پاکستان غداروں کا نہیں آئین اور جمہوریت پسندوں کا ملک ہے
7 اپریل پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس دن ملک کی سب سے بڑی عدالت نے انصاف کا بول بالا کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کی پامالی کا گھناؤنا منصوبہ نا کام بناتے ہوئے تاریخی فیصلہ دیا۔ آئین اور جمہوریت پسندوں کو اس فیصلے سے بہت حوصلہ ملا ہے انصاف کے تقاضوں پر پورا اترتا یہ فیصلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت کی نہیں بلکہ پورے عوام کی جیت ہے۔
پاکستان کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی رکھنے میں آزاد ہے بڑی سیاسی جماعتوں کا بھی شعور اتنا بلند ہے کہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے ملکی اور قومی مفادات کو قربان نہیں کرتیں اگر ایسا ہوتا تو آج پاکستان مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی جیسی بڑی جماعتیں ایک ساتھ کھڑی نہ ہوتیں۔ اسی طرح اگر ان جماعتوں کا سیاسی شعور کمزور ہوتا تو ماضی کے اختلافات کی وجہ سے آج ان جماعتوں کے رہنما اور کارکن آپس میں گتھم گتھا ہوتے۔ گو کہ ابھی آئیڈیل سیاسی شعور کی حقیقی منزل سے سیاسی جماعتیں کوسوں دور کھڑی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان جماعتوں کا سیاسی شعور مسلسل بڑھ رہا ہے اس حوالے سے بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کا کردار لائق تحسین ہے۔
سیاسی اختلاف بذات خود کوئی بری چیز نہیں ہے بلکہ اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے کی کردار کشی کرنا اور اسے دشمنی میں تبدیل کرنا، نا پسندیدہ عمل ہے۔ پاکستان کی تمام جماعتوں کو اپنے کارکنوں کی اس نہج پر تربیت کرنی چاہیے کہ وہ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کریں بلکہ مخالف کی رائے، خیال اور نظریے سے احترام اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر اختلاف کریں ان کو یہ بھی باور کروانا چاہیے کہ جس طرح ان کو، کوئی بھی، رائے، خیال یا نظریہ رکھنے کا حق حاصل ہے یہی حق مخالفین کو بھی حاصل ہے۔ اس اختلاف کی بنا پر خود کو حق جبکہ مخالف کو باطل اسی طرح خود کو محب وطن اور مخالف کو غدار سمجھنا در حقیقت سیاسی بے شعوری کی بدترین مثال ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے لے کر کارکنوں تک کا باہمی اختلاف در حقیقت ملک و ملت کی خدمت کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کا مسابقہ ہے۔
اس وقت تک ملک میں، تیسری بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے گزشتہ روز سپریم کورٹ کی طرف سے آنے والے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت دوبارہ بحال ہو گئی ہے۔ اس جماعت کے تمام رہنماؤں کو اپنا خود احتساب کرنا چاہیے اپنی حکومت میں معاشرے میں نفرتوں کی خلیج کو گہرا کرنے کے سوا اس جماعت نے کیا کیا ہے۔ ؟ اس جماعت کی قیادت سے لے کر عام کارکن تک سب نے مخالفین کو چور ڈاکو کہنے کے سوا عملی حوالے سے کچھ نہیں کیا۔ مخالفین کو دشنام کے اسلحہ سے ڈھیر کرنے کی پالیسی سے اس جماعت نے پاکستان کے لئے بہت سی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ جناب عمران خان وقت سے سبق حاصل کریں اور اپنی سیاسی جدوجہد کو ایک مثبت سمت دینے کی کوشش کریں ان برسوں میں مخالفین کو چور ڈاکو قرار دے کر اور اپنے مصاحبین کی طرف سے ان کی کردار کشی کروا کر انہوں نے ملک و ملت کی کوئی خدمت انجام نہیں دی۔ مخالفین کو ایک مفروضے کی بنیاد پر غدار قرار دے کر خان صاحب نے ملک و ملت کے وقار سمیت سالمیت کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے نوجوان نسل کے ذہنوں میں جھوٹے افسانوں کی بنیاد پر جو زہر خان صاحب اور دوسرے رہنماؤں نے بھر دیا ہے اس کے اثرات خدانخواستہ ظاہر ہونا شروع ہو گئے تو ملک کا امن و امان تباہ ہو سکتا ہے۔
لندن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف پر حملہ ثابت کرتا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ خان صاحب اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کریں اور مخالفین کے متعلق معاندانہ رویہ ترک کر دیں قوم سے خطاب میں اگر ایک مرتبہ پھر اپنے حامیوں کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں تو نفرت اور انتشار کی آگ مزید بھڑکے گی۔ اگر خان صاحب سیاست میں اخلاق نامی کسی شے کے وجود کے قائل ہیں تو انہیں بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی سنگین غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کی تاریخ میں بنیادی کردار رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کے قائدین اور ممبران اسمبلی کو غدار قرار دینے کا تعلق ہے تو خان صاحب کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ غدار اور محب وطن ہونے کا معیار ان کی ذات گرامی نہیں ہے کہ ان کا حامی محب وطن ٹھہرے اور سیاسی مخالف غدار۔ ملکی آئین کا احترام کرنے والا ہر شہری بغیر کسی امتیاز کے محب وطن ہے حب الوطنی کا معیار کوئی ایک سیاسی جماعت، ادارہ، مذہب، یا رہنما نہیں بلکہ حب الوطنی کا معیار اس ملک کے آئین کا احترام ہے۔
حقوق اور آئین کی پاسداری کی بات کرنا قطعاً غداری نہیں اور آئین کے مطابق ملک کو معاشی بحران میں دھکیلنے والے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد اسمبلی میں پیش کرنا بھی غداری نہیں ہے غداری اپنے ہی ملک کے لوگوں کو غائب کرنا، اپنے ہی ملک کے لوگوں کے حقوق کو غصب کرنا ہے اسی طرح وہ آئین جو تمام باشندوں کو موتیوں کی طرح ایک لڑی میں پرو کر ان کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے، کو توڑنا غداری ہے۔
اپنے ہی لوگوں کے سینے پر غداری کے میڈل سجانے اور قوم کو تقسیم کرنے والوں کو کیا کہا اور کیا لکھا جانا چاہیے۔ کروڑوں لوگوں کی حمایت کی حامل سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور ممبران اسمبلی کو غدار قرار دے کر قاسم سوری اور مراد سعید جیسے لوگوں کی شمولیت سے ”محب وطن کلب“ قائم کرنے کو کیا کہا جانا چاہیے! نام نہاد عمرانی محب وطن کلب کے ممبران کیا جانیں حب الوطنی کا معیار کیا ہے؟ اپنی حکومت کو بچانے کے لئے آئین کو قربان کرنے والوں کو کیا معلوم حب الوطنی کا معیار کیا ہے حب الوطنی کا معیار پوچھنا ہے تو مظلوم ہزارہ سے پوچھو جو بار بار اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے کے بعد بھی ریاست کے خلاف ایک حرف زبان پر نہیں لاتے، حب الوطنی کا معیار اس فوجی سے پوچھنا چاہیے جو اگلے مورچوں پر دشمن کے دانت کھٹے کرتا ہے حب الوطنی کا معیار وہ شخص بتا سکتا ہے جو بار بار وزارت عظمی کے عہدے سے غیر قانونی طریقے سے ہٹایا جاتا ہے لیکن ملک کے خلاف ایک حرف بھی زبان پر نہیں لاتا بلکہ عوام کے حقوق کے لیے اس کی آواز مزید توانا ہو جاتی ہے اور حب الوطنی کا معیار وہ شخص بخوبی جانتا ہے جو اپنی بیوی کی شہادت کے بعد بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگاتا ہے حب الوطنی کا معیار ان جرات مند صحافیوں سے پوچھا جانا چاہیے جو بدترین حالات کے باوجود عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے سے باز نہیں آتے۔


