پہر: تعریف اور روایت


علم لسان کے ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ لفظ ”پہر“ کا دخول اردو میں سنسکرت زبان سے ہوا ہے وہاں یہ لفظ ”پرہر“ کی شکل میں ملتا ہے جو کہ دن اور رات کے وقت کو آٹھ حصوں میں تقسیم کرنے اور وقت ناپنے کا پیمانہ کے طور پر استعمال کرنے میں ملتا ہیں۔ یہ وقت صبح صادق یا پو پھٹنے سے شروع ہو کر دوبارہ اپنا چکر پورا کر پو پھٹنے سے پہلے پہلے ختم ہوجاتا ہے۔ آٹھ پہر کی اس سائیکل میں * 1 ”پہر کم و بیش تین گھنٹے کا ہوا کرتا ہے“ جو موسم کے مزاج کے اعتبار سے گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔

قدیم سنسکرت کے اسی لفظ پرہر سے لفظ * 2 ”پرہری“ بنا جو کہ پہر کی حفاظت کرنے والوں کے معنی میں مستعمل ہے اور ارد میں بشکل پہریدار ملتا ہے۔ قدیم وقتوں میں جب سواری اور حفاظت کے ذرائع محدود تھے، شہر پناہ یا فصیل شہر کے دروازے پر یا مختلف چوکیوں / ڈاک خانوں پر آمد و رفت، ڈاک کا نظم اور حفاظت کے انتظام کے لئے گھوڑے اور سپاہی رکھے جاتے تھے۔ ایک یا دو پہر تک ان چوکیوں کی حفاظت کرنے کی مناسبت سے ان سپاہیوں کو چوکیدار اور پہریدار کہا جانے لگا ہو گا۔

وہ چوکیدار / پہریدار ہر گھنٹہ پورا ہونے پر دھات کے بنے گھنٹے پر خاص انداز سے چوٹ دے کر / * 3 پہر بجا کر اعلان کرتے تھے کہ وہ پہرے پر موجود ہیں۔ پہریداروں کے اس عمل سے عوام کو نہ صرف وقت کا پتہ چلتا تھا بلکہ انہیں اپنی جان و مال کے محفوظ ہونے کی تسلی بھی ہوا کرتی تھی۔ گزرے چند برسوں سے اس طریقہ کار کا استعمال کارخانوں / کانوں میں سائرن کی آواز کا استعمال کر کیا جانے لگا، جس سے مزدوروں کو شفٹ کے شروع ہونے، شفٹ کے ختم ہونے یا شفٹ کے تبدیل ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ فی الوقت اس کی جدید ترین شکل گھنٹہ گھر اور بڑی عمارتوں میں لگے گھڑیال اور بڑی گھڑیاں ہیں۔ پنڈولم لگی یہ گھڑیاں ہر گھنٹہ گزرنے پر ٹن ٹن کی بھاری آواز سے لوگوں کو وقت گزرنے کا پتہ دیتی ہیں۔

آج بھی قدیم ہندی جنتریوں، قصباتی زندگیوں اور بزرگوں کے درمیان وقت کی آٹھ پہر کی تقسیم رائج ہے۔ ان پہروں کو مختلف زبان میں جن ناموں سے پکارا جاتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

پہر / پہلا پہر یا دھمی ویلا

صبح کی شروعات ”پو پھٹتے“ ہو جاتی ہے۔ اردو اصطلاح میں اسے صبح کاذب کہا جاتا ہے۔ سنسکرت میں اس وقت کو دھمی دا ویلا کہا جاتا ہے۔ مختلف موسموں میں اس کا دورانیہ مختلف ہوتا رہتا ہے۔ عام طور پر اس کا وقت ”صبح 6 سے 9 بجے“ تک مانا جاتا ہے۔

دوسرا پہر /دو پہر/ڈپاراں ویلا

دن کا دوسرا پہر جسے عوام عام بول چال کی زبان میں دوپہر کے نام سے استعمال کرتی ہے سنسکرت میں ڈپاراں دا ویلا کہا جاتا ہے اس کا دورانیہ موسم سرما میں بہت کم اور موسم گرما میں کافی زیادہ ہوتا ہے۔ عام دنوں میں اس کا وقت ”صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے“ تک مانا جاتا ہے۔

تیسرا پہر / سہ پہر یا پیشی ویلا

دن کا تیسرا پہر جو عموماً دوپہر کے فوری بعد شروع ہو جاتا ہے سنسکرت میں پیشی دا ویلا کہلاتا ہے۔ اس کا دورانیہ سردی میں بہت ہی زیادہ کم اور گرمی میں زیادہ ہوتا ہے۔ عام موسم میں اس کا وقت ”دوپہر 12 بجے سے 3 بجے“ تک مانا جاتا ہے۔

چوتھا پہر / چو پہر /شام یا دیگر ویلا

یہ دن کا آخری پہر ہوتا ہے جس کا دورانیہ شام ہونے تک واقع ہوتا ہے سنسکرت میں دیگر دا ویلا کہلاتا ہے۔ گرمی کے موسم میں اس کا دورانیہ کافی طویل ہوتا ہے۔ عام موسم میں یہ وقت ”سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے“ تک مانا جاتا ہے۔

پانچواں پہر یا نماشاں ویلا

شام یا سانجھ کی سرحد پار کرتے ہی وقت کا پانچواں اور رات کا پہلا پہر شروع ہوجاتا ہے۔ اسے سنسکرت میں نماشا دا ویلا کہتے ہیں۔ یہ پہر سورج غروب ہونے کے فوری بعد شروع ہو جاتا ہے

عام طور پر یہ وقت ”شام 6 بجے سے لے کر رات 9 بجے“ تک مانا جاتا ہے۔

چھٹا پہر یا کفتاں ویلا

رات کا یہ پہر اس وقت شروع ہوتا ہے جب رات کی سیاہی چہار سو پھیلنے لگتی ہے اور ہر طرف گہرا اندھیرا چھا جاتا ہے رات کی اس گہرائی کو سنسکرت میں کفتاں دا ویلا کہا جاتا ہے اور یہ رات کا دوسرا پہر ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ ”رات 9 بجے سے رات 12 بجے“ تک کا دورانیہ سمجھا جاتا ہے۔

ساتواں پہر، آدھی رات یا ادھ رات ویلا

یہ رات کا تیسرا پہر ہوتا ہے جس میں رات اپنا آدھا سفر طے کر چکی ہوتی ہے اور صبح قریب آنے لگتی ہے۔ اسے آدھی رات یا ادھ رات ویلا کہتے ہیں یہ وقت عمومی طور پر ”رات 12 بجے سے صبح 3 بجے“ تک کا مانا جاتا ہے

آٹھواں پہر یا اسور ویلا

یہ رات کا چوتھا اور کل ملا کر آٹھواں پہر ہوتا ہے جب رات پوری طرح اپنا سفر طے کر چکی ہوتی ہے، سیاہی آہستہ آہستہ چھٹنے لگتی ہے اور آسمان کے کناروں پر سفیدی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔ اسے رات کا آخری پہر، آٹھواں پہر یا اسور دا ویلا کہتے ہیں عام موسم میں یہ وقت ”صبح 3 بجے سے 6 بجے“ تک کا ہوتا ہے۔

وقت کی یہ قدیم اور خوبصورت تقسیم نہ صرف اردو نثر بلکہ اردو شاعری میں بھی ایک عرصہ دراز سے مستعمل ہے جسے ہم۔ ایک زمانہ قدیم سے دیکھتے، پڑھتے اور سنتے آ رہے ہیں، آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ اردو شاعروں نے وقت کی اس خوبصورت تقسیم کی اکائی کو کس انداز سے دیکھا اور کس خوبصورتی سے برتا ہے، چند ایک مثالیں دیکھیں۔

پہلا پہر/ پہر
دن کے پہلے پہر میں ہی اپنا بستر چھوڑ کر
روشنی نکلی ہے نیند اپنی فلک پر چھوڑ کر
سوپنل تیواری

دو پہر
یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں
اب آئینے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا
ناصر کاظمی

(سہ پہر)
آہستگی سے گھٹتی ہوئی سہ پہر کی دھوپ
دل میں اتر رہی ہے کسی خواب کی طرح
(امجد اسلام امجد)

سہ پہر ہی سے کوئی شکل بناتی ہے یہ شام
خود جو روتی ہے مجھے بھی تو رلاتی ہے یہ شام
(شاہد لطیف)

(چار پہر /چو پہر)
اندہارے کے بادل منجے بیڑی چو پہر
خدایا تو بھیجیں ہمن باد دل خواہ
قلی قطب شاہ

(پانچ پہر)
پانچ پہر دھندے گیا، تین پہر گیا سوئے
ایک پہرہری نام بن مکتی کیسے ہوئے

(چھٹا پہر یا آدھی رات)
آدھی رات صدا کس نے دی
شمع بجھا دو وقت سحر ہے
ناز نظامی

(آٹھوں پہر)

اشک آنکھوں میں لئے آٹھوں پہر دیکھے گا کون
ہم نہیں ہوں گے تو تیری رہ گزر دیکھے گا کون
(افضل الہ آبادی)

لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہر
نہیں لگتی مری تالو سے زباں آٹھ پہر
جرات قلندر بخش۔
(حوالہ جات:۔
1) سہنی اڈوانس اردو ہندی ڈکشنری، صفحہ 110

3) پہر بجنا:۔ ہر پہر گزرنے پر نوبت یا گھنٹے کا بجنا۔ جامع فیروز الغات / پ ہ کا خانہ دیکھیں، صفحہ 231۔ )

Facebook Comments HS

2 thoughts on “پہر: تعریف اور روایت

  • 06/04/2022 at 10:56 شام
    Permalink

    بہت علمی اور تحقیقی مضمون لکھا ۔ پہلے پہر سے آٹھویں پہر تیک کی منازل بڑی دلکش لگیں ۔

    • 07/04/2022 at 9:14 صبح
      Permalink

      میں آپ کا شکرگزار ہوں ۔

Comments are closed.