خواجہ سراؤں سے معاشرے میں کیا جانے والا سلوک


آج بہت وقت کے بعد کچھ لکھنے کی ہمت کر رہی ہوں، معلوم نہیں کہ اپنی بات آپ تک ٹھیک سے پہنچا پاؤں گی کہ نہیں۔

ایک ماہ پہلے ایک دوست کی شادی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ رخصتی کا دن تھا، سب ہلہ گلہ کرنے میں مصروف تھے کہ اتنے میں یال کے دروازے سے کچھ ”خواجہ سرا“ یا عام زبان میں جن کو ہم ”کھسرا“ یا ”مورت“ کہتے ہیں وہ داخل ہوئے اور اپنے روایتی انداز سے ناچتے ہوئے وہ پوچھ رہی تھیں کہ دلہن کی ماں کدھر ہے، اس سے ”ویل“ (خوشی کے موقعے پہ لئے جانے والے پیسے ) لیں گی ہم۔ کچھ عورتوں نے ان کو چند نوٹ تھما دیے اور کہا کہ جائیں۔

لیکن وہ اصرار کر رہی تھیں کہ لڑکی کی ماں سے بھی ملیں گی۔ میں اپنی دوست کے پاس سٹیج پہ موجود تھی اور اپنی عادت سے مجبور بہت غور سے اردگرد موجودہ افراد کا سلوک دیکھ رہی تھی۔ خیر تھوڑی دیر بعد وہ خواجہ سرا سٹیج کے پاس موجود تھیں، میں اٹھ کے ان کے پاس گئی اور ان کو بتایا کہ لڑکی لی ماں کدھر ہے، لیکن اس سے پہلے کہ وہ لڑکی کی ماں سے ملتیں، کچھ مرد ہال میں داخل ہوئے اور ان خواجہ سرا کو گھسیٹ کر ہال سے باہر نکالنے کی کوشش کرنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے تو زمیں پہ گری ہوئی خواجہ سراؤں کو لاتیں مارنی شروع کر دیں اور ساتھ مغلظات بکنی بھی کہ یہ نشے کے لئے پیسے مانگ رہی ہیں، ان کا روز کا کام ہے اور نہ جانے کیا کچھ۔

میں نے اپنی دوست سے کہا کہ ان کو منع کرو، یہ ظلم ہے کہ خدا کی مخلوق کی ایسے تذلیل کر رہے ہو تم لوگ، خدا سے ڈرو۔ لیکن اس نے کہا کہ بڑے دیکھ لیں گے، ہماری کوئی ضرورت نہیں بولنے کی۔ ویسے بھی اگر ایک عورت کسی غلط بات کے خلاف بولے تو وہ بدزبان کہلاتی ہے۔ میرا دل بہت برا ہو چکا تھا، اس لئے میں واپس آ گئی، لیکن اس وقت سے میری آنکھوں کے سامنے وہ ذلت آمیز مناظر گم رہے ہیں۔ آخر ہم کیوں خواجہ سرا کو ایک چھوت کی طرح دیکھتے ہیں؟ کیا وہ اللہ کی مخلوق نہیں؟ ان کی ذات کا ادھورا پن خدا کی طرف سے ہے، ان کا اپنا انتخاب نہیں۔ لیکن پھر بھی، پھر بھی ہم ان کو سزا دیتے ہیں، بناء کسی جرم اور گناہ کے۔

ایک خواجہ سرا جب پیدا ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس جو ٹھکرانے والے اس کے ماں باپ ہوتے ہیں، وہ ماں باپ جن کو اولاد کا سائبان سمجھا جاتا ہے، جو اولاد کو زمانے کی سرد و گرم ہوا سے بچا کے رکھتے ہیں لیکن جب ایک خواجہ سرا پیدا ہوتی ہے تو ماں باپ کی اکثریت ان کو زمانے کی تپتی دھوپ میں جھلسنے کہ لئے چھوڑ دیتی ہے، یہ سوچے بغیر کہ باہر موجودہ بھیڑیے کسی بھی وقت ان کا شکار کر سکتے ہیں۔ جن کو ماں باپ ٹھوکر مارتے وقت نہیں سوچتے تو یہ باقی ظالم کیا سوچیں گے۔ آخر کیوں بھول جاتے ہیں ماں باپ کہ یہ اللہ کی طرف سے امتحان بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ دیکھنا چاہتا ہو کہ اس کا بندہ اس کے فیصلے کے سامنے سر جھکاتا ہے یا نہیں؟ لیکن خدا کی کس کو پڑی ہے، دنیا کے سامنے ناک اونچی رہے۔

اور یہ جو مرد ان کو دھتکارتے ہیں وہی اپنی ہوس پوری کرنے بھی ان کے پاس جاتے ہیں، بہت سے اونچی ناک والوں کو میں نے ان خواجہ سراؤں کے سامنے بچھتے دیکھا ہے لیکن اقرار نہیں کرتے، کیونکہ انا اجازت نہیں دیتی کی اپنی درندگی کے قصے بآواز بلند بیان کر سکیں۔

ہر روز سیکڑوں خواجہ سرا درندگی کا نشانہ بنتی ہیں، ہر روز کوئی نہ کوئی خواجہ سرا اپنی زندگی کی ڈور اس ظالم زمانے سے کٹوا دیتی ہے، اپنی پیدائش سے، اپنی موت تک ایک خواجہ سرا اپنی عزت اور اپنی زندگی کی جنگ لڑتی ہے، لیکن افسوس ہم آج تک اس بات کو نہیں سمجھ سکے۔ میں تو بس ناچتی گاتی خواجہ سرا اپنی تفریح کا سامان لگتی ہے، کبھی یہ سوچا ہے کہ آخر کیوں اس نے کسی عزت دار پیشے کو نہیں اپنایا؟ آخر کیوں وہ اپنی اس تذلیل کو برداشت کر رہی ہے؟ کیونکہ اس کو اس ٹھکرائے ہوئے معاشرے میں جینا ہوتا ہے، اور جب معاشرہ اس کو عزت دینے سے انکار کرتا ہے تو وہ اپنی عزت نفس کا سمجھوتا کرتی ہے اور ہر روز خود کو کانٹوں سے گزارتی ہے۔ پاکستان کی تو اس حوالے سے تاریخ بھری پڑی ہے۔

چند ہفتے پہلے پشاور میں ایک خواجہ سرا مانو کو صرف اس بات پہ قتل کیا گیا کہ اس نے اپنے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا اور بدقسمتی دیکھئے کہ اس کے گھر والوں کو اپنی نرینہ اولاد بھی قبول کرنے میں شرم محسوس ہو رہی تھی۔ اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کیا ہوگی کہ نہ زندہ رہتے ہوئے ماں باپ کی آغوش نصیب ہوئی اور نہ مر کر ان کی ان نظر۔ پشاور سے ہی تعلق رکھنے والی ایک خواجہ سرا ڈولفن منظر عام پہ اس وقت آئی تھی جب ایک چینل کے رپورٹر کو اس نے انگریزی میں جواب دیا تھا اور پھر تحقیق کرنے پہ معلوم ہوا کہ وہ اپنے سکول اور کالج کی ٹاپر تھی، جس کو لوگوں کی باتوں کی وجہ سے پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ میڈیا نے اس معاملے کو بہت اٹھایا تھا، حکومت نے تعلیمی اخراجات اٹھانے کے وعدے بھی کیے تھے، لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو، آج بھی ڈولفن ایک رقاصہ کہ طور پر کام کر رہی ہے۔ حکومتی دعوے اور کھوکھلے وعدوں نے خواجہ سراؤں کو کبھی تحفظ نہ دیا۔

کراچی میں ایک خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ پہ بات کرنے والی خواجہ سرا کو اس کے گھر سے اغوا کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا لیکن اس پہ نہ کسی میڈیا چینل نے کوئی ڈھنڈورا پیٹا نہ کسی انسانی حقوق کی تنظیم نے واویلا کیا، نہ کوئی کمیٹی بنی اور نہ کسی وزیر نے پولیس کو فوری کارروائی کا حکم دیا کیونکہ ایک خواجہ سرا کی زندگی لوگوں کے لئے محض ایک تفریح اور مذاق ہے، انسان تو کوئی ان کو سمجھتا ہی نہیں۔

مانسہرہ میں چند دن پہلے کچھ ہوس کے پجاریوں نے پانچ خواجی سراؤں کو گولیوں کا نشانہ بنایا، لیکن کہیں سے بھی شور نہ اٹھا؟ آخر کیوں ہم اس قدر سنگدل ہو چکے ہیں کہ ہم انسانیت کے مقام سے نیچے گرتے جا رہے ہیں اور اس بات پہ افسوس بھی نہیں کرتے بلکہ بے شرمی سے اس کا اعتراف کرتے ہیں۔

میں ایک جگہ پڑھ رہی تھی کہ خانہ کعبہ کی صفائی کرنے والوں میں خواجہ سرا بھی شامل ہیں تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ خدا کو ان سے اتنی محبت ہے کہ اپنے گھر کی صفائی کا کام بھی ان کے سپرد کر رکھا ہے، تو پھر میں اور آپ کون ہوتے ہیں ان کو حقیر جاننے والے۔

ایک خواجہ سرا کو خدا نے اپنے گھر تو جگہ دی ہے لیکن اس کو جنم دینے والے اس کو جگہ نہیں دیتے۔ کتنے پتھر دل ہیں ہم لوگ کہ ایک جیتے جاگتے وجود کو اس کے ادھورے پن کی بناء پہ، زمانے کے ڈر سے اپنی زندگی سے نکال پھینکتے ہیں۔ جیسے آپ سب کا دل کرتا ہے کہ آپ کی پرسکون زندگی ہو، ایک ہنستا بستا گھر ہو، ویسے ہی ایک خواجہ سرا کا بھی دل ہوتا ہے لیکن ہمارے سفاک رویوں کی وجہ سے وہ تنہا رہنے پہ مجبور ہوتی ہیں۔

آپ میں سے بہت سے لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ ہر خواجہ سرا شریف یا معصوم نہیں ہوتی، لیکن ایسا ہرگز نہیں، پیدائشی طور پر کوئی انسان کمینہ پیدا نہیں ہوتا، اس کو اچھا یا برا بنانے والا معاشرہ اور اس کا ماحول ہوتا ہے۔ اس لئے دل کو دوسروں کے لئے نرم کیجیئے، نا یہ دنیا ہمیشہ رہے گی اور نہ آپ، زندہ رہیں گے تو بس ہمارے اعمال۔

جاتے جاتے چند ایسے خوش قسمت خواجہ سراؤں کا تذکرہ بھی کرتی چلوں جنہوں نے سب کی پرواہ کیے بغیر معاشرے میں باعزت مقام حاصل کیا، البتہ حقوق کی جنگ وہ بھی آج تک لڑ رہی ہیں۔ عائشہ مغل، جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے وفد کی نمائندگی کی، اور یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ ایک خواجہ سرا نے اتنے بڑے پلیٹ فورم پہ نمایندگی کی، عائشہ نے قائداعظم اور علامہ اقبال جیسی جید درسگاہ میں تدریسی فرائض بھی سر انجام دیے۔ ڈاکٹر سارہ گل جنہوں نے میڈیکل کی فیلڈ میں اپنا لوہا منوایا، ڈاکٹر معیز اعوان، مایا زمان اور ایسی بہت سی کامیاب خواجہ جو سب کے لئے ہمت کی اعلی مثال ہیں۔

یہ بات یاد رکھئیے کہ ایک خواجہ سرا کبھی بھی پیدائشی رقاصہ، جسم فروش، ڈاکٹر یا استاد نہیں ہوتی، بلکہ اس کا معاشرہ اور ماحول اس کو جس سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے وہ اس میں ڈھل جاتی ہے۔ گھر میں خواجہ سرا کی پیدائش کو گالی سمجھا جاتا ہے، خدارا اس سوچ کو تبدیل کریں، خدا کی کوئی بھی تخلیق بے کار نہیں ہوتی۔ ایک خواجہ سرا اپنی مرضی سے نہیں بنتی خواجہ سرا، بلکہ خدا اس کو منتخب کرتا ہے، پھر آپ اور میں کون ہوتے ہیں اللہ کی اس تخلیق پہ اعتراض کرنے والے۔ خدا کے واسطے ظلم اتنا کیجئے جتنا کل کو خدا کی عدالت میں آپ برداشت کر سکیں۔ ایک خواجہ سرا اچھوت نہیں، اس کو بھی ایک عام انسان کی طرح حقوق اور زندگی اپنے ڈھنگ سے گزارے کا حق حاصل ہونا چاہیے، عزت کی زندگی گزارنا ان کا بھی حق ہے، ان کو کوٹھوں، ناچ گانے اور اپنی ہوس تک محدود نہ رکھیں۔

اور آخر میں ایک بات، آپ میں سے بہت سے لوگ اس کالم کو پڑھتے وقت سوچیں گہ کہ میں نے خواجہ سرا کے لئے مونث کا صیغہ کیوں استعمال کیا ہے، کیونکہ میری نظر میں وہ ایک عورت ہی ہوتی ہیں، اتنی تکلیف اور مصیبتیں ایک عورت ہی برداشت کر سکتی ہے۔ اس لئے ایک دوسرے کو جج کرنے کی بجائے آئیں آپ اور میں مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر انسان سکون سے رہ سکے، چاہے پھر وہ کوئی خواجہ سرا ہو یا ایک مزدور، سکون سے رہنا سب کا حق ہے، اسے مت چھینیے۔

Facebook Comments HS