رومانوی داستان کی کردار نوری کی اصل قبر کہاں ہے

سندھ پاکستان میں نوری جام تماچی کا روایتی رومانوی داستان صدیوں سے آج تک مقبول ہے۔ اس روایتی رومانوی داستان کا تعلق سندھ میں سمہ خاندان کے دور حکومت ( 1521۔ 1353 ) سے بتایا جاتا ہے۔ سمہ حکمران جام تماچی کا کینجھر جھیل کے کنارے رہنے والے ملاحوں (مچھیرے ) کے ایک خاندان کی نوری نامی لڑکی سے عشق ہو گیا تھا۔ ملاحوں کے غریب خاندان کے پاس ماسوائے ماہگیری کے کوئی ذریعۂ معاش نہیں تھا۔ کینجھر کے کنارے مچھلی کا شکار اور مچھلی بیچنا ہی مچھیروں کا کاروبار تھا۔ مرد مچھلی کا شکار کرتے تھے اور عورتیں کینجھر جھیل کے کنارے مچھلی بیچتی تھیں۔ ایک دن سمہ حکمران جام تماچی کی نظر نوجوان اور خوبصورت دوشیزہ نوری پر پڑی تو اس کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔ نوری بھی دل پھیک بیٹھی۔ دونوں کے عشق کی بات سارے علاقے میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔
سمہ حکمران جام تماچی خوبصورت نوری کے عشق میں سارے ملاحوں اور مچھیروں پر مہربان ہو گیا۔ پوری کینجھر جھیل اور اس کی پیداوار ماہگیروں کے حوالے کر دی۔ اور خود بھی عام مچھیروں کی طرح نوری کے ساتھ بیڑی میں مچھلی کا شکار کرنے لگا جس کو سندھ کے صوفی عظیم شاعر شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے شعر میں اس طرح بیان کیا ہے :
”لڑکی بیڑی چلا رہی تھی اور جام کے ہاتھ میں جال تھا، کل سارا دن کینجھر میں شکار جاری تھا“
اس طرح یہ رومانوی داستان ایک حکمران کی عشق پروری اور عوام پروری کی اعلی مثال ہے۔ نوری جام تماچی کا روایتی رومانوی داستان نہ صرف عشق کی اعلی مثال ہے پر یہ داستان حکمران کی عوام دوستی پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔
یہ داستان آج بھی عوام میں بہت مقبول ہے۔ کچھ روایات کے مطابق جام تماچی اور نوری کی شادی ہوئی تھی لیکن کچھ روایات کے مطابق شادی نہیں ہوئی تھی۔ دونوں کا پیار پاکیزہ تھا اور وفات کے بعد دونوں اکٹھے مکلی کے قبرستان میں دفن ہوئے تھے۔ مگر نوری کی جائے دفن یا اس کی قبر کو جان بوجھ کر متنازع بنایا گیا ہے۔
دراصل نوری اور جام تماچی مکلی کے قبرستان میں والیٔ سندھ جام نظام الدین عرف جام نندو کے مزار کے قریب ایک مزار میں دفن ہیں۔ مزار میں دونوں کی قبریں ہیں۔ لیکن نوری کی ایک قبر کینجھر جھیل کے اندر بنائی گئی ہے جس کے ساتھ ہوندل شاہ کی قبر بھی بنائی گئی ہے جسے نوری کا مرشد بنایا گیا ہے۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ نوری کی یہ قبر محض سیاحت کو فروغ دینے کے لئے بنائی گئی ہوگی۔
اس سلسلے میں سندھ کے مشہور مورخ اور محقق ایم ایچھ پنہور نوری کی کینجھر جھیل میں قبر کے حالے سے اپنی کتاب ”این السٹریشن ہسٹوریکل اٹلس آف سومرا کنگڈم“ کے صفحہ 157 پر لکھتے ہیں کہ، ”نوری کی کینجھر جھیل میں قبر 1959 ء میں اریگیشن ڈپارٹمنٹ نے بنائی تھی۔“ میں محمد حسین (ایم ایچھ) پنہور کی اس رائے کے ساتھ متفق ہوں کہ کینجھر جھیل میں نوری کی قبر جعلی ہے۔ اگر اصل ہوتی تو جام تماچی بھی یہاں دفن ہوتا۔ اگر جھیل والی نوری کی قبر اصل ہے تو مکلی کے قبرستان میں جام تماچی کے مزار میں جام تماچی کی قبر کے ساتھ کون سی نوری کی قبر ہے؟



