ایمرجنسی وارڈ میں شیطان کے قہقہے اور چیخ


دس سالہ کم سن گل شیر کے ساتھ خونخوار آوارہ کتوں کی درندگی کا یہ ہولناک واقعہ چند روز قبل چار مارچ بروز جمعہ، ضلع رحیم یارخان کی تحصیل خان پور میں بلدیہ خان پور کے ملازمین کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں رونما ہوا۔ اعلیٰ حکام بہ خوبی جانتے ہیں کہ بلدیہ خان پور کے ملازمین کی بدعنوانیوں اور غیر ذمہ داریوں کی داستانوں کی بازگشت کوئی نئی بات نہیں۔ موضع جنگی، بستی نور محمد کے رہائشی غلام محبوب کا دس سالہ بچہ گل شیر خون خوار کتوں کی درندگی کی بھینٹ اس وقت چڑھا جب بستی کے تقریباً سبھی لوگ نماز جمعہ کی ادائیگی میں مصروف تھے۔

خون میں لت پت معصوم گل شیر کو چار مارچ دن تقریباً تین بجے جب تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال خان پور کی ایمرجنسی میں لایا گیا تو اس کے سر اور چہرے پہ کتوں کے دانتوں کے گہرے لمبے گھاؤ واضح تھے۔ ایمرجنسی روم میں سٹریچر پر لیٹے زندگی و موت کی ہولناک کشمکش میں سر سے پیر تک تھرتھراتے نیم بے ہوش بچے کے چہرے اور کٹے پھٹے سر کے گہرے زخموں کا غور سے معائنہ کرنے کے بعد موقع پر موجود ڈاکٹر کے الفاظ یہ تھے ”بچے کی حالت سیریس ہے، ہم بچے کو کچھ ضروری طبی امداد فراہم کر دیتے ہیں لیکن بہتر یہ ہی ہے کہ آپ لوگ بچے کو رحیم یار خان شیخ زید ہسپتال لے جائیں“ ۔

لیکن بچے کی حالت ایسی ہرگز نہیں تھی کہ اسے پینتالیس کلو میٹر دور شیخ زید ہسپتال تک زندہ سلامت پہنچا دیا جاتا۔ بچہ راستے میں دم بھی توڑ سکتا تھا اور یہ خیال میرے لئے صدیوں پرانے گہرے اور اندھیرے کنوئیں سے نکلنے والی بھیانک چیخ کی طرح تھا۔ بچے کو رحیم یارخان شیخ زید ہسپتال ریفر کرنے کے لیے ایمرجنسی وارڈ میں فارم پر کرتے ہوئے ڈاکٹر نے بچے کا نام اور ولدیت پوچھی اور پھر 1122 پہ کال کر کے اس نے ایک ایمبولینس کو بھی بلوا لیا تھا۔

میں اب تک یہ ہی سمجھا کہ شاید خان پور کے سرکاری ہسپتال میں کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب نہیں ہے اور اسی لئے ڈاکٹر مجبور ہو کر بچے کو رحیم یار خان ریفر کرنے کا بندوبست کر چکا ہے۔ مگر میں نے ہسپتال میں کتے کے کاٹے کی دوا کی دستیابی کے متعلق ذرا زور دے کر ڈاکٹر سے پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ دوا کی سہولت ہسپتال کی او پی ڈی پی میں دن دو بجے تک دستیاب ہوتی ہے لیکن اب او پی ڈی کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب ہم مجبور ہیں دوا نہیں لگا سکتے۔

کتے کے کاٹے کی دوا ہسپتال میں دستیاب ہونے کے باوجود بھی ڈاکٹر کا بچے کو دوا لگانے سے معذرت کرنا میری نظر میں ایسے تھا جیسے کسی ننھے سے خوف زدہ بچے کو پہاڑ کی بلند چوٹی سے اچانک دھکا دے کر نیچے گہری کھائی میں گرا دیا جائے۔ ایمرجنسی روم میں ڈاکٹر کے منہ سے دوا کی موجودگی کے باوجود بھی متاثرہ بچے کو دوا لگانے سے معذرت اور مجبوری سن کر میں اپنی تھرکتی زبان سے بس اتنا ہی کہہ پایا کہ ”مگر ڈاکٹر صاحب! یہ معصوم تو رحیم یارخان تک پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی؟“ موت کے خوفناک یقینی لاحق خدشے کے تاثر سے میری زبان سے اٹک اٹک کر نکلتے ہوئے الفاظ ایک ایک کر کے میری طرف متوجہ ڈاکٹر کی قوت سماعت سے ٹکرا رہے تھے لیکن ڈاکٹر کا جواب اس بار بھی وہی پہلے کی طرح دو ٹوک اور سپاٹ تھا، کہ میں مجبور ہوں۔ میں نے بوکھلاہٹ میں جنرل سیکرٹری پریس کلب خان پور راؤ شفیق کو فون ملایا اور ایمرجنسی میں موجود بچے کی حالت اور ہسپتال میں درپیش صورت حال کی لاحق تشویش سے آگاہ کیا۔

میری گزارش پہ راؤ صاحب وقت ضائع کیے بنا ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچے اور آتے ہی انھوں نے اپنے موبائل فون سے ایمرجنسی میں سٹریچر پر لیٹے بچے کی چند تصویریں بنائیں اور ڈاکٹر سے ہسپتال میں دوا کی فراہمی اور عدم فراہمی کی صورت حال پہ بات چیت بھی کی اور ایک دو فون ادھر ادھر گھمائے۔ یقیناً انھوں نے ہسپتال کے ایم ایس سے بھی فون پہ بات کر لی تھی۔ ایمرجنسی میں موقع پر راؤ صاحب کے پہنچنے پر وہ ڈاکٹر جو کچھ دیر پہلے دوا لگانے سے معذرت کے ساتھ بچے کو رحیم یارخان شیخ زید ہسپتال ریفر کرنے کا بندوبست کر چکا تھا، اب وہ جب بچے کے لئے دوا کے انجیکشن کی فراہمی اور علاج میں مصروف ہوا تو مجھے سچ مچ یوں لگا جیسے کسی غیبی قوت نے سٹریچر پہ لیٹے غریب بچے پر رحم کھا کر اس کے مزید زندہ رہنے کے احکامات صادر کر دیے ہوں، اور ایمرجنسی روم میں بچے کے سر پہ ناچتے اور زور دار قہقہے لگاتے ہوئے منحوس شیطان کی چیخیں نکل گئی ہوں۔

ایمرجنسی میں لازمی ابتدائی طبی امداد کے بعد گل شیر کو مزید علاج معالجے کے لئے ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔ گل شیر کو اس کے لواحقین کے ساتھ ہسپتال کے مردانہ وارڈ میں چھوڑ کر ہسپتال کی عمارت سے باہر نکلتے ہوئے رات کے اندھیرے میں یہ سوال میرے سر پہ بھاری بھرکم ہتھوڑے کی طرح پڑ رہا تھا کہ جنوبی پنجاب کی پندرہ لاکھ آبادی کے علاج معالجے کے لئے مخصوص تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال خان پور میں دن دو بجے کے بعد متاثرین کے لئے کتے کے کاٹے کی دوا کی عدم فراہمی کس قدر مضحکہ خیز، غیرانسانی اور ذلت آمیز ہے۔

اب اس بات کی درست تشریح کی زحمت تو وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر صحت پنجاب محترمہ یاسمین راشد ہی کر سکتی ہیں کہ دن دو بجے پنجاب کے ہسپتالوں کی او پی ڈی کا وقت ختم ہونے کے بعد کیا واقعی دندناتے ہوئے آوارہ کتے انسانوں کو کاٹنا، بھنبھوڑنا اور ان کا لہو چاٹنا چھوڑ دیتے ہیں؟ یقین کیجئے پنجاب کی سابقہ یا موجودہ حکومت اور آوارہ کتوں کے درمیان ایسا کوئی تحریری امن معاہدہ کم سے کم میرے علم میں نہیں ہے؟

Facebook Comments HS

One thought on “ایمرجنسی وارڈ میں شیطان کے قہقہے اور چیخ

  • 06/04/2022 at 8:51 شام
    Permalink

    An eye opener for the higher authorities.keep it up dear Sohail

Comments are closed.