حزیں قادری: پاکستان فلمی صنعت کے ایک بلندپایہ پنجابی شاعر اور مصنف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں تو گوجرانوالہ پہلوانوں کا شہر ہے، لیکن اس خطہ میں فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی بہت سی نابغہ روزگار شخصیات بھی ہو گزری ہیں، جن کو اردو اورپنجابی ادب میں بہت اعلی مقام حاصل ہوا۔ اٹھارہویں صدی کے مشہور پنجابی شاعر قادر یار کے علاوہ ماضی قریب کے احمد بشیر۔ میراجی۔ امرتا پریتم۔ ن، م، راشد۔ الطاف گوہر کا تعلق بھی یہیں سے تھا۔ ہندوستان کے مشہور موسیقار روشن اور روزنامہ ریاست کے ایڈیٹر دیوان سنگھ مفتون کا تعلق بھی اسی مردم خیز غلاقہ سے تھا۔ پاکستانی فلم انڈسٹری کے ممتاز نغمہ نگار۔ مصنف۔ فلمساز اور ہدایت کار حزیں قادری بھی گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے تھے۔

کچھ عرصہ قبل اپنے وقت کے نامور گلوکار مسعود رانا پر مضمون لکھتے ہوئے یہ بات میرے مشاہدے میں آئی کہ ان کے گائے ہوئے بہت سے مشہور اور سپر ہٹ نغموں کے خالق جناب حزیں قادری تھے۔ میں نے پھر ان کے بارے میں کھوج شروع کی۔ ان کے بارے میں انٹرنیٹ پر کافی تو نہیں لیکن بہت ساری معلومات ملیں۔ لیکن ان کے بارے میں کوئی کتاب میری نظر سے کہیں نہیں گزری۔ پاکستان فلم میگز ین ویبسائٹ انٹرنیٹ پر پاکستانی فلموں کا ایک انسائیکلوپیڈیa ہے۔

میری خوش قسمتی اور حسن اتفاق کہ حزیں قادری صاحب کی بیٹی عاصمہ قادری کا بنایا ہوا فیس بک پر پیج ً حزیں قادری کے بول ً پر میری نظر پڑی جہاں سے حزیں قادری کے بارے میں بہت سی معلومات ملیں۔ اس مضمون میں زیادہ تر معلومات اسی فیس بک پیج سے لی گئی ہیں۔ ان کی بیٹی ماشا اللہ خود بھی بہت اچھی لکھاری ہیں اور آج کل حزیں قادری کی شخصیت اور فن پر ایک کتاب لکھ بھی رہی ہیں۔ ان دنوں وہ کنیئرڈ کالج لاہورمیں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ اللہ انھیں زندگی دے۔

حزیں قادری ایک پنجابی شاعر تھے جنہوں نے 1950 سے 1980 تک تین دیہائیوں کے دوران لاہور کی فلمی صنعت ً لالی ووڈ ً میں بننے والی پنجابی فلموں میں بہت سارے خوبصورت اور کبھی نہ بھولنے والے گیت لکھے۔ پاکستانی فلم کے مشہور ہدایتکار انورکمال پاشا نے حزیں قادری کی بطور گیت نگار صلاحیتوں سے متاثر ہو کر انھیں 1950 میں فلم دو آنسو کے لئے گانے لکھنے کا موقع فراہم کیا۔ اگلے تیس سال تک حزیں قادری پاکستانی فلم انڈسٹری کے ایک مشہور اور مصروف ترین گیت نگار اور مصنف فلمی صنعت پر راج کیا۔

انھوں نے اپنے فلمی سفر میں 265 فلموں کے لئے نغمات لکھے، جن میں 243 پنجابی او 22 اردو فلمیں شامل ہیں۔ آپ نے فلموں کے لئے ایک ہزار سے زیادہ نغمات لکھے جن میں بڑی تعداد پنجابی کے اپنے وقت کے سپر ہٹ گیت تھے، جنھیں اب بھی سن کر لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ پاکستان فلم میگزین کے مطابق انہوں نے پانچ اردو اور 151 پنجابی فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھے۔ اس کے علاوہ آپ نے 1974 میں ایک پنجابی فلم بڈھا شیرکی ہدایات دیں اور بطور فلمساز ایک فلم پنجابی فلم سجناں دور دیا بھی بنائی۔ لیکن آپ کی زیادہ توجہ گیت نگاری اور فلمی کہانیوں اور مکالمہ نگاری پر مرکوز رہی۔

آپ اپریل 1926 میں گوجرانوالہ کے ایک گاؤں راجہ تمولی کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام بشیر احمد تھا۔ روز گار کی تلاش میں آپ کے خاندان نے گوجرانوالہ سے ہجرت کی۔ اور مختلف جگہوں سے ہوتا ہوا لاہور میں آباد ہوا۔ انہوں نے اسلامیہ ہائی سکول بھاٹی گیٹ مڈل پاس کیا اور تعلیم موقوف کر دی۔ اس کے بعد انھیں حافظ محمد عمر اچھروی کے مدرسے میں داخل کروایا گیا۔ شاعری بچپن سے ہی ان کے خمیر میں تھی۔ مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ شاعری کا شوق پورا کرنے کے لئے نعتیں آپ نے بہت سی نعتیں بھی لکھیں۔ ان کی نعت کا ایک شعر ہے۔

اکھیاں والے رکھدے نیں پہچان محمد دی ٭ دو جگ دی شہنشاہی سلطان محمد دی

انہی دنوں انہیں پتہ چلا کہ ایک ریکارڈنگ کمپنی ً ای ایم آئی ً کو ایک پنجابی نعت گو شاعر کی ضرورت ہے۔ وہ ای ایم آئی کے پاس گئے، جنہوں نے ان کی بہت سی نعتیں ریکارڈ کر لیں۔ ان کا یہی شوق انھیں ریڈیو پاکستان لاہورلے گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب سفارش پر نہیں بلکہ لیاقت اور اہلیت کی بنا پر ریڈیو پر کام ملتا تھا۔ معمولی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود آپ کی خداداد صلاحیتوں کی بنا پرآپ کو ریڈیوپر کام مل گیا۔ جہاں انہوں نے نعتوں کے ساتھ ریڈیو کے لئے نغمات بھی لکھنے شروع کر دیے۔

انور کمال پاشا کا شمار پاکستان فلمی صنعت کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ وہ اپنی فلموں میں نئے لوگوں کو چانس دینے کے علاوہ فلم کے لئے اچھے گلوکار۔ موسیقار۔ نغمہ نگار۔ اداکار اور کہانی کار تلاش کرتے رہتے تھے۔ ان کی یہی کھوج ان کو ریڈیو پاکستان لاہور لے گئی۔ یہاں انہوں نے حزیں قادری کو دیکھا اور ان میں چھپے جوہر کوپہچان کر اپنی فلم دو آنسو کے لئے نغمات لکھنے کی آفر دی۔ اس طرح انہوں نے فلمی صنعت کے لئے ایک ایسا ہیرا تلاش کر لیا، جس نے آنے والے سالوں میں اپنی محنت، لگن اور صلاحیتوں کی بنا پر لاہور کی فلمی صنعت میں اپنے کام کی دھاک بٹھا دی۔

یہ 1950 کا سال تھا۔ انورکمال پاشا نے انھیں اپنی فلم کے گیت لکھنے کے لیے منتخب کیا تھا۔ فلم میں ساغر صدیقی اورقتیل شفائی جیسے مستندشعرا کی موجودگی میں آپ نے بڑے اعتماد کے ساتھ گیت لکھے۔ فلم نے سلور جوبلی منائی۔ اس طرح حزیں قادری فلمی صنعت میں داخل ہو گئے۔ اگلے تین چار سالوں میں انہوں نے فلمی دنیا میں اپنے آپ کو گیت نگار۔ مصنف اور مکالمہ نگار کی حیثیت سے مستحکم کر لیا اور لاہور کی فلمی صنعت میں میں اپنا ایک مقام بنالیا۔

آپ نے نغمہ نگاری کے ساتھ فلموں کی کہانیاں اور منظر نامے بھی لکھنا شروع کیے۔ 1955 کا سال ان کے لئے بڑی کامیابیاں اور کامرانیاں لے کر آیا۔ پاٹے خان ان کی لکھی ہوئی دوسری فلم تھی، جس کے سارے نغمے بھی آپ نے لکھے تھے۔ یہ فلم آپ اور اداکار علا الدین دونوں کے لئے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس سال انہوں نے پاٹے خان کے علاوہ فلم ہیر۔ پتن اور بلبل کے گانے بھی لکھے جو بہت مشہور ہوئے۔ اس سال نور جہاں اور زبیدہ خانم کے گائے ہوئے ان گانوں نے دھوم مچا دی

٭ میری پھڑ لے باہاں آجا میری پھڑ لے باہاں فلم۔ پاٹے خاں۔ گلوکار۔ نور جہاں
٭ کلی کلی جان دکھ لکھ تے کروڑ وے فلم۔ پاٹے خاں۔ گلوکارہ۔ نور جہاں
٭ ساڈا سجرا پیار کہوے بار بار۔ فلم۔ پتن گلوکارہ۔ زبیدہ خانم۔ گلوکار۔ عنایت حسین بھٹی
٭ اساں جان کے میٹ لئی اکھ وے فلم۔ ہیر گلوکارہ۔ زبیدہ خانم
٭ ڈھول دلے دا جانی اجے نہیں آیا فلم۔ ہیر گلوکارہ زبیدہ خانم
٭ بدل نوں ہتھ لاواں۔ میں اڈی اڈی جاواں فلم۔ ہیر گلوکارہ منور سلطانہ۔

یہ گانے اس وقت ہرکسی کی زبان پر تھے۔ 1955 واقعی ان کا سال تھا جس کے بعد آپ نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اگلے سال انہوں نے چھ فلموں کے گانے لکھے اور پھریہ سلسلہ یوں ہی دراز ہوتا چلا گیا۔ 1950 سے لے 1980 تک وہ پاکستان کی فلمی صنعت کے ایک مصروف ترین نغمہ نگار اور مصنف اور مکالمہ نگار تھے جن کا نام فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ اپنے وقت کی مقبول ترین فلمی ہروئینز اور ہیروز پر آپ کے لکھے ہوئے گانے فلمائے گئے۔

ان میں نور جہاں۔ عالیہ۔ سلونی۔ نغمہ۔ زمرد۔ صبیحہ۔ فردوس۔ سنتوش۔ حبیب۔ اقبال حسن۔ عنایت حسین بھٹی۔ اعجاز۔ اکمل۔ سدھیر اوربہت سے دوسرے ہیرو شامل ہیں۔ اداکارہ فردوس کی پچیس کے قریب فلموں کی کہانیاں اور گیت آپ نے لکھے جو سب کی سب سپرہٹ ثابت ہوئیں۔ آپ کے لکھے ہوئے سب سے زیادہ نغمے نور جہاں نے گائے جن کی تعداد تین سو کے لگ بھگ ہے۔ اس کے بعد نسیم بیگم اور مسعود رانا نے ان کے نغمے گائے۔ اس کے علاوہ فلمی صنعت کے سبھی قابل ذکر گلوکاروں نے آپ کے لکھے ہوئے گانے گائے۔ تیس سالوں تک آپ نے ایک سے بڑھ کر ایک بہترین نغمے لکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک سے بڑھ کر ایک بہترین فلموں کی کہانیاں لکھیں جنہوں نے باکس آفس پر کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کے مشہو ر نغموں کی ایک طویل فہرست ہے، جن میں کچھ قابل ذکر مندرجہ زیل ہیں۔

٭ سانوں سجناں دے ملنے دی تہانگ اے۔ فلم ً ہیر ً گلوکار عنایت حسین بھٹی۔
٭ تیرے بول نے تے میریاں نے بلیاں۔ فلم نوراں۔ گلوکارہ نور جہاں۔
٭ ٹانگے والا خیر منگدا۔ ٹانگہ لاہور دا ہوئے تے پویں جھنگ دا۔ فلم ڈاچی۔ گلوکار مسعود رانا۔
٭ تھوڑا تھوڑا چن ویکھیا بہت رہ گیا گھٹاں دے اولھے۔ فلم ہتھ جوڑی۔ گلوکارہ نذیر بیگم
٭ ماہی وے سانو پہل نہ جانویں لمیں اڈیکاں دن پیار دے۔ فلم ملنگی۔ گلوکارہ نور جہاں۔
٭ جی او ڈھولہ۔ جی او ڈھولہ۔ فلم پھنے خاں۔ گلوکارہ نور جہاں۔
٭ چھلا میرا کن گھڑیا ہائے نی ماں۔ فلم جی دار۔ گلوکارہ نور جہاں۔
٭ عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لکان لئی سجناں نے بوہے اتے چک تان لئی۔ فلم بھریا میلہ۔ گلوکار مسعود رانا۔
٭ اساں پچھلی رات دے تارے، ساڈھے نال پیار نہ کریں۔ فلم چغل خور۔ گلوکار مسعود رانا۔
٭ سوچ کے یار بناویں بندیا۔ فلم جگری یار۔ گلوکار مسعود رانا۔

٭ سیؤ نی میرے دل دا جانی۔ فلم دل دا جانی۔ گلوکارہ نور جہاں۔ 1967 میں ہمارے گاؤں میں کسی کی شادی پر ایک مجرہ ہوا تھا۔ وہاں یہ گانا پہلی دفعہ سنا تھا۔

٭ کہندے نیں نیناں، تیرے کول بہناں۔ فلم جمعہ جنج نال۔ گلوکارہ نور جہاں
٭ دل دیاں لگیاں جانے نا کملی نی مٹیار ہان دی۔ فلم باؤجی۔ گلوکارمسعود رانا
٭ بھل گئی بھل گئی او میں بھل گئی۔ فلم چن مکھناں۔ گلوکارہ نور جہاں

٭ او چن میرے مکھناں۔ ایک اداس اور ایک خوشی کا۔ فلم چن مکھناں۔ مالا۔ عنایت حسین بھٹی (پچانوے یا چھیانوے میں اس گانے کو شازیہ منظور نے گایا اور وہ اس گانے سے مشہور ہو گئیں۔ اب تک نئی نسل یہ ان کا ہی گیت سمجھتی ہے )

٭ سجناں دور دیا تیرے سکھ توں دکھ وٹا کے۔ فلم سجناں دور دیا۔ گلوکارہ نور جہاں
٭ صدقے میں جانواں اونہاں توں، جنہاں دیاں بانکیاں ٹوراں۔ فلم بھائی چارہ۔ گلوکار مسعود رانا
٭ دنیا مطلب دی اور یار۔ فلم دنیا مطلب دی۔ گلوکار عنایت حسین بھٹی
٭ انہاں پھل کلیاں دی محفل وچ۔ فلم مستانہ ماہی۔ گلوکار رجب علی
٭ سیؤ نی میرا ماہی میرے بھاگ جگاؤں آ گیا۔ فلم مستانہ ماہی۔ گلوکارہ نور جہاں
٭ بری بری امام بری۔ میری کھوٹی قسمت کرو کھری۔ فلم سجن بے پروا۔ گلوکارہ نور جہاں
٭ دلدار صدقے، لکھ وار صدقے۔ فلم سلطان۔ گلوکارہ نور جہاں
٭ جنہاں تیری مرضی نچا بیلیا۔ فلم خان چاچا۔ گلوکارہ نور جہاں
٭ وے توقرار میرا پیار میرے ہانیاں۔ فلم یار مستانے۔ گلوکارہ نور جہاں
٭ جا اج توں میں تیری توں میرا۔ فلم یار مستانے۔ گلوکارہ نور جہاں
٭ وے سونے دیا کنگناں سودا اکو جہیا۔ فلم چن وریام۔ گلوکارہ نور جہاں

ان کے سپر ہٹ نغموں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن مضمون کی طوالت کے پیش نظر اور نغمے شامل کرنا ممکن نہیں ہے۔ فلم ً سیؤ نی میرا ماہی ً کا یہ گانا مجھے بہت ہی پسند ہے۔ یہ نغمہ نور جہاں نے گایا جو فلم میں اداکار وحیدمراد اور عالیہ پر فلمایا گیا۔

پھڑ نبض طبیب حبیب میرے مینوں دل دا کوئی علاج دسدے
توں سامنے ہویں دھڑکدا اے ڈب کیوں جاندا تیرے باج دس دے

1974 میں انہوں نے فلم بڈھا شیر کی ہدایتکاری کی۔ اس کے علاوہ وہ سپر ہٹ فلم سجنا ں دور دیا کے فلم ساز بھی تھے۔ انہوں نے کچھ فلموں میں اداکاری بھی کی۔ یوں تو انہوں نے بیشمار فلموں کی کہانیاں لکھیں جو بہت کامیاب بھی رہیں۔ کچھ پنجابی فلمیں بہت ہی سپر ہٹ ہوئیں اور وہ میری بھی پسندیدہ فلمیں ہیں جو میں نے کئی کئی بار دیکھی ہیں ان میں۔ پاٹے خاں۔ نوراں۔ ڈاچی۔ چن مکھناں۔ سجن پیارا۔ جندجان۔ سجناں دور دیا۔ مستانہ ماہی۔ سجن بے پروا۔ خان چاچا۔ سلطان۔ ضدی۔ عشق میرا ناں۔ جیرا بلیڈ اور یار مستانے کے علاوہ فلموں کی ایک طویل فہرست اس میں شامل ہے۔

ان کے سب گیت غنایت سے بھرپور ہوتے تھے۔ گانوں میں الفاظ کا انتخاب بہت ہی عمدہ ہوتا تھا۔ انہوں نے کوئی بھی اخلاق سے گرا ہوا کوئی لفظ کبھی کسی گانے میں استعمال نہیں کیا۔ 1974 کے بعد پاکستان فلمی صنعت میں غیر محسوس طریقے سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اصلاحی۔ عشق و محبت پر مبنی اور مزاحیہ فلموں کی جگہ بدمعاشوں اور پرتشدد کہانیوں پر مبنی فلمیں بننے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی فلموں میں فحاشی کا ایک نیا ریلہ آیا۔ گانوں میں بھی فحاشی بڑھنے لگی۔

جس سے لوگوں نے خاندان کے ساتھ فلمیں دیکھنا چھوڑ دیں اور ایسی پنجابی فلموں کا بائیکاٹ کرنا شروع کر دیا۔ وی سی آر کی وبا پھیلی اور گھر گھر میں انڈین فلموں اور گانوں کا کلچر آ گیا۔ اس صورت حال میں پرتشدد اورفحاشی پر مبنی فلمیں دیکھنے والی ایک نئی کلاس سامنے آئی۔ اس صورت حال سے حزیں قادری جیسا معتبر اور سچے خیال رکھنے والا شاعر بہت مایوس ہوا۔ انہوں نے فلمسازوں کی ڈیمانڈ کے مطابق فحش گانے اور چربہ فلمیں لکھنے سے معذوری ظاہر کرنا شروع کی۔ یہ وقت پاکستان کی فلم انڈسٹری کے زوال کا دور تھا۔ آپ نے ہمیشہ صاف ستھرا کام جاری رکھا۔ اس دور میں بھی اچھی فلمیں لکھیں اور اچھے گانے لکھے۔ آپ کی طرح بہت سے دوسرے اچھے لکھنے والوں نے بھی فلمی صنعت سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔

مسعود بٹ پاکستان فلم انڈسٹری کے ایک کامیاب فلساز وہدایت کار رہے ہیں۔ ایک انٹر ویو میں حزیں قادری کی بیٹی سے ان کی یادیں شیئر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لکشمی چوک میں ایک فلمی دفتر میں بابا جی۔ اے۔ چشتی کے ساتھ بیٹھے تھے۔ قادری صاحب دفتر میں تشریف لائے اورکھڑکی سے لکشمی چوک کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ کیا ہو رہا ہے۔ تو بابا جی۔ اے۔ چشتی نے کہا، کہ ایک مکھڑا لکھاہے بھل گئی بھل گئی میں ہو۔ اب آگے کچھ سوجھ نہیں رہا۔

وہ کھڑکی کی طرف منہ کیے ہوئے بولے۔ انترا لکھو بولا۔ جس مائیے تے بھلی اوجوانیاں مانیں اور وہیں کھڑے کھڑے سارا گانا لکھوادیا۔ ایک دن ہم فلم پھنے خاں کے پروڈیوسر میاں صدیق کے ساتھ فلمساز مسعود اصغر کے دفتر باری سٹوڈیو میں بیٹھے تھے۔ ساٹھ اور ستر کی دیہائی میں فلموں میں ملک کے مختلف درباروں پر دھمال فلمانے کا رواج چلا تو آپ نے بھی بہت سی دھمالیں لکھیں جو بہت مشہور بھی ہوئیں۔ ان کی فلم، سجن بے پروا، پر کام ہو رہا تھا۔

( یہ فلم میں نے جہلم کے ریجنٹ سنیما میں 1973 میں دیکھی تھی ) فلم کے فلمساز مسعود اصغر نے حزیں قادری سے کہا، آپ نے سب بڑے درباروں پر دھمالیں لکھی ہیں لیکن بری سرکار پر کوئی دھمال نہیں لکھی۔ انہوں نے کچھ دیر سوچا پھر مجھے کہا۔ سودی لکھ اور بولنا شروع کیا، تیرا کرم بری سرکارہویا جنگل پہاڑ گلزار بن گئے۔ اس کے بعد روانی سے ساری دھمال لکھوا دی۔ اسی وقت موسیقار نذیر علی کو بلوایا اور اپنے ہاتھوں کی تال سے انھیں پندرہ منٹ میں دھمال کی ٹیون بھی سمجھا دی۔

فلم سجن بے پروا میں یہ دھمال اداکارہ زمرد پر فلمائی گئی تھی۔ آپ گانا لکھ کر اس کی ٹیون بھی گا کر موسیقار کو سمجھا دیتے تھے۔ ممتاز ہدایتکار ا الطاف حسین کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم کچھ ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے قوالی سن رہے تھے کہ مجھے انہوں نے کہا الطاف، ذرا کاغذ اور قلم لاؤ۔ میں لے کر آیا تو کہا کہ لکھو اور بیٹھے بیٹھے پوری دھمال لکھوا دی۔ پاک پتن تے آن کھلوتی بیڑی میری بنھے لا۔ یہ دھمال بعد میں نور جہاں کی آواز میں ریکارڈ ہو کرفلم عشق نہ پچھے ذات میں اداکارہ فردوس پر فلمائی گئی۔

حزیں قادری کے بیٹے انعام قادری اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ وحید مراد نے فلم مستانہ ماہی لکھنے کے لئے والد محترم سے رابطہ کیا اور ان سے ابتدائی بات چیت کے بعد ان کو کراچی اپنے گھر ساتھ لے گئے۔ جہاں ایک ماہ دونوں نے اکٹھے بیٹھ کر فلم کی کہانی منظر نامہ۔ مکالمے اور گانے مکمل کیے اور لاہور آ کر اس کی شوٹنگ شروع کر دی۔ یہ وحید مراد کی پہلی پنجابی فلم تھی جو سپرہٹ ہوئی۔ ہم ان کی غیرفلمی شاعری کو بھی منظر عام پر لانے پر کام کر رہے ہیں اور بہت جلد ان پر کتاب منظر عام پر آئے گی۔ ان کی ایک غیر فلمی نظم کا ایک بند جس کاعنوان ہے۔ کامے دی وہٹی دا ہاڑا۔ 0

میری وینی نوں ونگ دی رہی سدر ٭ نویں چگے دی تن توں آس ہی رہی
میر ا کاما کماد دا ریا راکھا ٭ تے میں وانگ کپاہ اداس ہی رہی

دو دسمبر 1980 کو آپ پر فالج کا حملہ ہوا۔ چار ماہ موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ صحت مند تو ہو گئے لیکن چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے۔ وہ تمام عمر ذہن اور قلم کی مزدوری کرتے رہے تھے۔ بیماری نے انھیں فلمی کہانیوں کا تانہ بانا بننے کی صلاحیت سے محروم کر دیا۔ انہوں نے بیماری کے خلاف اپنی جنگ بڑی ہمت سے جاری رکھی۔ صحت مند ہونے پر آپ نے اپنی ساری توجہ نغموں کی تخلیق پر مبذول کر لی۔ یہ فلم سازوں اور ہدایتکاروں کی محبت تھی جس کے سہارے انہوں نے اگلے دس سال فلم انڈسٹری کی خدمت اور اپنی روزی کمانے میں گزاردیے۔ فلمی صنعت پر اتنا لمبا عرصہ راج کرنے کے بعد 19 مارچ 1991 کو وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔

(نوٹ) اس مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ۔ ویکیپیڈیہ اور مندرجہ زیل آرٹیکل سے مدد لی گئی ہے۔
1) ۔ فیس بک پیج۔ حزیں قادری کے بول۔ ایڈمن۔ عاصمہ قادری
2 ) ۔ پاکستان فلم میگزین
3 ) ۔ مظہرپاکستان بلاگ سپاٹ۔ اپڈیٹ 2013
4 ) ۔ انعام قادری انٹرویو۔ ایس بی ایس پنجابی
Documentary By Tadeel Hussan Jaffery Tribute to Legend of Pakistan Film Industry Hazeen Qadri


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments