دیہی معاشرت کا تمدنی اسلوب


آج سے تیس پینتیس سال پہلے دیہی معاشرت سادہ لوح، حقیقی اور بناوٹ سے کوسوں دور تھی لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ جدید ترقیاتی ذرائع کی کمی کی وجہ سے اس معاشرت کی مشکلات اور مسائل بھی ناقابل برداشت تھے۔ مگر یہ مسائل، الجھنیں اور سادگی اس معاشرت کی پہچان تھیں۔

اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ دیہات کی تازہ اور پاک ہوائیں نا صرف صحت افزا ہیں بلکہ روح کو سرور اور دل کو سکون بخشتی ہیں۔ آنکھوں دیکھے فطرت کے حسین مناظر تصاویر سے کہیں زیادہ دلکش اور مسرت انگیز ہوتے ہیں۔

گاؤں والوں کی زندگی سر سے لے کر پاؤں تک سادگی، اخلاص، ہمدردی اور مروت کا نمونہ ہوتی ہے۔ گرمیاں سردیاں ایک ہی لباس میں گزر جاتی ہے۔ اگر جیب اجازت دے تو سر پہ پگڑی باندھ لی۔ الغرض دیہاتی زندگی سادہ لوح، پرسکون اور صحت افزاء ہوتی ہے۔

دیہات میں گاؤں کے ایک فرزند کی شادی پر پورا گاؤں انتظامیہ کا کردار ادا کرتا ہے۔ کوئی شادی آئی تو سلامی دینے والوں نے پیسوں کی جھڑی لگادی۔ سب گلیوں سے دودھ پہنچ گئے، چارپائیاں آ گئیں، بستروں کے ڈھیر لگ گئے اور ایندھن کا انبار لگ گیا۔ گاؤں کی شادی سادگی، تفریح، اپنائیت اور اخلاص کا امتزاج ہوتی ہے۔

دیہاتیوں کی محنت و مشقت بھی قابل داد ہے۔ شفق پھوٹنے پر آنکھوں سے نیند کو دھو کر ہاتھ میں ہل تھامے کھیتوں کو چل دیے۔ کوئی نالائی میں لگا ہے تو کوئی آبیاری میں۔ کوئی گھاس کاٹ رہا ہے تو کوئی ایندھن کے لیے درخت کاٹ رہا ہے۔ کوئی رستہ بنانے میں مشغول ہے تو کوئی باڑ لگانے میں۔

دیہاتیوں کی صحت بھی قابل رشک ہوتی ہے۔ کام کی کثرت، غذا کی فراوانی، زندگی کی سادگی اور آب و ہوا کی پاکیزگی ان کو فولاد بنا دیتی ہے۔ جب دیکھو چاق و چوبند نظر آتے ہیں۔ نہ حکیم کا احسان نہ ڈاکٹر کی خوشامد۔

گاؤں کے لوگ ہمدردی کے پتلے ہوتے ہیں۔ مہمان آ جائیں تو اللہ کی رحمت خیال کرتے ہیں اور اس کی تواضع میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ایک گھر کا مہمان گاؤں بھر کا مہمان ہوتا ہے۔

البتہ اب جدید دور کی ہوا دیہاتوں میں بھی پہنچ رہی ہے۔ شہروں کے فیشن اور تکلفات دیہاتوں میں بھی دخل پا رہے ہیں۔ اب کھیتی باڑی میں ہل کی بجائے ٹریکٹر کا استعمال ہوتا (جو کہ ٹیکنالوجی کے مد میں ایک اچھا اقدام ہے ) ۔ ٹیوب ویل بھی لگ رہے۔ جدید نہری نظام آ رہا۔ ایک گاؤں کو دوسرے گاؤں سے پختہ سڑکوں کے ساتھ ملایا جا رہا۔ اس سے دیہاتوں میں شہری تمدن پھیل رہا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب دیہاتوں کی سادگی اور پاکیزگی ماضی کی داستان بن کر رہ جائے گی۔

Facebook Comments HS