آج نئے سیلیکٹڈ پرانے سیلیکٹڈ کی جگہ لیں گے
بدقسمتی سے ملک میں تبدیلی کا ایک اور موقع ضائع ہو گیا۔ پی ڈی ایم کے پاس پی ٹی آئی کی حکومت کی جگہ اپنی حکومت بنانے کے علاوہ کوئی ایجنڈا ہی نہیں۔ عوام کے مسائل نہ صرف جوں کے توں رہیں گے بلکہ صورت حال ہر آنے والے سال میں خراب سے خراب تر ہوتی رہے گی۔
پاکستان میں طاقت اور اقتدار ایک دفعہ پھر جنرلز نے اپنے پاس ہی رکھے ہیں اور جج، ملا اور سیاسی بہروپیے یعنی ”الیکٹ ایبلز“ ان کے ماتحت اسی تنخواہ پر کام کرنے کو تیار ہیں جس پر پی ٹی آئی کام کر رہی تھی۔
پاکستان کے دفاع کی پالیسی ہمسایہ ممالک کے ساتھ دشمنی کی بنیاد پر ہی جاری رہے گی۔ خارجہ پالیسی سیاستدانوں کے اختیار میں نہیں ہو گی۔ دفاعی بجٹ کم کرنے کی کوئی جرات نہیں کر سکے گا۔ آئی ایم ایف کا راج رہے گا۔ قرضوں کی منظوری پر کسی پریشانی یا شرمندگی کی بجائے خوشی اور کامیابی کا اظہار ہی کیا جائے گا۔
مہنگائی اسی رفتار سے بڑھتی رہے گی جیسے پی ٹی آئی کے دور میں بڑھ رہی تھی۔ بے روزگاری کم نہیں ہو گی۔ عام آدمی کی زندگی ہر اگلے دن پہلے سے زیادہ خراب ہو گی۔ صورت حال بہتر کرنے کا تعلق ملکی معیشت کی بہتری سے ہے اور اس سلسلے میں وہی بربادی جاری رہے گی جو پی ٹی آئی کے دور میں تھی۔
تعلیم کا حال انتہائی خراب ہے اور خراب ہی رہے گا۔ اڑھائی کروڑ بچے جو سکولوں سے باہر ہیں ان کی تعداد میں اضافہ جاری رہے گا۔ جو بچے سکولوں میں پہنچ پاتے ہیں وہ بھی اصل تعلیم اور تربیت سے یونہی محروم رہیں گے۔ فرسودہ نصاب بدلنے کی ضرورت کسی نے محسوس ہی نہیں کی۔ ہماری یونیورسٹیاں اور ڈگریاں ویسی ہی غیر معیاری اور بے وقعت رہیں گی۔
سرکاری ہسپتال ویسے ہی گندگی کے ڈھیر رہیں گے۔ صرف وہی شخص سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرے گا جس کے پاس کوئی اور چارہ نہ ہو۔ پرائیویٹ ہسپتال بڑے بزنس بنتے چلے جائیں گے اور متوسط طبقے کی پہنچ میں نہیں ہوں گے۔
فیملی پلاننگ اور جنسی اور تولیدی صحت کی معلومات اور سہولیات عام شہریوں، خاص طور پر نوجوانوں کو بہم نہیں پہنچائی جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں عورتیں اور لڑکیاں قابل علاج بیماریوں سے تکلیف میں رہنے کے ساتھ ساتھ ناحق موت کے منہ میں بھی جاتی رہیں گی۔ فیملی پلاننگ کی جانب بالکل توجہ نہ ہونے کی وجہ سے آبادی میں بے پناہ اضافہ جاری رہے گا اور ہم غربت کی چکی سے کبھی نکل ہی نہیں پائیں گے۔
معاشرے میں مختلف بنیادوں پر انسانوں میں تفریق اور تشدد یونہی بڑھتا رہے گا۔ سوچنے اور سوال کرنے پر پابندی جاری رہے گی۔ فیملی پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں بچے مدرسوں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔ وہ مذہب کی بنیاد پر تفریق اور تشدد سیکھیں گے اور ہم ایک خطرناک پرتشدد معاشرہ ہی رہیں گے۔
ہمارے حکمران سیاست میں مذہب کا کاروبار جاری رکھیں گے۔ لوگوں کو کسی نہ کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھیں گے۔ حکمران ملا کے ساتھ مل کر مختلف نوجوانوں کے مسلح گروپس تیار کرتے رہیں گے۔ پھر جب وہ ہاتھ سے نکل جائیں گے تو ہم ان کے خلاف جنگ شروع کر دیں گے۔
کاش اپوزیشن عوام کے مسائل کی بات کرتی۔ کوئی پلاننگ کرتی اور کسی ایجنڈے کے تحت حکومت میں تبدیلی آتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان کو صحیح راستے پر ڈالنے کا ایک اور موقع ضائع ہو گیا۔ نئے سیلیکٹڈ پرانے سیلیکٹڈ کی جگہ لے رہے ہیں۔ سلیکٹر کے رول کی بات کوئی بھی نہیں کر رہا، جانے والے نہ آنے والے۔ اس کا مطلب ہے کہ جمہوریت کو موقع نہیں ملے گا اور سلیکشن کا عمل جاری رہے گا۔

