کتاب کا المیہ
کچھ دن پہلے اپنے کسی کام سے لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو مال روڈ پر واقع ماورا پبلشرز جا کر خالد شریف کے پاس حاضری دی۔ خوش قسمتی سے مقبول شاعر محبوب ظفر بھی وہاں موجود تھے۔ دونوں شاعر سکردو آ چکے ہیں اور انہیں لانے کا سہرا میر اسلم سحر کے سر ہے۔ کچھ دیر تک سکردو کی خوبصورتی اور مہمان نوازی پر گفتگو رہی اور پھر دور حاضر میں کتاب بینی کے رجحانات کی طرف موضوع کا رخ مڑ گیا۔
یاد رہے کہ خالد شریف کے ادارے ماورا پبلشرز نے ہمارے دو عزیزوں ڈاکٹر مظفر انجم اور افتخار علی کی کتابیں نہایت دیدہ زیب انداز میں چھاپی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا اٹلی کا سفر نامہ ”تریوی کے تین سکے“ جبکہ نوجوان اور منفرد لہجے کے شاعر افتخار علی ایڈووکیٹ کی شاعری ”قلم سوزی ارمان“ کے نام سے منظر عام پر آئی ہیں۔ اب اسی ادارے میں ہی ڈاکٹر انجم کی کتاب ”دیوسائی کی پہلی کتاب“ جو دراصل دیوسائی سے لے کر K 2 تک کا ایڈونچر سے بھرپور سفرنامہ ہے زیر طبع ہے۔
خالد شریف ایک عرصے سے مال روڈ لاہور میں ماورا پبلشرز کے نام سے نہ صرف شاندار گیٹ اپ میں کتابیں چھاپ رہے ہیں بلکہ وہیں پر ان کی کتابوں کا ڈسپلے سنٹر بھی ہے جہاں ان کے ادارے کے علاوہ دیگر اداروں کی شائع شدہ معیاری علمی اور ادبی کتابیں بھی دستیاب ہیں۔
خالد شریف کی شاعری ”نارسائی“ ، ”وفا کیا ہے“ اور ”کسی کمزور لمحے میں“ کے نام سے چھپ کر علمی ادبی حلقوں سے داد و تحسین وصول کر چکی ہیں۔ دوسری جانب محبوب ظفر عصر حاضر کے مقبول ترین شاعر ہیں اور اب تک ان کی پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ محبوب ظفر زاویہ نامی ادبی تنظیم کے صدر نشین ہے جو اسلام آباد میں قائم کی گئی ہے۔
جہاں تک کتب بینی کا رجحان ہے اس حوالے سے جو گفتگو رہی وہ کچھ حوصلہ افزا نہیں تھی۔ خالد شریف کا کہنا تھا کہ ایک تو کاغذ کی مہنگائی، بجلی اور دیگر مسائل کی وجہ سے جہاں کتابوں کی اشاعت میں کمی آئی ہے وہیں پر ریڈر شپ بھی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹاکسٹ کے پاس کتابیں پڑی رہتی ہیں اور مجبوراً اسے آخر میں ردی والوں کو یا فٹ پاتھ فروشوں کو تین گنا کم قیمت پر فروخت کرنا پڑتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ باہر سے جو کتابیں لائی جا رہی ہیں اس میں بھی امپورٹر کچھ چن کر اچھی قیمت پر اور باقی سب ردی کے بھاؤ میں بیچ دیتے ہیں۔ انہوں نے حیران انکشاف کیا کہ زیادہ تر کتابیں جلد اتار کر پان فروش یا کاغذ کے لفافے بنانے والوں کو فروخت کر دی جاتی ہیں۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ کس طرح ایک پبلشر نے اپنے سٹور میں پڑی تین ہزار کتابیں پندرہ روپے فی کتاب کے حساب سے بیچ دیں۔ پوچھنے پر بتایا کہ گزشتہ تین سالوں سے پڑی ہوئی ہیں کوئی خریدتا نہیں لہذا پندرہ روپے کے حساب سے ردی فروش کو بیچ دیں اس طرح پینتالیس ہزار تو مل گئے۔ خالد شریف نے بتایا کہ ردی میں بیچنے سے پہلے اکثر پبلشرز کتابوں کی جلد اور پبلشر کے نام والا صفحہ اتار دیتے ہیں تاکہ عزت سادات برقرار رہے۔
غالباً ایک دو سال پہلے گیلپ اور گیلانی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے کتب بینی کے حوالے سے ملک بھر سے نمائندہ نمونے لے کر ایک سروے منعقد کیا۔ اس سروے کے جو نتائج تھے وہ حیران کن تھے اور خالد شریف کی باتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ سروے کے نتائج کے مطابق ملک میں چار میں سے تین افراد بالکل کوئی کتاب نہیں پڑھتے اور صرف نو فیصد افراد نے کتابیں پڑھنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
سروے میں شامل ایک سوال کہ ”آپ دن میں کتنے گھنٹے پڑھنے میں صرف کرتے ہیں چاہے وہ کورس کی کتابیں ہوں یا مذہبی، ناول، تاریخ اور شاعری وغیرہ وغیرہ“ تو اس کے جوابات بڑے دلچسپ آئے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں 16 فی صد نے کہا کہ وہ ایک گھنٹہ پڑھنے میں صرف کرتے ہیں، 3 فی صد نے بتایا کہ وہ 2 گھنٹے 2 فی صد کا کہنا تھا کہ وہ 3 گھنٹے جبکہ 2 فی صد نے 4 گھنٹے مطالعہ کرنے کا جواب دیا۔
لیکن جو بات جو سب سے زیادہ حیرت انگیز تھی کہ 75 فی صد سروے میں شامل افراد نے بتایا کہ وہ کسی بھی قسم کا مطالعہ نہیں کرتے۔
گو کہ یہ ایک چھوٹے نمونے کو لے کر نتائج مرتب کیے گئے ہیں لیکن عمومی طور پر دیکھا جائے تو صورتحال بالکل اسی ہی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے جب بھی اسلام آباد جانے کا موقع ملتا ہے تو ہر اتوار کو ضرور صدر راولپنڈی جانا ایک معمول ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صدر میں اتوار کے دن کتابوں کے سٹال لگتے ہیں۔ ان سٹالوں میں نئی کتابوں کے علاوہ استعمال شدہ کتابیں بھی مناسب قیمت پر ملتی ہیں۔ میں نے گلگت بلتستان سے متعلق اہم کتابیں زیادہ تر انہیں سٹالوں سے خریدا ہے۔ اس دفعہ وہاں جا کر مایوسی ہوئی کیونکہ سٹالوں کی تعداد گھٹ کر بہت کم رہ گئی ہے۔ ایک مشہور سٹال والے منتظم سے اس صورت حال پر گفتگو کی تو انھوں نے بتایا کہ کتابیں خریدنے میں حیرت انگیز طور پر کمی آئی ہے اور وہ کوئی اور کام کا سوچ رہے ہیں۔
یہ دو چار مثالیں ہیں جس سے کتب بینی میں کمی کی کا نقشہ سامنے آتا ہے۔
اس رجحان کی وجوہات پر کئی ریسرچر اور تحقیقی اداروں کی طرف جو فائنڈنگ سامنے لائی گئی ہیں اس کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ سکول اور بچوں کی سطح پر کتابیں پڑھنے کا رجحان بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی وجہ سے بھی عملی طور پر کتابیں پڑھنے میں کمی دیکھی گئی ہے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ یہ بھی دیکھی گئی ہے کہ نظام تعلیم میں صرف رٹا کے تحت نمبر لینے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ یوں کتاب پڑھنے اور خود سے نتائج نکالنے کی استعداد طلبا میں مفقود ہوتی جا رہی ہے ایک اور وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ملک میں لائیبریری کلچر کم ہوتا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی طرف رغبت کم ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں ایک بڑی وجہ مہنگائی بتائی جاتی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے کاغذ، چھپائی اور دیگر اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے یوں کتابیں مہنگی ہیں اور عام قاری کی دسترس سے باہر ہیں۔



بہت خوبصورت معلوماتی تجزیہ۔ بہت شکریہ