شتر بے مہار ریاستی نظام
شتر بے مہار سے مراد بے نکیل اونٹ ہے جو آزاد، بے قابو، ہر قسم کی پابندی سے آزاد، بے لگام ہو۔
ملکی موجودہ صورتحال بھی اسی لفظ کی عکاسی کر رہی ہے گزشتہ چند دنوں سے ایسا لگ رہا ہے ایک شتر بے مہار ملک پر مسلط ہے جو چاہے کرے نہ تو اس کو قانون کی نکیل ہے اور نہ ہی آئین کی پابندی وہ جو چاہے خودسر کردے وہ ریاست کے تمام تر اصولوں سے بالاتر ہے۔
ملک اس وقت ایک آئینی بحران سے گزر رہا ہے صدر عارف علوی کی جانب سے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد نئے انتخابات عمران خان کے لیے چیلینج بن چکے ہیں۔
موجودہ صورتحال اتنی پیچیدہ ہو چکی ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
ایک جانب قانونی ماہر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے حکومت کے خلاف بیرونی سازش قرار دے کر عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کرنے اور قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے کو آئین شکنی قرار دے رہے ہیں، مگر سابقہ حکومت اپنے اقدامات سے مطمئن نظر آ رہی ہے۔
سپریم کورٹ میں دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ پارلیمانی کارروائی میں آئین کی خلاف ورزی ہو تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے، ظاہری طور پر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکتی تھی، اگر عدالت ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم کر دیتی ہے تو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ لازمی ہو جائے گی۔
دوسری جانب وفاق کے بعد پنجاب میں بھی سیاسی بحران نے جنم لے لیا ہے جہاں پنجاب اسمبلی کے مرکزی دروازے کو خاردار تاریں لگا کر عوامی نمائندوں کے لیے بند کر لیا گیا جس کے بعد اپوزیشن نے ایک ہوٹل میں پنجاب اسمبلی کا علامتی اجلاس منعقد کیا اور حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بنانے کی قرارداد پیش کی گئی جس میں 199 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ جبکہ پی ٹی آئی پنجاب نے اپنے ہی ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے، اس وقت پاکستان کا سب بڑا صوبہ بغیر وزیر اعلیٰ کے چل رہا ہے
ادھر سندھ اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی اور ہنگامہ آرائی کے باعث اجلاس ملتوی کر لیا گیا۔
پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جمعے کو یوم تحفظ آئین منانے کا اعلان کر دیا ہے، مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آئین کی توقیر نہیں رہتی تو پاکستان کے وجود پر سوالیہ نشان ہو گا، ہمارے اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ آئین کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
ملکی سیاسی تاریخ میں بیک وقت قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں آئینی، قانونی و سیاسی بحران کا شکار ہیں۔ حکومتی اقدام سے تاثر مل رہا ہے کہ وہ شتر بے مہار پر سوار ہو کر خودساختہ فیصلے کرنا چاہتے ہیں جس کا نقصان صرف اور صرف پاکستان کو ہو رہا ہے۔


