وزیراعظم نے اعلیٰ عسکری قیادت کو اپروچ کر کے اپوزیشن سے مصالحت کروانے کا کہا تھا: وسیم بادامی کی خبر


آج وزیراعظم کے اے آر وائی نیوز پر ارشد شریف کو انٹرویو کے بعد اے آر وائی نیوز پر وسیم بادامی نے خبر دی ہے کہ پرائم منسٹر ہاؤس کی طرف سے عسکری قیادت کو اپروچ کیا اور کہا کہ عمران خان نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ میرے پاس اپوزیشن کا پیغام لے کر آئی تھی، تین آپشنز کی بات ہوئی تھی، اور وہ تین آپشنز یہ تھیں کہ جناب یا تو استعفیٰ ہو جائے، یا عدم اعتماد کا سامنا ہو جائے یا اپوزیشن عدم اعتماد واپس لے لے اور وزیراعظم اسمبلی تحلیل کر دیں۔

وسیم بادامی نے نہایت ذمہ ترین عسکری ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ

”انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا معاملہ سامنے آنے کے بعد حالیہ دنوں میں، کہہ لیجیے کہ پچھلے اڑتالیس سے بہتر گھنٹوں کی پیش رفت ہے جو کہ میں ذمہ دار عسکری ذرائع کے حوالے سے آپ سے شیئر کر رہا ہوں، پرائم منسٹر ہاؤس کی طرف سے اپروچ کیا گیا عسکری قیادت کو، کہ یہ سارے کا سارا معاملہ آپ کے سامنے ہے، بتائیے کہ کس طریقے سے بہترین صورت حال سے نکلا جا سکتا ہے، اور پلیز ٹیل اس ہاؤ یو کین ہیلپ اس آؤٹ ان دس پرٹیکولر سچوایشن۔“

Please tell us how you can help us out in this particular situation

”پی ایم ہاؤس نے جب اپروچ کیا عسکری قیادت کو، اس کے بعد عسکری قیادت گئی ہے وزیراعظم ہاؤس اور وہاں پر ڈسکس ہوئے ہیں کہ اس سیناریو میں اب پاسیبل آپشن کیا ہیں۔ جب پی ایم ہاؤس کے اپروچ کرنے کے بعد عسکری قیادت وہاں گئی ہے اور موجودہ حالات میں تین آپشن ڈسکس ہوئے ہیں تو پھر یہی تین آپشن زیر بحث آئے کہ اس وقت یہی تین آپشن ہیں۔“

”اول یہ کہ عدم اعتماد کا سامنا کریں۔ دوئم یہ کہ استعفیٰ دے دیں۔ سوئم یہ کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے لے اور آپ اسمبلی ڈیزالو (تحلیل) کر دیں۔“

”وزیراعظم صاحب کا یہ خیال تھا کہ استعفیٰ دینے میں ان کی سبکی ہو گی جس کا وہ اظہار بھی کر چکے ہیں کہ میں ریزگنیشن (استعفیٰ) نہیں دوں گا۔ وزیراعظم کا یہ خیال تھا کہ جو دوسرا آپشن ہے عدم اعتماد کا سامنا، اس میں ماحول بالکل سامنے بہت کلیئر ہے کہ نمبر گیم ان کے اگینسٹ ہے تو تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی اور وہ ناکام ہو جائیں گے۔ تو اس کے بعد رہا صرف تیسرا آپشن، یعنی کہ ایسا ارینجمنٹ جس کے تحت اپوزیشن واپس لے لے تحریک عدم اعتماد اور وزیراعظم اسمبلی ڈزالو کر دیں۔ وزیراعظم ہاؤس نے، بلکہ اسلامی جمہوری پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان نے اسے آپشن سے اتفاق کیا کہ اگر اپوزیشن مانتی ہے تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔“

”ذمہ دار عسکری ذرائع نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کو کہا کہ بالکل ٹھیک ہے، وی ول بی مور دین ہیپی ٹو ہیلپ یو آؤٹ ان دس سچوایشن، اینڈ ٹو لوور ڈاؤن دا پولیٹیکل ٹمپریچر، بٹ آف کورس اٹ از اونلی پاسیبل اف اپوزیشن اگریز ٹو دس آپشن۔“

We will be more than happy to help you out in this situaiton and to lower down the political temperature, but of course it is only possible if opposition agrees to this option.

”ہم بہت خوش ہوں گے اگر ہم اس میں آپ کو ہیلپ آؤٹ کر سکیں، لیکن جو یہ تیسرا آپشن ہے ظاہر ہے یہ اپوزیشن کے مانے بغیر ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن نے جمع کرائی ہے۔ اگر اپوزیشن ہی اس کو واپس لے گی تو ایسا ہو پائے گا جیسا آپ کہہ رہے ہیں۔“

”ذمہ دار عسکری ذرائع کے مطابق اس کے بعد وہ پی ایم ہاؤس کی یہ تجویز لے کر اپوزیشن کے پاس جس کے بعد اپوزیشن سے یہ تیسرا آپشن ڈسکس ہوا ہے کہ صاحب آپ تحریک عدم اعتماد واپس لیں، وزیراعظم پاکستان اس کے بعد اسمبلی ڈزالو کر دیں گے۔ اپوزیشن نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔ اپوزیشن نے کہہ دیا ایبسلوٹلی ناٹ، جس کے بعد یہ تجویز ختم ہو گئی کیونکہ اس تجویز پر عمل کرنا اسی صورت ممکن تھا جب اپوزیشن اس بات کو مانتی۔ اپوزیشن نے اس سے اگری نہیں کیا جس کے بعد یہ معاملہ ختم ہو گیا۔“

”ذمہ دار عسکری ذرائع کے مطابق جو معاملہ قوم نے عمران خان کے ارشد شریف سے انٹرویو میں سنا، اس کا پس منظر یہ ہے۔“

اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا نئے انتخابات کی آفرز دیں، وزیراعظم

Facebook Comments HS