عمران خان، فوج اور تحریک عدم اعتماد: ’جب تک اسٹیبلشمنٹ معاملات طے کرتی رہے گی پھر وزیراعظم کوئی بھی ہو، کیا فرق پڑتا ہے‘
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیبلشمینٹ نے اُنھیں اپوزیشن کی طرف سے عدم اعتماد کا سامنا کرنے، استعفیٰ دینے اور قبل از وقت انتخابات کروانے کی تین آفرز دیں۔
نجی چینل اے آر وائی کے اینکر ارشد شریف کو خصوصی انٹرویو میں عمران خان نے اپنے سامنے موجود آپشنز کے حوالے سے کہا کہ (قبل از وقت) انتخابات سب سے بہترین طریقہ ہے اور وہ آخری لمحے تک تحریکِ عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ استعفیٰ کبھی نہیں دیں گے۔
دوسری جانب اے آر وائی کے ہی ایک اور پروگرام میں اینکر وسیم بادامی نے عسکری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’وزیراعظم آفس نے عسکری قیادت سے تحریک عدم اعتماد سے متعلق رابطہ کیا اور پوچھا کہ وہ کیا مدد کر سکتے ہیں۔‘
’اس کے بعد عسکری قیادت وزیراعظم ہاؤس گئی اور ممکمنہ آپشنز زیر بحث آئے۔ عدم اعتماد کا سامنا کرنے اور استعفیٰ دینے کے آپشن پر وزیر اعظم مطمئن نہیں تھے۔ عمران خان نے تیسرے آپشن یعنی اپوزیشن عدام اعتماد واپس لے تو وہ اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے، پر اتفاق کیا مگر عسکری قیادت جب یہ تجویز لے کر اپوزیشن کے پاس گئی تو اپوزیشن نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔‘
اس سے قبل جمعرات کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل سیاسی گرما گرمی کے ماحول میں حکومت کی جانب سے ان خبروں کی تردید کی گئی تھی جن کے مطابق وزیر اعظم نے اپوزیشن کو کوئی پیغام بھجوایا ہے۔
مسلم لیگ نون رہنما رانا ثنا اللہ سے جب پارلیمنٹ میں صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا ان خبروں میں کوئی صداقت ہے کہ تحریک انصاف یا وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن کو کوئی آفر کی گئی ہے کہ تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی صورت میں اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی تو انھوں نے جواب دیا کہ عمران خان نے این آر او مانگا ہے لیکن ان کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز پر ذرائع سے خبر نشر کی گئی کہ اپوزیشن کو حکومت کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا کہ اگر تحریک عدم اعتماد واپس لے لی جائے تو ایسی صورت میں اسمبلیاں تحلیل کی جا سکتی ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نون لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے پارلیمنٹ میں صحافیوں کی جانب سے موجودہ سیاسی بحران میں ثالثی کے سوال پر کہا تھا کہ ثالثی بری چیز نہیں، ثالثی کی کبھی مخالفت نہیں کرنی چاہیے لیکن ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار 10 مارچ کو میڈیا کے ساتھ پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں اور وہ موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔
میجر جنرل بابر افتخار نے یہ بھی کہا تھا کہ ’فوج پر سیاست میں مداخلت کا الزام لگانے والوں سے ثبوت مانگے جائیں، ماضی میں کوئی بھی اس معاملے پر ثبوت پیش نہیں کرسکا۔‘
اس ساری صورتحال میں پاکستان کے سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا اپ سیاستدانوں کو ملک کے سیاسی معاملات حل کرانے کے لیے فوج کی مدد درکار ہو گی۔
اس حوالے سے صحافی فہیم اختر ملک نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’خان صاحب آپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر میرا آرمی چیف مجھ سے استعفی کی بات کرے گا تو میں اسے ڈی نوٹیفائی کردوں گا اور اب آپ بتا رہے ہیں کہ 3 آپشنز دیے گئے ہیں۔امید ہے آپ اس استعفے مانگنے یا کہنے کی روایت ختم کریں گے۔‘
صحافی مبشر زیدی نے لکھا: ’جب تک اسٹیبلشمنٹ معاملات طے کرتی رہے گی پھر وزیر اعظم کوئی بھی ہو، کیا فرق پڑتا ہے۔‘
صحافی عنبر شمسی نے لکھا: ’عمران خان اور وسیم بادامی دونوں نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ وزیراعظم نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے مدد مانگی۔‘
اس بحث میں بہت سے لوگ اس بارے میں بھی سوال کرتے نظر آئے کہ کیا اسٹیبلشمینٹ خود وزیراعظم کے پاس آئی یا وزیراعظم نے اسٹیبلشمینٹ سے مدد مانگی۔
ایک صارف نے عمران خان کے انٹرویو کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ’میری سمجھ کے مطابق خان صاحب نے کہا کہ انھوں نے مدد نہیں مانگی بلکہ انھیں تین آپشن دیے گئے۔‘
ایک صارف نے اس بارے میں لکھا کہ: ’صرف ڈی جی آئی ایس پر آر ہی کو اس معاملے میں وضاحت دینی چاہیے۔ وسیم بادامی کو نہیں۔‘
صحافی مہر تارز نے وسیم بادامی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا: ’اب وسیم بادامی اسٹیبلشمنٹ کے سرکاری ترجمان ہیں۔‘


