ایک بھولا بھالا درویش حکمران


اسے دیکھ کر گمان تک نہیں ہوتا تھا کہ یہ وہ شخص ہے جسے اللہ والوں نے کروڑوں لوگوں پر حکمران کیا۔ بچوں جیسا چہرہ، ویسی ہی سی معصومیت اور سوجھ بوجھ۔ سننے میں آیا ہے کہ مالی طور پر تو اتنا خوش حال نہیں تھا مگر بہرحال اس پر پہلی ہی نظر ڈال کر دیکھا جا سکتا تھا کہ فطرت نے خوب فارغ البالی عطا کر رکھی ہے۔ وہ بھی اتنا بے پروا تھا کہ کبھی ٹرانسپلانٹ کا نہیں سوچا۔

اس کے حکمران بننے کی کہانی دلچسپ ہے۔ صحیح بات تو کسی کے علم میں نہیں مگر ایک روایت بہت مشہور ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک بھوکی پری کو اس نے پیٹ بھر کر کھلایا تھا جس کے جادو سے اس کی قسمت پلٹ گئی۔ وہ ایک پسماندہ سے علاقے کے ممبر اسمبلی منتخب ہو چکا تھا۔ وزیراعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو وہ بھی لاہور پہنچا۔ جب وہ کپتان کو سلام کرنے کے لیے پہنچا تو ایک طویل قطار موجود تھی۔ وہ بھی لائن میں لگ گیا۔ گھنٹہ بھر بعد اس نے خود کو کپتان کے سامنے پایا۔

”اپنا تعارف کروائیں“ ۔ کپتان نے روکھے لہجے میں کہا۔

”میں عثمان بزدار ہوں۔ معاف کیجیے گا میں آپ کے سامنے پیش ہونے سے پہلے اپنے کپڑے استری نہیں کروا پایا۔ ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں ہے۔ میں اسی کے کنیکشن کی درخواست لے کر حاضر ہوا ہوں“ ۔ درویش نے کہا۔

کپتان یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ پھر اسے یاد آیا کہ ایک اللہ والی نے اسے ایسے ہی درویش کی آمد کی خبر دے رکھی ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ کپتان کا ساتھ دینے کو آمادہ ہو گیا تو کپتان کے تخت کو کوئی نہیں ہلا پائے گا۔ کپتان نے ترنت اس درویش کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کا پروانہ جاری کر دیا۔

خدا کی قدرت ہے۔ موسیؑ کے متعلق سنتے آئے تھے کہ وہ آگ لینے پہاڑ پر گئے تو پیغمبری لے کر لوٹے۔ اور یہاں ہم نے اپنے زمانے میں خود دیکھا کہ کیسے ایک درویش محض بجلی کا کھمبا لینے گیا تھا اور حکومت لے کر پلٹا۔

حکومت پانے کے بعد بھی اس کے اطوار نہیں بدلے۔ ایک مرتبہ وہ ایک گاؤں کے دورے پر گیا تو ایک بڑھیا کا حال جاننے کے لیے اس سے ملا۔ بڑھیا حیران ہوئی کہ یہ کون اجنبی ہے جو یوں پوچھ پریت کر رہا ہے۔ درویش نے سمجھانے کی کوشش کی کہ میں پنجاب کا وزیراعلیٰ ہوں۔ بڑھیا کی سمجھ میں نہ آیا کہ وزیراعلیٰ کون ہوتا ہے، کیا یہ پٹواری سے بھی بڑا افسر ہوتا ہے یا گرداور جیسا۔ تس پہ درویش کے ساتھی افسر نے مداخلت کی اور بڑھیا کو بتایا کہ یہ شہباز شریف لگے ہوئے ہیں۔

ایسے ہی طرح طرح کے قصے مشہور ہوئے۔ کرونا پھیلا تو اس سادہ فطرت درویش نے ڈاکٹروں سے بیٹھک رکھی اور بات کو بالکل ابتدا سے سمجھنے کی کوشش کی تاکہ صورت حال کو قابو کیا جا سکے۔ یوں اس نے پوچھ لیا کہ کرونا کاٹتا کیسے ہے۔ مزید بہت سے قصے بھی عوام میں پھیلے، جانے کتنے سچے تھے کتنے جھوٹے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب درویش پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر میں بیٹھا تو پرواز کے کچھ دیر بعد اس کی طبیعت گھبرائی۔ اس نے ہیلی کاپٹر کے ڈرائیور سے کہا کہ اوپر چھت کا پنکھا بند کر دو کیونکہ پہلے ہی بہت سردی ہو رہی ہے۔

ایک مرتبہ بھری برسات میں درویش کے مشیروں نے کہا کہ ہمیشہ برسات میں شہباز شریف نکلا کرتا تھا۔ آپ بھی نکلیں اور لاہور کا حال دیکھیں۔ کسی جگہ کمی کوتاہی پائیں تو موقعے پر ہی احکام جاری کریں۔ رعایا کی مشکل بھی حل ہو گی اور آپ کی اچھی تصویریں بھی آ جائیں گی۔ درویش اپنی لینڈ کروزر میں باہر نکلا۔ واقعی گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا تھا۔ ایک جگہ اسے چند لڑکیاں ایسے ہی پانی میں بے بس کھڑی نظر آئیں تو اس نے انہیں خشک علاقے میں پہنچانے کی نیت سے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔ اگلے دن اخبارات میں بدطینت صحافیوں نے چھاپ دیا کہ وہ لڑکیاں تو پولیس کی اہلکار تھیں جو وزیراعلیٰ کے روٹ کی ڈیوٹی دے رہی تھیں۔

اتنے زیادہ واقعات ہیں کہ رات ختم ہو مگر واقعات ختم نہ ہوں۔ قلم بیان کرنے سے قاصر ہے۔

درویش نے کامل ساڑھے تین برس نہایت اطمینان سے حکومت کی۔ وہ آرام سے زندگی بسر کرتا۔ کہیں دورے اور سیر تفریح کے لیے چلا جاتا۔ اس آسانی کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ کاروبار مملکت چلانے کی ذمہ داری بھوکی پری نے سنبھال لی تھی۔ وہی افسروں سے ملتی، ان کے پھنسے کام نکلواتی اور جہاں قانونی مجبوری درپیش ہوتی تو درویش سے دستخط کروا لیتی۔ بتاتے ہیں کہ وہ نیکی یوں کرتی کہ ایک ہاتھ کو خبر نہ ہوتی کہ دوسرے نے کیا لیا دیا۔ یوں راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔

وقت سدا ایک سا کہاں رہتا ہے۔ ایک دن اچانک بھوکی پری اڑ کر کہیں دور چلی گئی۔ پھر حاسدوں نے آگ لگائی۔ درویش کی معصومیت اس کے خلاف چارج شیٹ بن گئی۔ جو کل تک تابعدار ماتحت اور اس کے پسینے کی جگہ خون چھڑکنے والے ساتھی تھے، روٹھ گئے۔ اور ایک دن کپتان نے بھی درویش سے استعفیٰ مانگ لیا۔ درویش کو بھلا مال دولت یا اقتدار کا لالچ کہاں تھا۔ اس نے فوراً ایک کورے کاغذ پر استعفیٰ لکھا، کپتان کے حوالے کیا اور پھر غائب ہو گیا۔ اللہ جانے اب وہ کہاں ہے، دریا کے کنارے کٹیا میں بیٹھا ہے یا بھوکی پری کے پاس دبئی کے صحرا میں جا کر چلہ کش ہوا ہے۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar