مسکراتے اور کھلکھلاتے لوگوں کو دیکھ کر ایسا آدمی اندر ہی اندر کڑھنے لگتا ہے اور کوئی نہ کوئی ایسا حربہ استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے خوشی کا ماحول اداسی اور سنسانی کی کیفیت میں بدل جائے۔

اس کام کے لیے ایسے شخص کو مذہب کا حربہ استعمال کرنا پڑے تو وہ اپنی ایذا پرستی کی تسکین کے لیے ایسا کرنے سے بھی ہر گز نہیں چوکتا۔ اس طرح کے افراد کے پاس اپنی ناخوشی کے بڑے بھاری دلائل موجود ہوتے ہیں۔ ناخوش آدمی لازمی طور پر خوف و حزن میں مبتلا ہو گا اور امید پرست و خوش باش آدمی کے لیے اللہ قرآن میں بار بار خوف اور غم سے نجات کی خوش خبری سناتا ہے۔ ناخوش آدمی کے لیے دنیا میں ہی جہنم ہے کہ وہ ہر وقت خوف اور غم کی وادیوں میں بھٹکتا رہتا اور ایذا دہی کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔

جب کہ خوش باش آدمی کو دنیا میں ہی جنت کی ہوا چھونے لگتی ہے کیوں کہ وہ دنیاوی خوف اور غم سے آزاد کر دیا گیا ہوتا ہے۔ ایذا پسندی ایسی کج روی ہے جس کی جڑیں جنسی ناآسودگی میں پیوست ہیں۔ جو افراد (مرد و زن) جنسی طور پر ناآسودہ ہوتے ہیں وہ ایذا پرستی اور عم پسندی کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں اور اپنے تئیں اس پر بڑے فاخر ہوتے ہیں۔ جب کہ ان احمقوں کو یہ گمان تک نہیں ہوتا کہ ایسا کر کے وہ اصحاب علم و دانش کی نگاہ میں اپنے آپ کو برہنہ کر رہے ہیں۔

الم پسند شخص کے پاس اگر طاقت بھی ہو یا جہاں جہاں وہ اپنی طاقت کا بے خوف اور بے روک ٹوک استعمال کر سکتا ہو تو ایسا شخص ظالمانہ حد تک بے رحم واقع ہوتا ہے۔ ایسا شخص اپنی جنسی اور سماجی زندگی میں طاقت کے غلط اظہار سے دوسروں کو دکھ یا اذیت دے کر اپنے اس عارضے کی تسکین کرتا ہے۔ ایسے شخص کو پہلے تو اپنے مریض ہونے کا گمان تک بھی نہیں ہوتا اور اگر کبھی ہو بھی تو وہ ایسے خیال کو وہم سمجھ کر جھٹک دیتا ہے۔ حالاں کہ اس مرض کے شکار انسان کو کوئی بھی ذی فہم اور ذکی انسان پہچان لیتا ہے۔ چوں کہ ہمارے سماج میں نفسیاتی طور پر نارمل زندگی گزارنا ہماری اکثریت کا ہدف ہی نہیں اس لیے اس ابنارمیلٹی کو سنجیدہ لیا ہی نہیں جاتا۔ حالاں کہ اس مرض کا شکار شخص جس ادارے، گھر یا دوستوں کی بزم میں شامل ہو اس نے اپنے آس پاس کے لوگوں کی زندگی کو جہنم بنایا ہوا ہوتا ہے۔

Latest posts by امان اللہ محسن (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments